Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

اچھے خواب بیان کرنے کی اجازت

        اچّھے خواب اچّھے ہی ہوتے ہیں ان کو بیان کرنے کی شَرْعاً اجازت ہے، چُنانچِہ فرمانِ مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہے : جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے پیارا معلوم ہو تو چاہیے کہ اس پر اللہ تعالٰی کی حَمْد بجالائے اور لوگوں کے سامنے بیان کرے۔(مُسندِ امام احمد ، ۲/  ۵۰۲ الحدیث ۶۲۲۳ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

خواب بیان کرنے میں کیا نیّت ہونی چاہئے؟

        صحیح بخاری شریف کی سب سے پہلی حدیث ہے :  اِنَّمَا الْاَعْمالُ بِالنِّیَّاتیعنی اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے۔لہٰذا اگر کوئی حُبِّ جاہ کے باعث لوگوں کو اپنا خواب سُناتا، اپنی شہرت اور واہ واہ چاہتا ہے تو واقِعی مُجرِم ہے اور اگر اچّھی نیّت سے سُناتا ہے، مَثَلاً دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے متعلق کوئی ایمان افروز بِشارت ملی ، سنّتوں کی تربیت کے مَدَنی قافِلے میں سفر کے دوران کسی خوش نصیب نے اچھا خواب دیکھااب وہ اس لئے سنا رہا ہے کہ اِس پُر فِتن دور میں لوگوں کو راہِ خدا  عَزَّ وَجَلَّ  میں سفر کی ترغیب ملے اور انہیں اطمینان کی دولت نصیب ہو کہ دعوتِ اسلامی  اَہلِ حق اور عاشِقانِ رسول کی سنتوں بھری مَدَنی تحریک ہے اور اس پراللہ و رَسُول عَزَّ وَجَلَّ  وصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا خاص فضل و کرم ہے تو یوں وہ تبلیغِ قران وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تَحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوکر اپنے ایمان کی حفاظت کا سامان کریں ، یہ نیّت مَحمود ہے اور اس نیّت سے خواب سنانے والے کو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ  ثواب ملیگا ۔ نیز تَحْدِیثِ نعمت یعنی نعمت کا چرچا کرنے کی نیّت سے سناتا ہے تب بھی جائز ہے ۔ ہاں اگر رِیاکاری کا خوف ہوتو اپنا نام ظاہر نہ کرے کہ اس میں زیادہ عافیت ہے ۔ بَہَرحال دل کی نیّت کا حالاللہ ذُوالْجَلال  عَزَّ وَجَلَّ جانتا ہے ۔ مسلمان کے بارے میں بِلاوجہ بدگُمانی کرنا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے، لہٰذا عرض ہے کہ کسی خواب بیان کرنے والے مسلمان پر خوامخواہ بد گُمانی نہ کی جائے ۔ بدگُمانی کی قرآن پاک اور احادیثِ مبارَکہ میں مذّمت وارِد ہوئی ہے ۔ پارہ 26  سور ۂ  حُجُراتکی بارہویں آیت میں ارشادِ ربِّ کائنات   عَزَّ وَجَلَّ ہے،

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (پ۲۶ ، الحُجُرات :  ۱۲)

ترجمۂ کنز الایمان :  اے ایما ن والو!بَہُت گُمانوں سے بچو بیشک کوئی گُمان گناہ ہو جاتا ہے۔

        نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسولِ اکرم، شہنشاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  ’’بدگُمانی سے بچو بے شک بدگُمانی بدترین جھوٹ ہے ۔‘‘

(صحیح البخاری ، کتاب النکاح، باب مایخطب علی خطبۃ اخیہ، الحدیث۵۱۴۳، ج۳، ص۴۴۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

جھوٹا خواب بیان کرنے والے کا انجام

        بِالفرض کوئی جھوٹا خواب گڑھ کر سناتا بھی ہے تواِس کا وہ خود ہی ذمّہ دار، سخت گنہگار اور عذابِ نار کا حقدارہے ،  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے مَحْبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عبرت نشان ہے، ’’جو جھوٹا خواب بیان کرے اُسے بَروزِ قِیامت جَو کے دو دانوں میں گانٹھ لگانے کی تکلیف دی جائیگی اور وہ ہر گز گانٹھ نہیں لگاپائے گا۔‘‘

(صحیح بخاری، ۴/ ۴۲۲ حدیث ۷۰۴۲)

 البتہ خواب سنانے والے سے قَسم کا مطالبہ شرعاً واجِب نہیں اور جو مَعَاذَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   جھوٹا ہوگا، ہو سکتا ہے وہ جھوٹی قسم بھی کھالے۔

خواب کی چار قسمیں

        میرے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہلسنّت،  ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شمعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین  ومِلَّت، حامیِٔ سنّت ، ماحِیِٔ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ، پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، حضرتِ علّامہ مولیٰنا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن  فتاوٰی رضویہ جلد29صَفْحَہ87 پرفرماتے ہیں : خواب چار قسم ہے : ایک حدیثِ نفس کہ دن میں جو خیالات قلب(یعنی دل) پر غالب رہے جب سویا اور اس طرف سے حواس معطل ہوئے عالَمِ مثال بقدرِاستعداد منکشف ہوا انہیں تخیلات کی شکلیں سامنے آئیں یہ خواب مہمل و بے معنی ہے اور اس میں داخل ہے وہ جو کسی خَلَط کے غلبہ اس کے مناسبات نظر آتے ہیں مثلاً صَفراوی آگ دیکھے بَلغمی پانی۔دوسرا خواب القائے شیطان ہے اور وہ اکثر وحشتناک ہوتا ہے شیطان آدمی کو ڈراتا یا خواب میں اس کے ساتھ کھیلتا ہے اس کو فرمایا کہ کسی سے ذِکر نہ کرو کہ تمہیں ضرر نہ دے ۔ ایسا خواب دیکھے تو بائیں طرف تین بار تھوک دے اور اعوذ پڑھے اور بہتر یہ ہے کہ وضو کرکے دو رکعت نفل پڑھے۔تیسرا خواب القائے فرشتہ ہوتا ہے اس سے گزشتہ و موجودہ و آئندہ غیب ظاہر ہوتے ہیں مگر اکثر پردۂ تاویلِ قریب یا بعید میں ولہٰذا محتاجِ تعبیر ہوتا ہے۔چوتھا خواب کہ ربّ العزّت بلاواسطہ اِلقاء فرمائے وہ صاف صریح ہوتا ہے اور احتیاجِ تعبیر سے بری ، وَاللہ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۱۷)مزار شریف بنانے کا اعلان

        حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے تیجے میں بیان کرتے ہوئے امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے جب اس خواہِش کا اظہار کیا کہ حاجی مشتاق عطاری، مفتی فاروق عطاری مَدَنی اور حاجی زم زم رضاعطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہم کی قبروں پر مزار شریف کی عمارت تعمیر کردینی چاہئے کہ بزرگانِ دین کی قُبور پرایسا کرنااہلسنّت کا معمول بھی ہے اور زائرین کے لئے سَہولت کا سامان بھی ، لیکن دعوتِ اسلامی کے چندے سے یہ کام نہ کیا جائے بلکہ اس کے لئے الگ سے رقم جمع کی جائے یہ بیان مدنی چینل پربراہِ راست(LIVE)ٹیلی کاسٹ ہورہا تھا، عَرَب امارت کے ایک اسلامی بھائی نے مدنی چینل پرسن کر ہاتھوں ہاتھ نگرانِ شوریٰ کوS.M.S کیا کہ مزار شریف بنانے کا سارا خرچہ میں اُٹھاؤں گا ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے خوش ہوکر انہیں خوب دعاؤں



Total Pages: 51

Go To