Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

غُصّہ روکنے کی فضیلت

        رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ بشارت نشان ہے : جو شخص اپنے غُصّے کو روکے گا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قِیامت کے روز اُس سے اپنا عذاب روک دے گا ۔

 (شعب الایمان ۶/ ۳۱۵ حدیث ۸۳۱۱)

غُصّہ پینے والے کیلئے جنتی حُور

        حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنت نشان ہے : جس نے غُصّے کو ضبط کرلیا حالانکہ وہ اسے نافذکرنے پر قادر تھا تو اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   بروزِقِیامت اُس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گااور اِختیار دے گا کہ جس حُور کو چاہے لے لے ۔ (سنن ابی داوٗد ، ۴/ ۳۲۵ حدیث ۴۷۷۷ )

حُسنِ اَخلاق اور نرمی دو

                       دُور ہو خُوئے اِشتِعال[1]؎  آقا  (وسائل بخشش، ص۳۵۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۵)  بچّوں کی امّی کا شکریہ ادا کیا

        حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری بیماری کی وجہ سے بابُ المدینہ کراچی اور حیدر آباد کے اَسپتالوں میں داخِل رہے جہاں ان کے بچوں کی امی بھی ان کی دیکھ بھال کے لئے اکثر موجود رہیں ، جب ان کی طبیعت ذرا سنبھلی تو ان کا شکریہ اِن الفاظ میں ادا کیا : ’’آپ نے میری خدمت میں کمال کردیا ہے ۔‘‘

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

لوگوں کاشکر ادا کرنے کی اہمیت

        دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ عالیشان ہے : جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کا شکرگزار نہیں ہو سکتا۔

(سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی شکر المعروف، ج۴، الحدیث : ۴۸۱۱، ص۳۳۵)

            مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :  سُبْحٰنَ اللّٰہ! کتنا عالی مقام ہے، بندوں کا ناشکرا رب کا بھی ناشکرا یقینا ہوتا ہے، بندہ کا شکریہ ہر طرح کا چاہیے؛دِلی، زبانی، عملی ، یوں ہی رب کا شکریہ بھی ہر قسم کا کرے، بندوں میں ماں باپ کا شکریہ اور ہے! استاد کا شکریہ کچھ اور !شیخ ، بادشاہ کا شکریہ کچھ اور!(مرأۃ المناجیح ، ۴/ ۳۵۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶) سب سے پہلے والِدۂ محترمہ کی زیارت کرتے

        مبلغِ دعوتِ اسلامی محمد اجمل عطاری (مرکز الاولیاء لاہور) کا بیان ہے کہ محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے ایک بار مجھے بتایا :  میری عادت ہے کہ گھرپہنچتے ہی سب سے پہلے والِدۂ محترمہ کی خدمت میں حاضِری دیتا ہوں ، انہیں سلام کرکے قدم بوسی کرنے کے بعد دیگر کام کرتا ہوں یہاں تک کہ گھر داخل ہوتے ہی گھر کے افراد سے پہلا سُوال یہ کرتا ہوں کہ ’’ امّی کہاں ہیں ؟‘‘ وہ جہاں بتائیں فوراً ان کی خدمت میں حاضِری دے کر پھر دیگر افراد سے ملتا ہوں ۔

(۷) والدہ کی قدم بوسی کی مُنفرِد حکایت

        حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباریکے والد صاحب توان کے بچپن میں ہی وفات پاچکے تھے البتہ والدۂ محترمہ حیات تھیں  ۔ مبلغِ دعوتِ اسلامی محمد اجمل عطاری (مرکز الاولیاء لاہور) کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے تحدیثِ نعمت کے طور پر ایک بار بتایا کہ جب مجھے سفرِ حج پر جانا تھا اور تقریباً ڈیڑھ مہینا گھر سے باہَر رہنا تھا تو میں نے گھر سے روانہ ہونے سے پہلے ایڈوانس میں پچاس ساٹھ مرتبہ والدہ کے قدم اس طرح چُومے کہ وہ سیڑھیوں میں بیٹھی تھیں اور میں ان کے قدم چومتا رہا ۔ جب بابُ المدینہ باپا جان کی خدمت میں حاضری ہوئی اورآپ کو یہ بات پتا چلی تو بہت ہی زیادہ شفقت و خوشی کا اظہار فرمایا۔

اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

روزانہ جنَّت کی چوکھٹ چومئے

        جن خوش نصیبوں کے ماں باپ زندہ ہیں اُن کو چاہیے کہ روزانہ کم از کم ایک بار ان کے ہاتھ پاؤں ضَرورچوماکریں ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد3حصّہ 16 صَفْحَہ 445پر ہے : والِدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے، حدیث میں ہے :

’’ جس نے اپنی والِدہ کا پاؤں چوما، توایسا ہے جیسے جنَّت کی چوکھٹ(یعنی دروازے) کو بوسہ دیا۔‘‘  (دُرِّمُختار۹/ ۶۰۶)

        یقیناماں کی تعظیم کا بڑا دَرَجہ ہے ۔فرمانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہے : اَلْجَنَّۃُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّہَاتِ یعنی جنّت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔(الجامع الصغیر، ص۲۲۱، حدیث : ۳۶۴۲)

 



    خوئے اشتِعال یعنی غصے کی عادت۔ [1]



Total Pages: 51

Go To