Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

حضرتِ علّامہ عبدُالرّؤف مَناوی علیہ رحمۃُ اللہ القویاس حدیثِ پاک کے تحت ’’فیضُ القدیر‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں : یعنی ان کے لئے تواضع کرنااور ان کو راضی رکھناجنّت میں داخلے کا سبب ہے ۔(فیضُ القدیر ۳/ ۴۷۷تحتَ الحدیث :  ۳۶۴۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !              صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸) والِدہ کی اطاعت کی

        مبلغِ دعوتِ اسلامی ابو رجب محمد آصف عطاری مدنی کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضاعطاریعلیہ رحمۃُ اللہ الباری کے وصال سے تقریباًسات آٹھ برس پہلے کی بات ہے کہ انہوں نے مَدَنی کاموں کے سلسلے میں باب المدینہ کراچی میں رہائش رکھنے کی ترکیب بنائی جس کے لئے مکان بھی دیکھ لیا گیا، لیکن ان کی والدہ نے انہیں حیدر آباد سے کراچی منتقل ہونے سے منع کردیا تواُنہوں نے والدہ کی اطاعت کی اور باب المدینہ کراچی میں رہائش اختیار نہیں کی ۔اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

ماں کے حقّ کی اَہَمِّیَّت

        ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی : یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدارکون ہے ؟ ارشاد فرمایا : تمہاری ماں ۔عرض کی :  پھرکون؟فرمایا :  تمہاری ماں ۔عرض کی : پھر کون؟فرمایا :  تمہاری ماں ۔ عرض کی : پھر کون؟ارشاد فرمایا :  تمہارے والد۔

(صحیح البخاری، کتاب الأدب، باب من أحق الناس بحسن الصحبۃ، ۴/ ۹۳، الحدیث : ۵۹۷۱)

         صَدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللہ القویفرماتے ہیں : یعنی احسان کرنے میں ماں کا مرتبہ باپ سے بھی تین دَرَجہ بلند ہے ۔

(بہارشریعت، ۳/ ۵۵۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹) مَدَنی ماحول سے کیسے وابَستہ ہوئے؟

        مَدَنی چینل کے سلسلے ’’کھلے آنکھ صلِّ علیٰ کہتے کہتے‘‘ میں حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے اپنے دعوتِ اسلامی سے وابَستہ ہونے کے بارے میں کچھ یوں بیان کیا تھا : بچپن سے ہی میری طبیعت میں شرارتی پن بہت تھا۔شعور آنے کے بعد سے یہ حال تھا کہ گلیوں میں نکل جاتے اور ڈھونڈتے رہتے کہ شرارت کا کوئی موقع ملے۔جیسے میری طبیعت تھی ویسے ہی دوست تھے ۔ رات کو جو لوگ سڑک پر چارپائی بچھاکر سوتے تھے ان کو اٹھاکر بیچ روڈ میں رکھ دیتے ۔ لوگوں کے گھروں کا دروازہ بجا کر چھپ جانا، ڈراؤنا ماسک پہن کرلوگوں کو ڈرانا۔شروع سے میری طبیعت خوش طبعی، مذا ق مسخری کرنے والی رہی ہے۔میرے دوست میرا انتِظار کرتے تھے کہ ابھی یہ آئیں گے تو سب کو ہنسائیں گے، ہنستے ہنستے کوئی یہاں گرے گا تو کوئی وہاں !ایک دوسرے پر ہُوٹِنگ کرنا، شرارتوں کی پلاننگ کرنا، مل کر ہوٹلوں پر کھانے کیلئے جانا اور پیسے ہونے کے باوُجودبھاگنے کی کوشش کرنا۔گویا ایک عجیب قسم کی دنیا میں زندگی گزر رہی تھی اور کچھ پتا ہی نہ چلتا تھا ، آنکھیں بالکل بند تھیں ۔نماز کا کوئی خاص اہتمام نہ تھا، کبھی کبھارپڑھ لی تو پڑھ لی ورنہ نہیں (اللہ  تَعَالٰی مُعاف فرمائے) ۔ ان سب چیزوں کے باوجود سنّی علماء کی تقریریں سننے کی سعادت ملتی تھی اور یہ ذِہن بنا ہوا تھا کہ مُرید بننا چاہیے، دل اس جستجو میں تھا کہ کوئی پیرِ کامل ملے تو اس کا مرید بنوں ۔اسی طرح میری زندگی کے بیس اکیس سال گزر گئے۔میں نے شیخِ طریقت امیر اہل سنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکا نام سن رکھا تھا۔ایک بار آپ حیدر آباد تشریف لائے تو مجھے کسی نے بتایاکہ ہم ملاقات کیلئے جارہے ہیں آپ بھی چلیں ، میں نے کہا :  چلو چل کر دیکھتے ہیں  ۔ اس وَقْت میں نے پینٹ شرٹ پہن رکھی تھی اور کلین شیو تھا۔ایک ذہن تھاکہ کوئی ایسی شخصیت ہوگی جس نے ہزاروں روپے کا عمامہ پہن رکھا ہوگا اور خوبصورت لباس ہوگا ۔جب میں وہاں پہنچا تو حیران رہ گیا کہ بالکل سادہ لباس میں ملبوس شخصیت موجود ہے۔میں ملاقات کیلئے قِطار میں لگ گیا، باری آنے پر ہاتھ ملاتے ہوئے جوں ہی نظر اٹھائی تو ایک مسکراتا ہو اچہرہ میرے سامنے تھا  ۔ نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ مجھ پرر قّت طاری ہوگئی۔مختصر ملاقات کے بعد میں الگ ہوگیا، غالباًیہ ۶رجب المرجب ۱۴۰۵ھ کی بات ہے۔پھر کسی نے مرید بننے کی ترغیب دلائی اور بیعت کا اعلان ہوا تو  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ    عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے  گناہوں سے توبہ کرکے  عطاری بننے کی سعادت حاصل ہوئی۔اسی وَقْت میں نے داڑھی کی نیت کرلی اورگاہے بگاہے اجتماعات میں شرکت کرنے لگا ۔ اس طرح مَدَنی ماحول سے وابستگی نصیب ہوئی لیکن افسوس!یہ زیادہ عرصے برقرار نہ رہ سکی کیونکہ میں نے اپنے پرانے دوستوں کی صحبت نہیں چھوڑی تھی۔بدقسمتی سے اسی دوران مجھے یہ شوق چڑھا کہ اب مجھے اداکاری کرنی ہے، گانے گانے ہیں ، لطیفے سنانے ہیں ۔میں مِزاحیہ اسٹیج ڈراموں کی کیسٹیں سنتا اور اپنی آواز میں ان کی نَقْل تیار کرتا۔کسی ٹی وی آرٹسٹ کا پتہ چلتا تو اس سے ملنے چلا جاتااو ر فرمائش کرتا کہ میرے لئے کوشش کرو کہ مجھے ٹی وی میں آنے کا موقع مل جائے۔اسی طرح ایک اسٹیج پروڈیوسر سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے میرا شوق دیکھا تو انہوں نے مجھے کام کرنے کی آفر کی۔یوں میں بدقسمتی سے اس طرف چلا گیا اور ایک عرصے تک اسٹیج ڈرامے اور فنکشنز وغیرہ کرتا رہا۔اسی طرح کم وبیش چار پانچ سال کا عرصہ گزر گیا ۔  

 غالباً 1989ء میں ، میں مرکزالاولیاء لاہور میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کیلئے حاضر ہوا۔ویسے توپہلی ملاقات کے بعد ہی میرے دل میں امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی محبت پیدا ہوگئی تھی۔ان پانچ سالوں کے دوران میں کبھی کبھی اجتماع میں جاتا تھا لیکن امیر اہل سنت کی بارگاہ میں بار بار جاتا رہتا اور چھپ چھپ کر زیارت کرتا رہتا۔جب میں مدنی ماحول سے دور ہوا تھا تو ایک عجیب کیفیت تھی اور بے بسی سی محسوس ہوتی تھی۔دل بہت چاہتا تھا کہ میں اس طرف چلا آؤں مگر دنیا کی رنگینی مجھے کھینچ کر رکھتی تھی۔ایک دفعہ ہم دوستوں نے رات بھر فلمیں دیکھیں ۔ جب میں باہر نکلا تو لوگ نمازِ فجر کیلئے جارہے تھے۔میرے پیر کی توجُّہ سے مجھے احساس ہوا کہ یہ میں کیا کر رہا ہوں ! بہرحال جب میں مرکز الاولیاء اجتماع میں حاضر ہوا توانفرادی کوشش کرنے والے ایک مبلغ نے امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے میری ملاقات اور تعارف کروایا کہ یہ جاوید بھائی ہیں ۔شاید پہلی ملاقات کے پانچ یا چھ سال بعدباقاعدہ طور پر یہ ملاقات ہوئی تھی لیکن آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا کہ یہ تو بہت پرانے ہیں ، ایکٹو (activeیعنی فَعّال) اب ہوئے ہیں ۔ اس وَقْت میں ہلکی ہلکی شیو بڑھا چکا تھا، آپ نے ترغیب دلاکر مجھے داڑھی کی نیت کروائی، اَلْحَمْدُ لِلّٰہاس طرح ایک ولی کامل کی



Total Pages: 51

Go To