Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

(۳۲) چٹائی پر سوتے تھے

          محبوبِ عطّار رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ چٹائی پر سونے والے مَدَنی انعام پر عمل کرتے ہوئے سفر اور گھر میں حتَّی المقدورچٹائی پر سویا کرتے تھے ،وصال سے کچھ عرصہ قبل یہ اتنے کمزور ہوگئے تھے کہ ہڈّیاں نُمایاں ہوگئیں تھیں ،ان کی ریڑھ کی ہڈی میں بھی تکلیف رہنے لگی تھی ، ان کے بچّوں کی امّی ان سے اصرار کرتیں کہ گدیلے پر آرام کیجئے لیکن ان کی کوشش ہوتی تھی کہ زمین پر چٹائی بچھا کر آرام کریں۔’’مَدَنی چینل‘‘ کے ذمّے دارمحمد اسد عطاری مدنی سے گفتگو کرتے ہوئے خود حاجی زم زم رضا عطاری  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری نے کچھ یوں فرمایا تھا :اَلْحَمْدُللّٰہعَزَّوَجَلَّ! میری شادی کو تقریبا 17سال ہوگئے ہیں اور ہمارے گھر میں پلنگ شُروع میں تھا، پتا چلا کہ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اِسے اپنے لئے پسند نہیں فرماتے(چنانچہ انہوں نے بھی نکال دیا ) ، مَدَنی انعام ہے کہ بستر تہہ کرکے رکھیں مگرپلنگ کا مَوٹا گدا تہہ کر کے رکھنادشوار ہوتاہے ۔  ۱؎

          میرا چونکہ آپریشن ہواتھا اس لئے مجبوری میں فی الحال بیڈ کی ترکیب بنانی

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینہ

۱؎  :حضرت سیدناصفوان بن سلیم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرم فرماتے ہیں ، ’’ انسان کے سازو سامان اورملبوسات کو جنات استعمال کرتے ہیں۔لہٰذا تم میں سے جب کوئی شخص کپڑا ( پہننے  کے لئے ) اٹھائے یا ( اتار کر) رکھے تو’’ بِسْمِ اللہ ‘‘ پڑھ لیا کرے۔ اس کے لئے  اللہ تعالیٰ کا نام مُہر ہے۔‘‘(یعنی بِسْمِ اللہ  پڑھنے سے جنات ان کپڑوں کو استعمال نہیں کریں گے۔)   (لقط المرجان فی احکام الجان للسیوطی ص ۱۶۱)

 



Total Pages: 208

Go To