Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

بے نَمازی کا ہَولناک انجام

        جبکہ بے نَمازی سے اللہ  تعالیٰ ناراض ہوتاہے ۔ جو جان بوجھ کر ایکنَماز چھوڑ دیتاہے اُس کا نام جہنَّم کے دروازے پر لکھ دیا جاتاہے۔(حلیۃ الاولیاء ،۷/۲۹۹، الحدیث ۱۵۰۹۰) نَماز میں سستی کرنیوالے کو قبر اس طرح دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں گی ،اُس کی قبر میں آگ بھڑکا دی جائے گی اوراُس پر ایک گنجا سانپ مُسَلَّط کردیا جائے گانیز قیامت کے روز اس کا حساب سختی سے لیا جائے گا ۔(قرۃ العیون معہ الروض الفائق،ص۳۸۳)

 سرکچلنے کی سزا

          سرکارِمدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صَحابۂ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا : آج رات دو شخص (یعنی جبرائیل ومیکائیل علیہمَا السلام)میرے پاس آئے اورمجھے ارضِ مقدَّسہ میں لے آئے ۔ میں نے دیکھاکہ ایک شخص لیٹا ہے اوراس کے سِرہانے ایک شخص پتھراُٹھائے کھڑا ہے اورپے درپے پتھر سے اس کا سرکچل رہا ہے ، ہر بار کچلنے کے بعد سرپھر ٹھیک ہوجاتاہے ۔ میں نے ان فرشتوں سے کہا: سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!یہ کون ہیں ؟انہوں نے عرض کی: آگے تشریف لے چلئے(مزید مناظِردکھانے کے بعد)فِرِشتوں نے عرض کی: پہلا شخص جو آپصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے دیکھا( یعنی جس کا سرکُچلا جا رہا تھا)یہ وہ تھا جس نے قرآن یاد کر کے چھوڑ دیا تھا اور فرض نمازوں کے وقت سوجانے کا عادی تھا۔اس کے

 



Total Pages: 208

Go To