Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

ماحول سے وابَستہ رکھیں اور مَدَنی کام کرتے رہیں ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۱۲۲)ڈاکوؤں سے حفاظت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نیکی کی دعوت کا جذبہ پانے، سنّتوں پرعمل کرنے ، نیکیوں کاثواب کمانے ، دل میں عشقِ رسول کی شمع جلانے کیلئے تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک، دعوتِ اسلامی  کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہئے، اپنے ایمان کی حفاظت کیلئے کڑھتے رہئے ، نَمازوں کی پابندی جاری رکھئے، سنّتوں پر عمل کرتے رہئے، مَدَنی اِنعامات کے مطابِق زندَگی گزاریئے اور اِس پر استِقامت پانے کیلئے ہر روز’’ فکرِ مدینہ‘‘ کر کے مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پُر کرتے رہئے اور ہر مَدَنی ماہ کی ابتِدائی دس تاریخ کے اندر اندر اپنے یہاں کے دعوتِ اسلامی کے ذِمّے دار کو جمع کروادیجئے اور اپنے اِس مَدَنی مقصد ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشِش کرنی ہے ‘‘ کے حُصول کی خاطرپابندی سے ہرماہ کم از کم تین دن کے سنّتوں کی تربیت کے مَدَنی قافِلے میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ سنّتوں بھرا سفر کیجئے ۔نیک بندوں سے لوگ مَحَبَّت کرتے ہیں یہاں تک کہ بسا اوقات ڈاکو بھی نیک بندوں کا احترام کرتے ہوئے انہیں لُوٹنے سے باز رہتے ہیں ، ایسی ہی ایک مَدَنی بہار ملاحظہ کیجئے : چنانچہ تاجدارِ مَدَنی انعامات مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکن شوریٰ حاجی ابو جنید زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریکا کچھ اِس طرح بیان ہے کہ ایک بار میں جیب میں کافی رقم لئے حیدرآباد( بابُ الاسلام سندھ پاکستان) سے بابُ المدینہ کراچی آنے کیلئے بس میں سُوار ہوا ۔ بس ابھی بمشکل آدھا گھنٹہ چلی ہو گی کہ اچانک مختلف نِشَستوں سے چار پانچ افراد ایک دم اسلحہ (اَس۔لَ۔حہ) تان کر

 کھڑے ہو گئے ۔ ان میں جو سب سے قد آور تھا اُس نے لپک کر ڈرائیور کو ایک زور دار طمانچہ جَڑ دیا اور اسے دھکیل کر ڈرائیونگ سیٹ پر قابض ہو گیا، بَس ایک کچّے راستے میں اُتار دی گئی، اب ڈاکوؤں نے چلتی بس میں ہرایک کی جامہ تلاشی لینی اورلوٹنا شُروع کر دیا۔بس میں شدیدخوف وہراس تھا، میں بھی ایکدم سہما ہوا تھا، میری اگلی نِشَست پر مضبوط قدوقامت کے نوجوان بیٹھے تھے اور مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ڈاکوؤں کے خلاف مُزاحَمَت کریں اور وہ گولی چلا دیں ۔بہرحال میں نے احتیاطاً تجدیدِ ایمان کرنے کے بعد آنکھیں بند کرلیں ، میرے برابر جو صاحِب بیٹھے ہوئے تھے ایک ڈاکو نے اُن کی تلاشی لی او ر جوہاتھ آیا چھین لیا مگر مجھے ہاتھ نہ لگایا، دوسرا ڈاکو آیا اُس نے بھی انہیں صاحِب کی تلاشی لی، مزید اُن کی کسی جیب سے 100روپے کا نوٹ برآمد ہوا وہ بھی لُوٹ لیا اور مجھے چَھیڑے بِغیر جانے لگا ، تیسرے ڈاکو نے میری طرف اشارہ کرکے آواز دی مولانا صاحِب کو مت لُوٹنایہ دیکھ کر میرے پیچھے بیٹھے ہوئے کسی پیسنجر نے موقع پا کر اپنی رقم کی گڈّی میری پیٹھ کی طرف کُرتے کے اندرسَرکا دی ، کسی خاتون نے پیچھے سے سونے کا لاکِٹ نیچے میرے پاؤں کی طرف پھینک دیا( اِس کا علم مجھے بعد میں ہوا)بہرحال ڈاکو لوٹ مار کرنے کے بعد بس سے اُترے اور فِرار ہوگئے ۔ اب بس کے لُٹے ہوئے پیسنجروں کی آواز نکلی ، شور وغل اور وَاویلاشُروع ہو گیا ، کسی نے میری طرف اشارہ کر کے چِلّا کر کہا :  اِس مولانا کو پکڑ لو یہ ڈاکوؤں کا آدمی معلوم ہوتا ہے کیوں کہ ہم سب کو لُوٹا اس کو نہیں لوٹا، میں ڈر گیا کہ اب گئے! یہ لوگ کہیں مجھے توڑ پھوڑ نہ ڈالیں ، یکایک غیبی مدد یوں آئی کہ انہیں مسافِروں میں سے کسی نے کچھ اس طرح کہا :  نہیں نہیں بھائیو! یہ شریف آدمی ہے ، اِ س کا لباس اورچِہرہ نہیں دیکھتے!بس اِس کی نیکی آڑے آ گئی اور بچ گیا، ہم لوگ گنہگار ہیں ، ہمیں گناہوں کی سزا ملی ہے ۔

       مرحوم حاجی زم زم کا مزید بیان ہے :  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ  پہلے ڈاکوؤں سے حفاظت ہوئی اور بعد میں لُٹے ہوئے مسافروں کی طرف سے آنے والی شامت دُور ہوئی  ۔ یہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بَرَکت کی ’’ مَدَنی بہار‘‘ ہے کہ میں داڑھی ، زلفوں اور عمامہ شریف کا تاج سجائے سنتوں بھرے لبا س میں ملبوس رہتا ہوں ورنہ مجھے بھی شاید بے دردی سے لوٹ لیا جاتا ۔ مَدَنی ماحول سے وابَستگی سے قبل میں فُل ماڈَرن رہتااور اسٹیج ڈراموں میں کام کیا کرتا تھا ۔ اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا کرم ہوا کہ مجھ گنہگار کو دعوتِ اسلامی نے توبہ کا راستہ دکھایا ، نَمازی بنایا، سنّتوں کا رنگ چڑھا یا، حُضُور غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے سلسلے میں مُرید بننے کا شَرَف دلایا، نیک بننے کے نُسخے یعنی مَدَنی اِنعامات کا عامِل اور اپنے پیر صاحِب کی طرف سے ملنے والے ’’ شجرہ ٔ قادِریہ رضویہ‘‘ کے کچھ نہ کچھ اَوراد پڑھنے والا بنایا جِس میں ایک وِرد یہ بھی ہے :

بِسْمِ اللہِ  عَلیٰ دِیْنِیْ  بِسْمِ اللہِ عَلٰی نَفْسِیْ وَوُلْدِ یْ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ یعنی اللہ تَعَالٰی کے نام کی بَرَکت سے میرے دین، جان ، اولاد اوراہل ومال کی حفاظت ہو۔(ترجمہ پڑھنا ضروری نہیں ، اوّل آخِر ایک بار درود شریف پڑھ لیجئے) فضیلت :  یہ دعا جو روزانہ صبح و شام تین تین بار پڑھ لے اُس کے دین ، ایمان ، جان ، مال ، بچّے سب محفوظ رہیں ۔( اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ)   اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ میں (یعنی حاجی زم زم رضا)روزانہ صبح و شام یہ وِرد پڑھتا ہوں ، میرا حُسنِ ظن ہے کہ ڈاکوؤں سے حفاظت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت سے اِسی وِرد کی بَرَکت سے ہوئی ہے ۔ جب دنیا میں اِس کا یہ ثَمَر( یعنی فائدہ) ہے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ مرتے وَقت ایمان بھی سلامت رہے گا ۔ میری تمام اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں سے مَدَنی التجا ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہیں اور مکتبۃُ المدینہ سے مَدَنی اِنعامات کا رسالہ حاصِل کر کے اُس کے مطابِق زندَگی گزارنے کی کوشِش کریں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں جہانوں میں بیڑاپار ہو گا۔

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آ پ نے ! دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی بھی کیا خوب مَدَنی بہاریں ہیں ! مذکورہ وِرْد کرنے کے اوقات یعنی ’’ صبح و شام‘‘ کی تعریف بھی سمجھ لیجئے، چُنانچِہ  مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ شجرۂ قادِریہ رضویہ صَفحہ 10پر ہے : آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کرن چمکنے تک ’’صُبح ‘‘ہے ۔ اس سارے وَقفے میں جو کچھ پڑھا جائے اُسے صُبح میں پڑھنا کہیں گے اوردوپَہَر ڈھلے (یعنی ابتِدائے وَقْتِ ظُہر ) سے لے کر غُرُوبِ آفتاب تک ’’شام ‘‘ہے  ۔ اِس پورے وَقفے میں جو کچھ پڑھا جائے اُسے شام میں پڑھنا کہیں گے ۔(نیکی کی دعوت، ص۲۹۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

اِیصال ثواب کی تفصیل

 



Total Pages: 51

Go To