Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

سے نوازا۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

ایّامِ مُبَلّغینِ دعوتِ اسلامی منانے کا عَزْم

        تیجے کے اجتماعِ پاک میں شیخِ طریقت امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ، اراکین شوریٰ ودیگر ذمّے داران کی طرف سے بزرگانِ دین کے ایام کے ساتھ ساتھ تینوں مرحومین کے ایّام منانے کا بھی عزم کیا گیا کہ اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ    29شَعْبَانُ الْمُعَظَّم کو’’ یومِ مشتاق‘‘، 18مُحَرَّمُ الْحَرَام کو ’’یومِ مفتیٔ دعوتِ اسلامی ‘‘ اور 21ذُوالْقَعْدَہ کو ’’یومِ زم زم‘‘ منایا جائے گا ،

  اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

المدینہ لائبریریوں کاقِیام

        تیجے کے بیان میں محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے اِیصالِ ثواب کے لئے ’’المدینہ لائبریری‘‘کے نام سے بے شمار لائبریریاں قائم کرنے کی بھی ترغیب دی گئی اور یہ بھی وضاحت کی گئی کہ اس کاانتِظام وانصِرام عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی میں موجود’’ مجلس المدینہ لائبریری‘‘ کرے گی ، اس لئے جو اسلامی بھائی المدینہ لائبریری قائم کرنا چاہتے ہیں ، وہ عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سے رابِطہ کریں ، اپنے طور پر کسی کو دنیا میں کہیں بھی یہ لائبریری قائم کرنے کی مَدَنی مرکز کی طرف سے اجازت نہیں ۔جو اسلامی بھائی المدینہ لائبریری کے لئے عَطِیّات جمع کروانا چاہتے ہوں ، وہ اس اکاؤنٹ نمبر میں جمع کروا سکتے ہیں :

اکاؤنٹ ٹا ئٹل : دعوتِ اسلامی (المدینہ لائبریری) اکاؤنٹ نمبر :  089101012077

بینک کانام :   UBL Ameen  برانچ :  ایم اے جناح روڈ ، کراچی  سوفٹ کوڈ : UNILPKKA

نوٹ : اِس اکاؤنٹ نمبرمیں لائبریری کے لئے زکوۃ فِطرہ نہیں صرف نفلی عطیّات جمع کروائیے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۱۸)اِیصالِ ثواب کے لئے مَدَنی قافلوں میں سفر

        حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے تیجے میں بیان کرتے ہوئے شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جب حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے اِیصالِ ثواب کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں تین دن کے سنتوں بھرے سفر کی ترغیب دلائی تو ہاتھوں ہاتھ سینکڑوں اسلامی بھائیوں نے مَدَنی قافِلوں میں سفر کیا، جن میں کثیراسلامی بھائیوں نے صحرائے مدینہ باب المدینہ کراچی کی طرف سفر کیا ، اور تین دن حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے مزار کے اطراف میں نیکی کی دعوت عام کرنے کاخوب خوب سلسلہ رہا جس میں دیگر سینکڑوں اسلامی بھائی بھی شریک ہوئے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۱۹)عبرت انگیز بات

        حاجی زم زم کے بچّوں کی امّی کا بیان ہے کہ چند ماہ سے حیدرآباد(ہیر آباد کالی مَوری)میں ہم اپنا مکان بنا رہے تھے ، مرحوم نے بَہُت دلچسپی سے اس کا تعمیری کام کروایا تھا ، ابھی ہم نئے گھر میں مُنتقِل ہوئے ہی تھے اور انہوں نے وہاں ایک ہی دن کا کھانا کھایا تھا ، کہ بابُ المدینہ چلے گئے اور پھر وَہیں سے دارِ آخِرت کی طرف کوچ کر گئے۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

شیخِ طریقت امیراہلسنّت کے تَأَثُّرات

         شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوبِ عطّار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہکے تیجے کے موقع پر بیان کرتے ہوئے ان کے بارے میں اپنی مَحَبَّتوں کا خوب اظہار فرمایا، اس کے چند اِقتِباسات مُلاحَظہ کیجئے : (حسبِ ضَرورت ترمیم کی گئی ہے)

٭ حاجی زمزم رضا عطاری نے میرے ساتھ بہت وَقْت گزارا ، میں نے ان میں بہت خوبیاں پائی ہیں اور صحیح بات ہے کہ میں ان کی صُحبت پسند کرتا تھا اور ان کے سبب اپنے اندر بہتریاں مَحْسوس کرتا اوراپنے لئے اِصلاح کا سامان کرتا، سچی بات ہے نیکوں کی خوب برکتیں ہوتی ہیں ۔

٭ حاجی زمزم رضا مجھ سے بڑی مَحَبَّت کرتے تھے، میں بھی ان سے  مَحَبَّت کرتا تھا، مجھے تواِتنا چاہتے تھے کہ ان کو حیدر آباد میں چَین نہیں پڑتا تھا، عام طور پر بھاگ بھاگ کر آجاتے تھے اور بارہا ایسا ہوتا جب یہ جانے لگتے تھے تو افسُردہ ہوتے اوراکثرپیڈکے ایک دو صفحے لکھ کر مجھے پڑھا دیتے تھے اور اس میں کچھ اِس طرح کے تأَثرات ہوتے تھے کہ ’’آپ کے یہاں کی دنیا کچھ اور ہے، اور اب میں جہاں جاؤں گا وہ دنیا کچھ اور ہے۔آہ! اب ہر طرف بدنگاہی کا سامان ہوگا ، گناہوں بھری گفتگو کا سلسلہ ہوگا ‘‘، اور بے چارے حاجی زم زم بولتے تھے کہ ’’باہر بہت آزمائش ہے ، بہت آزمائش ہے‘‘، یہ ان کا ذہن تھا  ۔

٭  برسوں سے میرے پاس ان کا آنا جانا تھا اور کئی کئی دن یہ میرے پاس تشریف فرما رہتے تھے لیکن ان کا اپنا اندا ز تھا، کبھی سوال کرتے نہیں دیکھا کہ ’’یہ دے دو وہ ذرا مجھے کھلا دو، وہ جو آپ کے



Total Pages: 51

Go To