Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

کچھ بھی عرض نہ کیا جا سکا، سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تشریف لے جانے لگے اور  حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری اپنے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے پیچھے پیچھے روانہ ہو گئے۔اسی خواب کے دوسرے منظرمیں حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری پھر مجھے دکھائی دئیے مگر اس مرتبہ وہ اکیلے تھے ، خوشی بھرے اندازمیں فرمانے لگے :  ’’مبارَک ہو کہ رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سب سے پہلے زم زم سے ملاقات فرمائی ۔‘‘حاجی عبید رضا مَدَنی سَلَّمَہُ الْغَنِی نے مرحوم حاجی زم زم رضا کی عَلالت (یعنی بیماری)کے دوران یہ خواب بیان نہ کرنے کی حکمت یہ بیان کی (خواب حجُّت تو ہوتا نہیں مگر) کہیں ایسا نہ ہو کہ خواب سُن کر اسلامی بھائی علاج کے تعلُّق سے غفلت میں پڑ جائیں  ۔ غلامزادے کا اِصرار تھا کہ یہ خواب میرے نام سے بیان نہ کیا جائے ۔میں نے کہا کہ یہ بات آپ میری اورنگرانِ شوریٰ کی صوابدید پر چھوڑ دیجئے اِس پروہ خاموش ہو گئے  ۔ نگرانِ شوریٰ ان کا نام ظاہِر کرنے پر مُصِر تھے لہٰذا اظہار کر دیا گیا۔

(۱۱۰)میِّت کی اُلٹی آنکھ کُچھ کُچھ کُھل گئی!

        امیراہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مزید کچھ یوں فرماتے ہیں کہ مرحوم حاجی زم زم رضا کے غسل کی تیاری کی جارہی تھی، میں بھی حاضِر ہو گیا ، میں مرحوم کے چِہرے کو بغور دیکھ رہا تھا، اتنے میں بائیں آنکھ میں معمولی سی حَرَکت محسوس ہوئی ، میں چہرے کی طرف جُھک گیا تواُن کی آنکھ کا کچھ حصّہ کُھل چکا تھا اور آنسو چمک رہے تھے ، میں بدستور کھڑا ہو گیا توآنکھ بند ہو گئی، میری بائیں طرف نگرانِ شوریٰ حاجی عمران سَلَّمَہُ الرَّحْمٰن کھڑے تھے، اُن سے تذکِرہ کیا تو وہ بھی یہ منظر دیکھ چکے تھے، میرے دائِیں طرف دارُالافتااہلسنّت کے مُصدِّق مفتی فضیل صاحب مدظلہ العالی کھڑے تھے، اُن کی توجُّہ دلائی تو وہ بھی متوَّجِہ ہوئے ، نگرانِ شوریٰ نے مجھ سے پھر چہرے کی طرف جھکنے کا کہا، میں نے تعمیلِ ارشاد کی تو اب کی بار پہلے سے زیادہ آنکھ کُھلی اور پُتلی بھی نظر آنے لگی، اور آنسوبھی نکل آئے۔یہ منظر مفتی صاحِب سمیت کئی حاضِرین نے اپنی کُھلی آنکھوں سے دیکھا۔اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۱۱)جِنّات کی اشک باری

        چِشتیاں (پنجاب )کے اسلامی بھائی حسان رضا عطاری کا بیان کچھ اِس طرح ہے کہ میں عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں تجوید وقِرائَ ت کورس (سالِ اوّل) کا طالبُ العلم ہوں ، ۲۱ ذوالقعدہ ۱۴۳۳ھ شبِ منگل میں محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی عیادت وزیارت کی نیّت سے اَسپتال حاضر ہوا تو وہ بے ہوش تھے ۔زیارت کرکے میں واپَس آگیا اور فیضانِ مدینہ میں اپنے رہائشی کمرے میں آکر سو گیا  ۔ اچانک کمرے میں کسی کے رونے کی آوازیں آنے لگیں ، میری آنکھ کُھل گئی دیکھا تو کمرے میں کوئی نہیں تھا ، میں نے کروٹ بدل کر آنکھیں بند کر لیں اور دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگا ۔میں نے محسوس کیا کہ کمرے میں بہت سے لوگ ہیں جو بے چینی کے عالَم میں اِدھر اُدھر آجارہے ہیں ، رونے کی آوازیں پھر سے آنے لگیں ، کمرے کی لائٹ بھی بند تھی ، مجھ پر عجیب دہشت اور خوف طاری ہوگیا لیکن میں دل مضبوط کرکے لیٹا رہا  ۔ تھوڑی اُونگھ آئی تو کسی نے میرا پاؤں ہلایا، میں ایک دَم اٹھ بیٹھا مگر کمرے میں کوئی نہیں تھا۔میں کمرے سے باہَر نکلا اور وضو خانے کی طرف چل دیا۔راستے میں ایک اسلامی بھائی نے حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے اِنتقال کی خبر دی، سچی بات ہے کہ مجھے یقین نہیں آیا لیکن مَدَنی چینل پر دیکھا تو ان کے انتقالِ پُرملال کی خبر چل رہی تھی  ۔ اب مجھے اندھیرے کمرے میں لوگوں کا رونا، بے چینی سے اِدھر ُادھر ٹہلنا اور مجھے جگانا لیکن کسی کا دکھائی نہ دینا سمجھ میں آگیا ، ایسا لگتا ہے کہ وہ جِنّات تھے جو مَدَنی اِنْعامات کے تاجدار، محبوبِ عطار حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے وصال پر غمزدہ ہوکر آنسو بہارہے تھے کیونکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاپنے بیانات وگفتگو میں جِنّات بالخصوص عطاری جنات کا گاہے بگاہے ذکر کیا کرتے تھے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۱۱۲)خواب میں تشریف لے آئے

        زَم زَم نگر حیدر آباد (باب الاسلام سندھ) کے اسلامی بھائی محمد سلیم عطاری کا بیان ہے کہ میرا تعلق حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریکے علاقے ’’ہِیر آباد‘‘ سے ہے ، مجھے ان سے بے حد محبت تھی ، جن دنوں یہ شدید بیمار ہوئے تو میری بَہُت خواہش تھی کہ میں ان کی عِیادت وزِیارت کرسکوں لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے ایسا نہ کرسکا  ۔ ایک رات جب میں سویا تو حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری میرے خواب میں تشریف لے آئے اور میری خیریت دریافت کی اور اپنے لئے دعا کا فرمایا ۔ پھر جس رات ان کا انتِقال ہوا تو مجھے اس کا عِلْم نہیں تھا لیکن رات کومیرے خواب میں ایک اسلامی بھائی تشریف لائے اور فرمانے لگے :  اب مَدَنی چینل پر حاجی زم زم رضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا چَرچا ہوگا  ۔ صبح جب میں بیدار ہوا تو پتا چلا کہ محبوبِ عطار حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری انتِقال فرما گئے ہیں ، پھر مجھے سارا دن مَدَنی چینل پر انہی کا چرچا دکھائی دیا۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   مرحوم پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے  ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۱۳)بعدِ وفات حاجی زم زم نے خواب میں آ کر خبر دی کہ۔۔۔۔۔

        شیخِ طریقت امیراہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : غلامزادہ حاجی عبید رضا مَدَنی سَلَّمَہُ الْغَنِی کی تربیت میں مَدَنی انعات کے تاجدار، محبوبِ عطار، حاجی زم  زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کابَہُت حصّہ تھا، دونوں کے مابین محبت کا عظیم رشتہ قائم تھا، مرحوم کی علالت کے دوران غلامزادے نے اپنی بساط کے مطابِق خوب خدمت کی سعادت حاصل کی، ان کی وفات پر یہ بے حد رنجیدہ ہو گئے تھے، مرحوم نے خواب میں تشریف لا کر ان کی دلجوئی کا سامان کیا چُنانچِہ غلامزادے کا بیان اپنے الفاظ میں عرض کرنے کی سعی کرتا ہوں : ’’میں نے مرحوم حاجی زم زم رضا کو بعد



Total Pages: 51

Go To