Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

(۲۳) لکھ کر بات کرنے کی عادت

          خاموشی پر قائم رہنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کچھ نہ کچھ گفتگو اشاروں میں اور لکھ کر کی جائے اور یہ امیر ِاہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا عطا کردہ’’ مَدَنی انعام‘‘ بھی ہے ، محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری کا زبان کا قفل مدینہ بھی مدینہ مدینہ تھا،لکھ کربات کرنے کے لئے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ ’’قفلِ مدینہ پیڈ‘‘ان کی جیب میں ہوتا تھا ۔ لکھ کر بات کرنے کا ان کو بہت زیادہ جذبہ تھا ،آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ  رَمَضان المبارک (۱۴۳۳ھ)کے اوائل(یعنی شروعات کے دنوں ) سے ہی بِسترِ عَلالت پر آگئے تھے۔ آپ کے ’’قفل مدینہ پیڈ‘‘ پر ۲۳رَمَضانُ المبارک ۱۴۳۳ھ تک کی تاریخ موجود ہے ۔اس کے بعد بھی گاہے بگاہے لکھ کر گفتگو فرماتے رہے ، چنانچِہ حیدر آباد کے اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ ہم صُبْح کے وَقْت اِن کی خدمت میں حاضِر ہوئے تو کاغذ قلم طلب کیا اور اس پر لکھا کہ جس اسلامی بھائی نے مجھے خون دیا اُس کابَہُت بَہُت شکریہ ۔ (خون کی اُلٹیوں وغیرہ کی وجہ سے شرعی اجازت کے تحت آپ کو بار بار خون چڑھایا گیا اور اسلامی بھائیوں نے اس میں کافی تعاوُن کیا تھا)اسی طرح اَسپتال کے عملے کا بیان ہے کہ’’ ہمیں بھی کوئی بات کہنی ہوتی تولکھ کر فرماتے حالانکہ شدید نَقاہَت (یعنی کمزوری)کے باعث لکھنا بے حد دشوار ہوتا۔‘‘ زندگی کے آخِری ایام میں بسترِ علالت پر لکھی گئی ایسی ہی ایک تحریر کا عکس ملاحظہ کیجئے :(جس کے الفاظ مکمل سمجھ نہیں آسکے)

 



Total Pages: 208

Go To