Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

محمد نعیم عطاری کا بیان کچھ یوں ہے کہ تقریباً18سال پہلے (غالباً1996 میں )میں نے ان کے ساتھ30دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کیا ۔ پہلے مرکزُ الاولیاء لاہور ،پھراسلام آباد اور پھر گِلگِت کا سفر ہوا۔  دورانِ سفر مَدَنی اِنْعامات کا ان میں بڑا جذبہ دیکھا ، آنکھوں کے قفلِ مدینہ کی ہمیں کافی ترغیب دیتے تھے اور باقاعِدہ اس کے لئے ہمیں مَشْق کرواتے تھے۔ بازارجانے سے پہلے فرماتے : ’’دیکھئے! بازار میں عُمُوماً بدنگاہی کا سامان ہوتاہے ،اس لئے پورے راستے اس طرح چلنا ہے کہ ہماری نگاہیں صِرْف ایک گز کے فاصلے پر ہوں۔‘‘  یقین مانئے! جب ہم بازار کا چکّر لگا کر آتے تھے تو نگاہیں جھکانے کی وجہ سے ہماری گردنوں میں درد ہو جاتا تھا۔ حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہِ الباری تسلّی دیتے کہ اس طرح مشق کرنے سے جب عادت پڑ جائے گی تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ دردنہیں ہوگااور بدنگاہی سے بچنے میں مدد ملے گی۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳۰) جامعۃ المدینہ کے طالب العلم کے تاثرات

          جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ زم زم نگر حیدر آباد کے طالب العلم محمد اختیار عطاری کا بیان کچھ یوں ہے کہ میری جب بھی مَدَنی انعامات کے تاجدار ،محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری  سے ملاقات ہوئی تو ان کی نگاہیں نیچی

 



Total Pages: 208

Go To