Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

وفات دو سے تین بار اس حالت میں خواب کے اندر دیکھا کہ داڑھی مبارک کے اکثر بال کالے ہیں اور کہیں کہیں ہلکی ہلکی لال مہندی لگی ہے، انہوں نے سفید لباس زیبِ تن کیا ہوا ہے اور سبز سبز عمامے کا تاج سر پر سجا رکھا ہے اور فرما رہے ہیں : ’’ آپ پریشان نہ ہوں میں بَہُت خوش ہوں ۔‘‘  ؎

  واسِطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مرے

                             یوں نہ فرمائیں ترے شاہِد کہ وہ فاجِر گیا  (حدائقِ بخشش شریف، ص۵۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۱۴)میں نَمازِ عصْر پڑھنے لگا ہوں

        ایک اسلامی بہن کا بیان کچھ یوں ہے کہ محبوبِ عطّارعلیہ رحمۃُاللہ الغفّار کی موت پر رشک آتا ہے، کاش! ایسی موت مجھے بھی آئے ۔ مَدَنی چینل پر ان کی تدفین کے مناظر دیکھنے کے بعد میں ان کی سعادتوں پر رشک کرتے کرتے سو گئی ، خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ حاجی زم زم رضا عطّاری سبز سبز عمامہ سجائے بیٹھے ہیں  ۔ میں بڑی حیران ہوئی کہ یہ تو انتقال فرما چکے ہیں ، اس طرح کیوں بیٹھے ہوئے ہیں تو فرمانے لگے :  ’’میں عَصْر کی نماز پڑھنے لگا ہوں ۔‘‘

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۱۵)قبْر میں تِلاوتِ قرآن کررہے ہیں

        راولپنڈی (پنجاب پاکستان) کی ایک اسلامی بہن کا بیان کچھ یوں ہے کہ مجھے (تیجے کے) اجتماع کے دوران کچھ اُونگھ آگئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ حاجی زمزم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری اپنی قبر شریف میں تلاوتِ قرآن فرمارہے ہیں ۔

 اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۱۶)حاجی زم زم کوروضہ اطہر کے قریب دیکھا

        جامعۃ المدینہ (سکّھر، باب الاسلام سندھ پاکستان) کے مُدرِّس محمد نوید  عطاری مدنی کے بیان کالُبِّ لُباب ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری  کے وصال کے بعد ۲۷ذوالقعدہ ۱۴۳۳ ھ بمطابق 15اکتوبر 2012ء بروزپیر نَمازِ فَجْرسے کچھ دیر پہلے میں نے خواب میں خود کو جامعۃ المدینہ (سکّھرپاکستان) کے ایک طالِبِ علم کے ساتھ سرکارِ رسالت مآب علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روضہ ٔ مبارکہ کے سامنے پایا ۔میں نے دیکھا کہ روضۂ مبارکہ کی جالیاں کُھلی ہوئی ہیں ، میں ایک راستے سے اندرجانا چاہتاہوں مگرجا نہیں پا رہا ۔دوتین بارایسا ہوا پھرمجھے دعوتِ اسلامی کی مجلس شوریٰ کے مرحوم رکن حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری مزارِپاک کی پچھلی طرف نظرآئے اور انہوں نے مجھے اشارہ کرکے اندر بلایا  ۔ میں مذکورہ طالب علم کے ساتھ اندر حاضِر ہوا ، دونوں ہاتھ ادب سے باندھ لئے، میری آنکھوں سے اشک جاری تھے کہ آج کس عظیم المرتبت آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ اسکے بعد حاجی زم زم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے مجھے مزارمبارک کے بالکل قریب بٹھادیا ۔ مجھے خواب ہی خواب میں یوں محسوس ہورہاتھا کہ گویا حاجی زم زم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمزارِ مبارک پر خادِم کی حیثیت سے موجودہیں ۔

یِہی آرزو ہوجو سرخرو ملے دوجہان کی آبرو

میں کہوں :  غلام ہوں آپ کا، وہ کہیں کہ ہم کو قَبول ہے

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

نیک خواب بِشَارَتیں ہیں

             سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ  بَرَکت نشان ہے : ’’نُبُوَّت گئی، اب میرے بعدنُبُوَّت نہ ہوگی مگر بِشارَتیں ۔‘‘ عرض کی گئی : ’’ وہ کیا ہیں ؟‘‘ فرمایا : ’’اچھے خواب  کہ نیک آدمی خود دیکھے یااُس کیلئے دیکھا جائے(یعنی دوسرا شخص اس کے متعلق خواب دیکھے)۔‘‘(الموطّا لامام مالک ، ۲/  ۴۴۰، الحدیث ۱۸۳۳ملتقطاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

مَدَنی اِہتمام

        اِمامِ اَہلسُنّت ، مُجَدِّدِ دین و مِلَّت، شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیہِ رَحْمَۃُ الرَّحمن اپنے رسالے ’’صَفَائِحُ اللُّجَیْن فِی کَوْنِ التَّصَافُحِ بِکَفَّیِ الْیَدَیْن‘‘میں لوگوں کے آگے خواب بیان کرنے کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں : اَحادیثِ صَحِیْحَہ سے ثابِت کہ حضورِ اقدس سیِّدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اِسے(یعنی خواب کو) اَمْرِ عظیم جانتے اور اِس کے سُننے ، پُوچھنے ، بتانے، بیان فرمانے میں نہایت دَرَجے کا اِہْتِمام فرماتے ۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرتِ سَمرہ بن جُنْدَب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :  حُضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نَمازِ صُبْح پڑھ کر حاضِرین سے دریافْتْ فرماتے :  ’’آج کی شب کسی نے کوئی خواب دیکھا؟‘‘جس (کسی) نے دیکھا ہوتا عرض کردیتا، حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تعبیر فرماتے۔(صحیح بخاری ، ۱ /  ۴۶۷ الحدیث ۱۳۸۶ملتقطاً و فتاویٰٰ رضویہ ج۲۲، ص۲۷۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

 



Total Pages: 51

Go To