Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

(جو انہی دنوں پہلی بارچَھپ کرآئی تھی)سے کچھ صَفْحات کا مطالَعَہ کیا ،پھر افسُردہ ہوکراپنے بچوں کی امی سے فرمانے لگے: ’’مزید پڑھنے کی مجھ میں ہمّت نہیں ہے ۔‘‘

          حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباریکے وصال کے بعد جب اس بات کا علم المدینۃ العلمیۃ کے اُس مَدَنی اسلامی بھائی کو ہوا جنہوں نے یہ کتاب لکھی تھی تو انہوں نے اس کتاب کی تألیف کا ثواب محبوبِ عطّار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغفّار کو اِیصال کردیا۔ اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۰) شدید بیماری میں بھی رسالے کا بغورمطالعہ کیا

          جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ زم زم نگر حیدر آباد کے دورۂ حدیث کے طالب العلم محمد رضا عطاری جو علاقائی سطح پر مَدَنی انعامات کے ذمہ دار بھی ہیں ، ان کے بیان کا لُبِّ لباب ہے کہ ذوالقعدہ ۱۴۳۳ھ میں  اپنے وصال سے کچھ دن پہلے مَدَنی انعامات کے تاجدار ،محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری باب المدینہ کراچی کے اسپتال سے چھٹی ملنے پر اپنے گھر حیدر آباد تشریف لائے تو میں اپنے والدِ محترم رُکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری مدظلہ العالی کے ہمراہ عیادت کے لئے حاضر ہوا ۔اس وقت حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور شدید علالت اور نقاہت کے عالَم میں تھے ۔ میں آپ کے سرہانے کی طرف

 



Total Pages: 208

Go To