Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

مصروفیات کے بعد خَلْوَت و تنہائی میں رہا جائے ۔ اَ لْحَمْدُ للّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! ان کی تربیت کی بدولت میں سمجھتا ہوں کہ میں آج بھی دعوتِ اسلامی میں ہوں ، میرے رب عَزَّ وَجَلَّ   کا کرم ہے کہ مجھے استِقامت حاصل ہے،اللہ تَعَالٰی مرتے دم تک نصیب رکھے۔اگر محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی صحبت نہ ملتی تو نہ جانے میں کب کا برباد ہوچکا ہوتا۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹۴)باطِنی تربیت بھی فرماتے

        مرکزالاولیاء(لاہور) میں مُقیم مبلغِ دعوتِ اسلامی محمد اجمل عطّاری کا بیان کچھ یوں ہے کہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے بھی محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی صحبت میں رہنے کا شَرَف ملا ہے ، آپ باطِنی اِصلاح پر بہت زیادہ توجُّہ دلاتے تھے، کبھی نگران سے اختِلاف کے حوالے سے اس طرح سمجھاتے کہ دیکھئے! دعوتِ اسلامی کا کام کرنا مستحب مگر اس کی خاطر ذمّے دار کی بلاوجہِ شَرْعی دل آزاری کرنا، غیبت کرنا، تہمت لگانا حرام و گناہ ہے، ایسا نہ ہو کہ مستحب کی آڑ میں شیطان ہمارے ساتھ کھیلتا رہے، لہٰذا خوب ہوشیار رہئے۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹۵)میری سُستی کو چُستی میں بدل دیا

        کوٹ عطاری(کوٹری ، باب الاسلام سندھ) کے اسلامی بھائی محمد جنید عطّاری کا بیان کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ آفندی ٹاؤن حیدرآباد میں رکنِ شوریٰ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری سے ملاقات ہوئی تو حسبِ عادت میری خیریت دریافت فرمائی ۔پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے میری سُستی کو چُستی میں بدل دیا ۔ہوا کچھ یوں ہوا کہ دورانِ گفتگو میں نے حاجی زم زم سے عرض کی کہ میر ے پاس دو’’مَدَنی بہاریں ‘‘ہیں ، ایک آدھ دن میں آپ کو پیش کردوں گا تومحبوبِ عطّار پُھرتی سے اُٹھے اور مجھے کاغذ دے کر کہنے لگے : پیارے بھائی!ابھی ہاتھوں ہاتھ لکھ کردے دیں ، میرا تجرِبہ ہے کہ بعد میں شیطان لکھنے نہیں دیتا، بعض اسلامی بھائی سستی کرتے ہیں اور لکھ کر نہ دینے سے ہزاروں مدنی بہاریں جمع ہونے سے رہ جاتی ہیں ۔چُنانچِہ میں نے اُسی وَقْت وہ مدنی بہاریں انہیں لکھ کردے دیں ۔اس سے میرا ذہن بنا کہ جونیک کام ہاتھوں ہاتھ ہوسکتا ہو اُس میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

آخِرت کے کام میں جلدی کرنی چاہئے

        حدیث پاک میں ہے :  اِطمینان ہر چیز میں ہو، سوائے آخِرت کے کام کے ۔ (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی الرفق، ۴/ ۳۳۵، الحدیث : ۴۸۱۰)

        یعنی دُنیاوی کام میں دیر لگانا اچھا ہے کہ ممکن ہے وہ کام خراب ہو اور دیر لگانے میں اس کی خرابی معلوم ہوجائے اور ہم اس سے باز رہیں مگر آخرت کا کام تو  اچھا ہی اچھاہے اسے موقع(Chance) ملتے ہی کرلو کہ دیر لگانے میں شاید موقع جاتا رہے ۔ بہت دیکھا گیا کہ بعض کو (حج کا)موقع ملا نہ کیا پھر نہ کرسکے ۔ رب  تَعَالٰی فرماتا ہے : فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ بھلائیوں میں جلدی کرو۔(پ۲، البقرۃ : ۱۴۸) شیطان کارِ خیر میں دیر لگوا کر آخر میں اس سے روک دیتا ہے ۔ (مرأۃ المناجیح ، ج۶/ ۶۲۷ملخصًا)

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹۶)نام ونُمود کی خواہِش سے کوسوں دُور تھے

(مع دیگر یادگاریں )

         المدینۃ العلمیۃ میں خدمات انجام دینے والے ابوواصف عطاری مدنی کا بیان ہے کہ تحریری کام کے سلسلے میں حاجی زم زم رضا عطاریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری سے میرا تقریباً 7برس کا ساتھ رہا ہے ۔میں نے ان میں نام ونُمُود کی رَتی بھر خواہش نہیں دیکھی حالانکہ انہوں نے ’’آداب ِ مرشدِ کامل، مَدَنی گلدستہ ، سینگوں والی دلہن، خوفناک بلا، دم توڑتے مریض کو شفا، تنگ دستی کے اسباب ، شہزادۂ عطار کی شادی کی جھلکیاں ، عطاری جنّ کا غسلِ میّت ، حیرت انگیز حادِثہ اوردیگر بَہُت سے رسائل ‘‘ مُرتّب فرمائے ہیں مگر کبھی اپنا نام ڈالنے کی خواہِش تک ظاہِر نہیں کی۔بعض اوقات یہ کئی کئی گھنٹے ہمارے مکتب میں موجود رہتے تھے مگرکبھی انہوں نے اپنی زبان سے اپنے کارنامے اشارۃً بھی بیان نہیں کئے ۔پھر بَہُت سی کُتُب و رسائل ایسی ہیں جو ہم دونوں نے مل کر لکھیں ، میں ان کی تحریرمیں کیسی ہی تبدیلی کرتا کبھی ناگواری کا اظہار نہیں کیا بلکہ مجھ سے فرمادیتے جو آپ کو مناسب لگے کرلیجئے، کبھی کسی بات پر ہمارا اختلافِ رائے بھی ہوتا اور میں دو ٹوک اپنا موقِف اپناتا تو ضِد نہیں کرتے تھے بلکہ بعد میں اس کی اِفادیت سامنے آنے پر شاباش دیتے اور حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے  ۔ ’’قومِ جنّات‘‘جیسی کئی کُتُب ورسائل انہوں نے فرمائش کر کے مجھ سے لکھوائیں ، اس کے لئے مَواد مہیّا کیا اور وَقْتا فوَقْتا میری رہنمائی فرماتے رہتے ۔پھر ہم دونوں نے دیگر ذمے داران سے مل کر المدینۃ العلمیۃ میں مَدَنی بہاروں کے رسائل وغیرہ کے لئے ’’شعبہ امیراہلسنّت‘‘ قائم کیا تو ان کی خوشی دیدنی(یعنی دیکھنے والی) تھی  ۔ بیماری کے باوُجُود تحریری کام کروانے کے لئے مسلسل اسلامی بھائیوں سے رابطے میں رہتے  ۔ ان کی زندگی کے آخری سالوں میں دیگر مصروفیات کی وجہ سے میں ان کے تحریری کام میں ہاتھ نہ بٹاسکامگر پھر بھی مجھ سے بڑی محبت کرتے ، میں بھی دل کی گہرائیوں سے ان سے عقیدت رکھتا تھا  ۔ اکثر فرماتے کہ میرا بس چلے تو آپ کو اپنے تحریری کام کے لئے ایک کمرے میں بند کردوں  ۔ میرے مَدَنی مُنّے اور مُنّیوں سے بڑی محبت فرماتے ، اکثر فون پر ان کے بارے میں دریافْتْ کرتے رہتے تھے  ۔ حالانکہ خود بیمار تھے مگر میری طبیعت کے حوالے سے بَہُت فکر مند رہتے کہ آپ کو کچھ نہیں ہونا چاہئے ۔کبھی میرا گلا خراب ہوتا تو تعویذ پیش کردیتے ۔

(۹۷)ربڑی کا تحفہ

 



Total Pages: 51

Go To