Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

جبکہ  مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : پیٹ کی بیماریوں سے مرنے والاحُکماً شہید ہوتا ہے جیسے دَست ، دَرد، اِسْتِسْقاء  [1]؎ چُونکہ ان بیماریوں میں تکلیف زیادہ ہوتی ہے کہ پیٹ کی خرابی تمام بیماریوں کی جڑ ہے اِس لئے اس سے مرنے والا حُکْماًشہید ہے۔(مراٰۃ المناجیح ۵/ ۴۲۷ملخصًا)

نوٹ : شہیدِ حکمی کی مزید صورتوں کی تفصیل جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ’’بہارِ شریعت ‘‘ جلد اول حصہ 4صفحہ857تا860کامطالعہ کیجئے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰۶)غسل دینے کی ترکیب

        حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کا انتِقال اَسپتال میں ہوا تھا، ان کی میِّت کوشہزادۂ عطار حضرت مولاناالحاج ابواُسَید عُبید رضا عطاری مَدَنی  مدظلہ العالی کے درِدولت پر لایا گیا، جہاں مبلغِ دعوتِ اسلامی مفتی ابوالحسن محمد فُضَیل رضا عطاری مدظلہ العالی اور رُکنِ شوریٰ حاجی ابو رضامحمد علی عطاری مدظلہ العالی نے دیگر اسلامی بھائیوں کے ساتھ مل کر غسل دیا۔(شیخِ طریقت امیرِاہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  بھی اُس موقع پر چندلمحوں کے لئے تشریف لائے )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰۷)نمازِجنازہ

        حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کی نمازِ جنازہ  ۲۱ ذیقعدۃِ الحرام ۱۴۳۳ھ کم وبیش صبح 7بجے عالَمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی  (فنائے مسجد)میں شیخِ طریقت امیراہلسنّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے پڑھائی اور ان کے لئے کچھ یوں دعائے خیر کی :

        یا ربَّ المُصْطَفٰے  جَلَّ جَلَالُہٗ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  !بطفیلِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہم سب کے گناہوں کو مُعاف فرما، ہم سب کی مغفرت فرما ، یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   ! خُصوصاً تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رُکْن ابوجُنید حاجی زمزم رضا کی مغفِرت فرما ۔ یااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! ان کی قبر کی پہلی رات آیا چاہتی ہے، اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !عنقریب یہ روشنیوں سے نکال کر اندھیری قبر میں اتار دیئے جائیں گے۔اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !ان کی قبر اندھیری نہ رہے، یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   ! ان کی قبر نُورِ مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے روشن ہوجائے  ۔ یَااِلٰہَ الْعٰلَمِیْن! ان کی قبر کو محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نور سے پُر نور کردے۔ربِّ کریم !ان کی قبر پر رحمت و رِضوان کے پھول برسا۔اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !ان کی قبر کی گھبراہٹ دور کردے۔یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   ان کو قبر کی وَحْشت نہ ستائے، اے اللّٰہ! انہیں قبر میں صدمات نہ پہنچیں ، یااللّٰہ!مرحوم حاجی زمزم رضا کو قبر میں راحتیں نصیب فرما، فرحتیں نصیب فرما ، یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   ! جب منکَر نکیر ان سے سُوالات کریں تو یہ ٹھیک ٹھیک جوابات دے پائیں ۔ اے اللّٰہ!جب تیرے محبوب کی تشریف آوَری ہو ، تو یہ فوراًپہچان کر محبوب کے قدموں میں گر پڑیں اور جواباً ان کے منہ سے نکلے :  ھُوَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔اے پروردگار! محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے جلووں سے ان کی قبر آباد کردے ۔اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !ان کی قبر میں جنّت کی کِھڑکی کُھل جائے، یااللہ !ان کی قبر جنَّت کا باغ بنادے۔اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !ان کی بے حساب بخشِش کردے  ۔ یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   !برزَخ کا طویل عرصہ ان کے لیے قلیل ہوجائے۔اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن!یہ اس طرح سوئیں جس طرح دُلہن سوتی ہے، اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن ! انہیں کوئی عذاب نہ ہو، انہیں کوئی تکلیف نہ ہو، اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !بس یہ محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پیچھے پیچھے سیدھے جنّت میں داخِل ہوں ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے ہوں ، یَااِلٰہَ الْعٰلَمِیْن!  تو جانتا ہے کہ میں ان سے مَحَبَّت کرتا تھا، اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن ! میں آخِری سانس تک ان سے راضی تھا، پروردگار! تو بھی راضی ہوجا ۔ یَااِلٰہَ الْعٰلَمِیْن! ہمارے لاکھوں اسلامی بھائی ان سے مَحَبَّت کرتے تھے، مَحَبَّت کرتے ہیں ، ان کے بارے میں بڑا حسنِ ظن اسلامی بھائیوں میں دیکھا جاتا تھا، یااللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہمارے حسنِ ظن کی لاج رکھ لے انہیں تکلیف نہ ہو، انہیں قبر میں پریشانیاں نہ ہوں ، انہیں مُردوں کو پہنچنے والے صدمے نہ پہنچیں بس یہ تیرے مَحْبُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جلووں میں گُم رہیں ، تیرے محبوب کے جلوؤں میں گُم رہیں ، محبو ب کے جلوؤں میں گُم رہیں اور ان کی قبر جنَّت کا باغ بنی رہے۔یَااِلٰہَ الْعٰلَمِیْن! مرحوم کی والِدۂ محترمہ، ان کے بچّے، ان کے بچّوں کی امّی ، مرحوم کے بھائی اور دیگر عزیز رشتے دار سب کو صبرِ جمیل اور صبرِ جمیل پر اجرِ جَزِیل مرحمت فرما، اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !مرحوم نے دعوتِ اسلامی کی بڑی خدمت کی خُصُوصاً ’’مَدَنی انعامات‘‘، ’’ قفلِ مدینہ‘‘( خاموشی اور نگاہوں کی حفاظت ) کے خاص داعی تھے، یااللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   !ان کے بیٹے جُنَید کو بھی ان کے نقشِ قدم پر چلا  ۔ اِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !ان کا بیٹا عالِم باعمل بنے ، ان کے نقش قدم پر چلے، دعوتِ اسلامی کی خدمت کرے، ان کے سارے گھر والے ان کے سارے خاندان والے دعوتِ اسلامی کے  مبلّغ اور مُبلِّغہ بن جائیں ، سب دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دَم وابَستہ رہیں ۔یَااِلٰہَ الْعٰلَمِیْن !پیارے حبیب کی ساری اُمّت کی مغفِرت فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰۸)صَحرائے مدینہ بابُ المدینہ میں تدفین

        شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ، نگرانِ شوریٰ اور کئی اراکینِ شوریٰ ودیگر تنظیمی ذمّے داران نے حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے جنازے کو کندھا دیا امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور نگرانِ شوریٰ حِفاظتی اُمور کے پیشِ نظر فیضانِ مدینہ ہی رُکے رہے اور جنازے کا جُلوس صحرائے مدینہ باب المدینہ کراچی کی طرف روانہ ہوگیا ، صحرائے مدینہ پَہُنچ کر اسلامی بھائیوں کو مَدَنی انعامات کے تاجدار، محبوب عطار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا آخِری دیدار کروایا گیا ۔پھر ان کومرحوم نگرانِ شوریٰ ، بلبل روضہ ٔ رسول حاجی مشتاق عطاری اور مفتیٔ دعوتِ اسلامی حاجی محمد فاروق عطاریعلیہِما رحمۃُ اللہ الباریکے پہلو میں دفْن کرنے کے لئے لے جایا گیا  ۔ شہزادۂ عطار حضرت مولاناحاجی ابواُسَید عُبَید رضا عطاری مَدَنی  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مرحوم کی قبر کی



1     (استسقاء)وہ بیماری جس میں مریض کی پیاس بہت بڑھ جاتی ہے اور جسم کے بعض اندرونی اعضا پیٹ، گردہ، فوطہ، قلب، دماغ یا پھیپھڑوں یا جھلی میں رطوبت بھر جاتی ہے۔



Total Pages: 51

Go To