Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

        (پاکستان کے صوبۂ)پنجاب جاتے وَقْت ان کے شہر حید ر آباد اسٹیشن سے گزرتا تو مجھے ربڑی کا تحفہ بھجوایا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ مجھے فون کیا تو ٹرین حیدرآباد میں داخِل ہوچکی تھی ، میرے منع کرنے کے باوُجُود یہ ایک اسلامی بھائی کے ساتھ موٹرسائیکل پر نکل پڑے، میں باربار ان سے درخواست کرتا کہ حضور ، آپ رہنے دیجئے مگر نہیں مانے، جب یہ اسٹیشن کے باہَر پہنچے تو ٹرین چل دی ، یہ کافی دور تک پیچھے آئے مگر ٹرین نے رفتار پکڑ لی ، ان کی اس محبت بھری دیوانگی کا جب میں نے پنجاب میں اپنے بھائیوں کو بتایا تو انہوں نے برجستہ کہا کہ اتنی محبت اور خلوص سے وہ دینے آئے مگر نہیں دے سکے تو سمجھ لو کہ انہوں نے بھیجی اور ہم نے کھالی ۔

(۹۸)زم زم کا مطلب ہے ’’رُک رُک ‘‘

        جب کبھی عشقِ مُرشد میں بَہُت بڑھ چڑھ کر کلام فرماتے کہ ہم یہ بات بھی تحریر میں ڈال دیتے ہیں وہ بات بھی ڈال دیتے ہیں تو میں ان سے مِزاحاً عرض کرتا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ باپا نے آپ کا نام ’’زم زم‘‘ اسی حکمت کے تحت رکھا ہو کہ آپ ’’رُک‘‘ بھی جایا کریں کیوں کہ زم زم کا معنیٰ ہے’’ رُک رُک‘‘ تو آپ ذرا رُکئے بھی کہ ہر بات ایک دم سے چھاپ ڈالنا آسان کام نہیں ۔

(۹۹)رسالے کی آمد پر بے حد خوش ہوئے

        ان کی نگاہوں کا قفل مدینہ ، زبان کا قفل مدینہ مرحبا۔مکتبۃ المدینہ کے رسالے خاموش شہزادہ کی (نئی ترکیب کے بعد)اشاعت کے غالباً سب سے زیادہ منتظر یہی تھے ، جب رسالہ آنے کی خبر دی تو ان کی خوشی دیکھنے والی تھی ۔

(۱۰۰)کھانا ساتھ کھاتے

        بابُ المدینہ تشریف لاتے تو اکثر مجھے میزبانی کا شَرَف ملتا، دوپہر کا کھانا عُمُوماًہم ساتھ ہی تناول کرتے ۔ایک مرتبہ میں جامعۃ المدینہ میں پڑھارہا تھا اس دوران یہ جلدی میں میرا گھر سے لایا ہوا کھانا کھا کر کہیں بیان کرنے چلے گئے مگر باہَر سے کھانا منگوا کر رکھ گئے ، میری طرف سے ان کو میری چیزیں کھانے استعمال کرنے کی مکمل اجازت تھی مگر جب ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے میں آپ کا کھانا بغیر بتائے کھاگیا ! میں نے عقیدت سے عرض کی :  کیا آپ کو مجھ سے پوچھنے کی حاجت ہے ؟ تو مسکرا کر خاموش ہوگئے ۔اس بے تکلُّفی کے باوُجُود بہت خوددار تھے ، اپنی وفات سے چند دن پہلے مجھے فون کرکے اَسپتال میں یاد کیا اور فرمانے لگے کہ ڈاکٹر نے پرہیزی کھانا شروع کرنے کا کہا ہے تو مجھے آپ ہی یاد آئے ! لیکن آپ اس کی رقم مجھ سے لے لیجئے گا۔میں نے عرض کی :  صد مرحبا !میں حاضِر ہوں مگر میں رقم نہیں لوں گا۔لیکن افسوس وہ پرہیزی کھانا کھانے پر بھی قادر نہ ہوسکے ، میری ان سے جو آخِری گفتگو فون پرہوئی اس میں کچھ یوں فرمایا : ’’دعاکیجئے کہ بھوک لگ جائے اور میں کھانا کھاسکوں فی الحال تو ایک نوالہ بھی نہیں کھایا جارہا۔‘‘

(۱۰۱)نازُک حالت میں بھی صابر رہے

        ایک مرتبہ ان کی بیماری کے دَوران میرے سامنے ان کی طبیعت بَہُت بگڑی مگر یہ اس نازک حالت میں بھی صابر رہے اور منہ سے شکوہ وشکایت کا کوئی لفظ نہیں نکالا۔ان کی زندگی کی آخِری رات قریباً سوادس بجے جب میں ان کو دیکھنے کے لئے پہنچا تو غالباً نزع کے عالم میں تھے مجھ سے ان کی حالت دیکھی نہیں گئی ، ان کی حیات میں کبھی انہوں نے مجھے اپنا ہاتھ نہیں چومنے دیا ، میں نے اس وَقْت ان کے داہنے ہاتھ پر بوسہ دیا اور رو روکر اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی بارگاہ میں ان کیلئے آسانی و عافیت کی دعا کی تو ان کے سر کو جنبش ہوئی مجھے یوں لگا کہ شاید اس دعا پر میرا شکریہ ادا کررہے ہوں کیونکہ زندگی میں یہ چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی مجھے ’’جَزَا کَ اللہ ‘‘’’جَزَا کَ اللہ ‘‘ کی دعا سے اتنی کثرت سے نوازتے تھے کہ یہ الفاظ تحریرکرتے وَقْت بھی میرے کانوں میں گویا ان کی آواز گونج رہی ہے ۔

(۱۰۲)بیماری میں بھی اعتکاف کرنے کی خواہش

        رَمَضان المبارک میں جب یہ مستشفیٰ میں داخل تھے تو آخری عشرے کا اعتِکاف شروع ہونے سے پہلے مجھے دبے لفظوں میں کچھ یوں کہنے لگے کہ کسی طرح مجھے باپا کے قریب پہنچا دوتاکہ میں بھی سنّت اعتِکاف کرسکوں مگر میں نے ان کی حالت دیکھتے ہوئے پیار سے سمجھایا اورآرام کی تلقین کی۔پچیسویں چھبیسویں منانے کے لئے انہوں نے ایک باقاعدہ پرچہ مرتَّب کیا تھا اور اس کے سب سے بڑے داعی یِہی تھے ۔بہت سے معاملات صرف میرے اور ان کے درمیان تھے ، ان کے جانے کے بعد میں اکیلا رہ گیا ۔ان کے ادھورے رہ جانے والے کام  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ   میں مکمَّل کروں گا۔ان کا مسکراتا ہواچِہرہ اب بھی میری نگاہوں کے سامنے رہتا ہے ۔  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   مجھے ان جیسا تقویٰ نصیب فرمائے  ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰۳)مَدَنی چینل پر اعلانِ وفات اور دعائے مغفرت

        جس وَقْت حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کا وصال ہوا تو شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ عالَمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی میں اراکینِ شوریٰ ودعوتِ اسلامی کی مختلف کابینات کے اراکین سے مَدَنی مشورہ فرمارہے تھے ، امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوب عطار حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے وِصال کا اِعلان کرتے ہوئے فرمایا : مَدَنی چینل کے ناظِرین اور حاضِرین! میری آنکھوں کی ٹھنڈک میرے دل کے چین دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حاجی زمزم رضا طویل بیماری کے بعد دَم توڑ چکے ہیں ، (ان کا)وِصال ہوگیا ہے، اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ   ۔

        پھر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ان کے لئے اس طرح  کے دعائیہ کلمات کہے : اللہ تبارک و  تَعَالٰی مرحوم حاجی زمزم کو غریقِ رحمت فرمائے،اللہ تَعَالٰی ان کے صغیرہ کبیرہ گناہ معاف فرمائے،اللہ تَعَالٰی ان کی خدماتِ دعوتِ اسلامی کو قبول فرمائے ، انہوں نے بہت خدمت کی اس کا اعتراف ایک میں نہیں بلکہ ہمارے لاکھوں اسلامی بھائی کریں گے ، مَدَنی



Total Pages: 51

Go To