Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

دیواروں پر انگشتِ شہادت سے (بِغیر روشنائی کے ) کلمۂ پاک لکھا ، پھر قبرکی دیوارِ قبلہ میں طاق کھود کر اس میں شجرۂ قادِریہ رضویہ عطاریہ ودیگر دعاؤں کے پرچے تبرُّکاً رکھے گئے  [1]؎   اور سر کی جانب طاق کھود کر مرحوم کے نام لکھی گئیں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بعض تحریریں رکھی گئیں ، مبلغِ دعوتِ اسلامی، حافظ ابو البنتین محمد حسّان رضا عطَّاری مدنی مدظلہ العالی نے قبر کے اندر کھڑے ہوکر سورۃُ الملک شریف کی تلاوت کی اور کئی اراکینِ شوریٰ نے حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کو قبر میں اُتاراپھر شہزادۂ عطّار نے قبر میں اُتر کر ان کاچہرہ قبلہ رُخ کیا [2]؎   اس کے بعد مٹّی سے لیپ کی ہوئی سِلیں قبر پر رکھ دیں گئیں [3]؎  اسلامی بھائیوں نے مستحب طریقے کے مطابِق قبر پر مٹی ڈالی [4]؎   اورسنّت کے مطابق ایک بالِشت اونچی کوہان نما قبر[5]؎  بنانے کے بعد اُس پر پانی چِھڑکا گیا(کہ بعدِتدفین یہ بھی سنّت ہے) اور پھر اسلامی بھائیوں نے قبر پر اتنے پھول ڈالے کہ قبر پھولوں سے ڈھک گئی   [6]؎   قبر کے پاس کھڑے ہوکرسورۃُالبقرہ کی کچھ آیات تِلاوت کی گئیں  [7]؎  اس کے بعدمبلغِ دعوتِ اسلامی مولانا عبدالنبی حمیدی مدظلہ العالی نے میِّت کو تلقین کی [8]؎    پھر قبر پر اذان دی گئی  [9]؎   آخِر میں مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکنِ شوریٰ، حاجی ابو مدنی عبدالحبیب عطاری مدظلہ العالی نے دعا کروائی ، یوں مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوبِ عطار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہکی تدفین کے معاملات تکمیل کو پہنچے  ۔  اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰۹)حاجی مشتاق کی حاجی زم زم سے ملاقات

        حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے تیجے (سِوُم)کے موقع پر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی مراکز پر ۲۳ذوالقعدہ ۱۴۳۳ھ بروز جمعرات کو اِیصالِ ثواب کا اہتمام کیا گیا، عَصْر تا مغرِب قرآن خوانی ہوئی اورنَمازِ مغرِب کے بعد عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں بیان کرتے ہوئے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : غلامزادۂ عطّارؔ حاجی عُبید رضا نے مجھے کچھ یوں بتایا :  حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے وصال سے کم وبیش تین ہفتے پہلے 14ستمبر2012ء کی رات میں نے خواب میں ایک منظر کچھ یوں دیکھا کہ مرحوم نگرانِ شوریٰ حاجی مشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری تیزی سے کہیں جارہے ہیں ، میں نے بے تکلُّفی والے انداز میں پوچھا :  حاجی مشتاق !آپ اتنی جلدی جلدی کہاں جارہے ہیں ؟ فرمایا :  زم زم بھائی کو لینے جارہا ہوں ، میرے ساتھ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  بھی ہیں ۔میں نے جوں ہی نگاہ اٹھائی میری نظرسرکارِ مدینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چہرۂ انور پر پڑی جو کہ حاجی مشتاق کے ساتھ ہی جلوہ فرما تھے، ایک دم میرے ہونٹ بند ہو گئے، مجھ سے



1        شجرہ یا عہد نامہقبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میت کے منہ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں بلکہ ’’درمختار‘‘ میں کفن میں عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے اور فرمایا کہ اس سے مغفرت کی امید ہے۔  ( بہارِشریعت ۱/ ۸۴۸)اعلیٰ حضرت ،امام اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن  فرماتے ہیں: ’’شجرہ طَیِّبَہ (اور دیگر تبرکات) قَبْر میں طاق بناکر( رکھیں) خواہ سرہانے کہ نکیرین پائینتی کی طرف سے آتے ہیں اُن (فتاوی رضویہ، ۹/۱۳۴ملتقطا) کے پیشِ نظر ہو، خواہ جانبِ قبلہ کہ میّت کے پیش رو (یعنی سامنے)رہے اور اس کےسکون و اطمینان واِعانتِ جواب کا باعث ہو۔ ‘‘

2      میّت کو دہنی طرف کروٹ پر لٹائیں اور اس کا مونھ قبلہ کو کریں، اگر قبلہ کی طرف مونھ کرنا بھول گئے تختہ لگانے کے بعد یاد آیا تو تختہ ہٹا کر قبلہ رُو کر دیں اور مٹی دینے کے بعد یاد آیا تو نہیں۔(فتاویٰ ھندیہ ج۱ص۱۶۶/ ردالمحتار علی الدر المختارج۳ ص۱۶۷  )

3       بہارِ شریعت ج۱ص۸۴۳پر ہے: قبر کے اس حصہ میں کہ میّت کے جسم سے قریب ہے،پکی اینٹ لگانا مکروہ ہے کہ اینٹ آگ سے پکتی ہے۔ اللہ تَعَالٰی مسلمانوں کو آگ کے اثر سے بچائے۔(فتاویٰ ھندیہ ،۱/۱۶۶ وغیرہ)امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:قبر کے اندورنی حصّے میں آگ کی پکی ہوئی اینٹیں لگانا منع ہے مگر (کراچی میں دیکھا ہے کہ) اکثر اب سیمنٹ کی دیواروں اور سلیب کا رواج ہے۔ لہٰذا سیمنٹ کی دیواروں اور سیمنٹ کے تختوں کا وہ حصّہ جو اندر کی طرف رکھنا ہے کچی مِٹّی کے گارے سے لیپ دیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مسلمانوں کو آگ کے اثر سے محفوظ رکھے۔(اٰمین بِجاہِ النَّبی الامین   صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)(نمازکے احکام ص ۴۶۹ )

4      مستحب یہ ہے کہ سرہانے کی طرف سے دونوں ہاتھوں سے تین بار مٹّی ڈالیں۔پہلی بارکہیں   مِّنْهَا خَلَقْنٰهُمْ ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا۔ دوسری بار وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ اور اسی میں تمہیں پھرلے جائیں گے۔تیسری بار وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى(۵۵) اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔ (پ ۱۶،طٰہٰ :۵۵)کہیں۔(فتاویٰ ھندیہ ۱/۱۶۶)اب باقی مِٹّی پھاوْڑَہ وغیرہ سے ڈال دیں۔

5      َبْر چوکھونٹی نہ بنائیں بلکہ اس میں ڈھال رکھیںجیسے اونٹ کا کوہان ۔قبرایک بالِشت اونچی ہو یا اِس سے معمولی زیادہ۔(ردالمحتار علی الدر المختار،۳/ ۱۶۹)

6     حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہہادیٔ راہِ نَجات، شاہِ موجودات صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کھجور کی تازہ ٹہنی منگوائی اوراسے آدھوں آدھ چِیرا اور ہر ایک کیقَبْر پر ایک ایک حصّہ گاڑ دیا۔(صحیحُ البخاری  ، ۱/۹۵حدیث۶۱۲ملتقطاً)  قَبْر پر پھول ڈالنابہترہے کہ جب تک تررہیں گے تسبیح کریں گے اور میِّت کادل بہلے گا۔ 

(ردُّ المُحتار،۳/ ۱۸۴و بہارشریعت ج۱ص ۸۵۱ )

7    حضرتِ سیِّدُنا عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت ہے کہ میں نے محترم نبی، مکّی مَدَنی صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو فرماتے سنا :جب تم میں سے کوئی مرجائے تو اسے روک نہ رکھو، اسے اُس کی قبر تک جلدی پہنچائو، اس کے سر کے پاس سورۂ بقرہ کا شروع اور پیروں کے پاس سورۂ بقرہ کا آخری رکوع پڑھو۔  (شعب الایمان ج۷ص۱۶حدیث:۹۲۹۴)مستحب یہ ہے کہ دفن کے بعد قبر پر سورۂ بقر کا اوّل و آخر پڑھیں (الجوہرۃ النیّرۃ ص۱۴۱)سرہانے  الٓمّٓۚ(۱)ٓ سےالْمُفْلِحُوْنَ(۵)تک اور پائنتی اٰمَنَ الرَّسُوْلُسے ختم سورت تک پڑھیں۔ (بہار شریعت ،۱/۸۴۶)     

 

 

1       حضور سیّد عالم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:جب تمہارے کسی مسلمان بھائی کا انتقال ہو اور اس کی قَبْر پر مٹی برابر کر چکو تو تم میں سے ایک شخص اس کی قَبْر کے سرہانے کھڑا ہوکر کہے یَافُلَانَ ابْنَ فُلَانَۃٍ  کہ وہ سُنے گا اور جواب نہ دے گا۔ پھر کہے: یَافُلَانَ ابْنَ  فُلَانَۃٍ وہ سیدھا ہوکر بیٹھ



Total Pages: 51

Go To