Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

پاس فلاں چیز ہے ذرا مجھے دے دو، میں اپنے بچے کو دوں گا‘‘ہاں کبھی کچھ پیش کیا تو انکار بھی نہیں فرماتے تھے خوشی خوشی قبول فرمالیتے تھے لیکن سوال کی عادت نہیں تھی خود داری بہت تھی۔میں نے کبھی اپنی زندَگی میں ان کو قہقہہ مار کر ہنستے نہیں دیکھا، قہقہہ نہ لگانا سنَّت ہے ، اِس سنت پر یہ سختی سے عامِل تھے ، اِسی طرح میں نے کبھی ان کو مذاق مسخری کرتے نہیں دیکھا اوریہ بھی نہیں دیکھا کہ کسی پر چیخے ہوں یا کسی کو جھاڑا ہو۔

٭  اپنی تکلیفوں کا زیادہ تذکِرہ نہیں کرتے تھے، بے چارے بیماریوں سے بَہُت پریشان ہوگئے تھے تو مجھے کچھ بتاتے تھے جیسے باپ کو بچّے بتاتے ہیں اور مجھے بتانے کا مقصدعام طورپردعاکروانا ہوتا تھا ۔ اسپتال سے بھی دعاؤں کے لیے ان کے S.M.S آتے رہتے تھے ، جب تک ان میں طاقت رہی دعاؤں کے لیے مجھے پیغامات بھیجتے رہتے تھے۔

٭  سیکیورٹی اور حفاظتی امور کے معاملات ایک دم سخت ہوجانے کے بعد میں کسی مریض کو اتنا دیکھنے نہیں گیا ہوں گا جتنا ان کو دیکھنے گیا ، میں کتنی بار اسپتال پہنچا ان کو دیکھنے کے لیے مجھے گنتی بھی اب یادنہیں رہی ، مجھے یاد آتے تھے اورمیں جا جا کر دیکھتا تھااور فون پربھی کئی بار میری گفتگو ان سے ہوجاتی تھی ۔

٭ بہرحال ہمارے حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری بہت خوبیوں کے مالک تھے اور ایمان داری کی بات ہے کہ بڑی یادیں انہوں نے چھوڑی ہیں ، مَدَنی انعامات کے تعلّق سے حاجی زمزم کا مجھ پر بَہُت بڑا احسان ہے،  بَہُت بڑا احسان ہے، بَہُت ہی بڑا احسان ہے کہ مَدَنی انعامات اتنے کامیاب نہیں ہورہے تھے کیونکہ اس میں عمل کرنے کی بات ہے ، پہلے مرکزی مجلس شوریٰ اور دیگر ترکیبیں نہیں تھیں بس میں اکیلا ہی عموماً مدنی انعامات کے لئے کوشش کرتا تھا اور ذمّے داران کی طرف سے کوئی خاص حوصلہ افزائی نہیں ہوتی تھی، حاجی زمزم نے میرا بہت حوصلہ بڑھایا کہ یہ مَدَنی انعامات بہت اچھے ہیں ، ان میں بڑا فائدہ ہے ، آپ ہمت رکھئے  ۔ (دراصل شُروع میں یہ’’سُوالات‘‘کہلاتے تھے، حاجی زم زم نے ہی ان کا نام ’’مدنی انعامات‘‘ رکھا!)

٭  حاجی زمزم نے جب’’سوالات‘‘ کانام مَدَنی انعامات رکھا، مَدَنی انعامات عام کرنے کی کوششیں کیں تو یہ دنیا میں کہاں سے کہاں نکل گئے!اور آج  اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! تنظیمی طور پر مَدَنی انعامات ہمارے مَدَنی کاموں کا بَہُت اہم حصّہ بن چکے ہیں ۔مَدَنی انعامات میرے نفس کے لیے نہیں ہیں ، میں نیک نہیں بن سکا اِس کامجھے ضَرور اعتِراف ہے لیکن مجھے نیکیاں بَہُت پسند ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ ہم سب نیک بن جائیں ۔ حقیقت میں مَدَنی انعامات دعوتِ اسلامی کی روح ہیں ، تو اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! اس روح کو دعوتِ اسلامی والوں کے اندراُتارنے میں ہمارے حاجی زم زم علیہ رحمۃُ اللہ الاکرم کا بہت بڑا کردار ہے۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

شہزادۂ عطّار کے تأَثُّرات

شہزادۂ عطّار حضرت مولانا حاجی ابواُسَیدعُبیدرضاعطّاری مَدَنیمدظلہ العالی سے محبوبِ عطار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکو بڑی محبَّت تھی ، بَقَولِ امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ : حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کی وفات کا خاندان کے افرادکے بعدجس کو سب سے زیادہ صدمہ پہنچا ہوگا وہ شایدغلامزادہ حاجی عُبیدرضا ہوں گے۔حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے وِصال کے بعد مَدَنی چینل پر ہونے والے خُصُوصی مَدَنی مکالَمے میں بذریعۂ فون شہزادۂ عطّار نے جو کچھ فرمایا وہ بِالتَّصرف عرض ہے :

٭اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! دعوتِ اسلامی اب محتاجِ تعارُف نہیں رہی، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے دعوتِ اسلامی کے باغ کی خوب خوب آبیاری کی ، اس کی دیکھ بھال کے لیے مرکزی مجلسِ شوریٰ کی ترکیب کی اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! اس کے لئے چُن چُن کر باغبان رکھے، مرکزی مجلس شوریٰ کا ہرہر رکن اپنی جگہ ایک اَنمول ہیرا ہے ، انہیں میں حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری بھی تھے ، ان کی تو بات ہی کچھ اورتھی۔

٭محبوبِ عطاررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِامیراہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے پیش کردہ   مَدَنی انعامات پرعامل تھے ، زَبان وآنکھ کے قفلِ مدینہ والے تھے ۔

٭ امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خواہِش تھی کہ میرے اسلامی بھائی مَدَنی  انعامات والے ہوں ، تو حاجی زم زم رضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِان مَدَنی انعامات کو لے کر چلے اور ان کی خواہِش تھی کہ اسلامی بھائی مَدَنی انعامات پر عمل کریں ، زَبان کا آنکھ کا قفلِ مدینہ لگائیں ۔

٭غم خواری کاتوبتانے کی ضَرورت نہیں کہ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری  دکھیاروں کے کس قدر غم خوار تھے اور کس طرح اسلامی بھائیوں سے رابِطہ کر کے ان کی دلجوئی فرماتے تھے ، بعض اوقات یہ مجھے بھی smsکرتے تھے کہ ان کایہ یہ مُعامَلہ ہے آپ ذرا ان سے سلام دعا کرلیں ۔ میرے موبائل میں اس طرح کا smsمحفوظ ہے کہ ’’آپ حاجی زمزم سے رابِطہ فرمالیں ، یہ ان کا نمبر ہے۔‘‘جب کوئی پیچیدہ مسئلہ آتاتو میں ان کی طرف ریفر (Refer)کرتا تھا ۔ بعد میں ہماری مشاوَرت ہوجاتی تھی۔

٭ سفر میں ہمارا کافی ساتھ رہا ہے، 98 19ء میں ہندکے سفر میں ہم ساتھ رہے تھے، اسی سال انہوں نے مدینۃ الاولیاء احمد آباد شریف میں اعتِکاف بھی کیا تھا ۔ اسی طرح فیضانِ مدینہ سردار آباد (فیصل آباد)کے افتِتاح کے موقع پر میری حاضر ی ہوئی وہاں پرمیری چند دن رُکنے کی ترکیب بنی تو میں نے باپا سے عرض کی :  اگر مجھے حاجی زمزم  مل جائیں تو آسانی ہوجائے گی ۔تو باپا نے حاجی زمزم علیہ رحمۃُ اللہ الاکرم کے رُکنے کی بھی ترکیب فرمائی اور اس طرح پنجاب میں میرا رکنا ہوا۔

٭اسکے علاوہ بھی ہماراکافی ساتھ رہا ہے رَمَضان المبارک میں ، معتکفین سے ملاقات کے جَدْوَل میں ، اِسی طرح جب سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت ہوتی اُس وَقْت بھی یہ میرے ساتھ ہوتے تھے، ان کی وجہ سے مجھے کافی آسانی ہوگئی تھی، بعض اوقات یہ مجھے smsکرتے تھے کہ آپ ذمّے داران کو یہsmsکردیں تو اِس کی اہمیت بڑھ جائے گی، پھر میں بعض ذمہ داران کواپنے نمبر سے فاروڈ کرتا تھا ۔ یہ اپنا نام نہیں فقط مدنی کام چاہتے تھے کہ بس جس طرح میرے مرشد چاہتے ہیں اس طرح کام ہونا چاہیے۔اللہ   تَعَالٰی حاجی زمزم کی مغفِرت فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 



Total Pages: 51

Go To