Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

دیتے تھے ۔یہ ایسے عاشقِ عطّار تھے کہ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکے آنے کے بعد ان کی طبیعت میں نُمایاں تبدیلی محسوس ہوتی، بلڈ پریشر کم ہوتا تو پورا ہوجاتا ، جسم میں نَقاہت کی جگہ توانائی آجاتی ۔ایک مرتبہ باب المدینہ کراچی کے اَسپتال سے ان کو صبح کے وَقْت چُھٹّی ملنی تھی۔ رات کے وَقْت میں مَدَنی مشورے میں تھا تو نِصْف شب(یعنی آدھی رات) سے لے کر فجر تک ان کے بار باردیوانگی بھرے فون اور s.m.s آئے کہ میری باپا سے بات کرادو، صبح اَسپتال سے چُھٹّی مل جائے گی ،میں باپا سے اجازت لئے بِغیر کس طرح حیدر آباد جاؤں گا!مَدَنی مشورے میں مصروفیت کی وجہ سے میں نے ان سے عرض بھی کی کہ میں فارِغ ہوتے ہی آپ سے بات کروانے کی کوشش کرتا ہوں ، آپ آرام کرلیجئے اورسو جائیے، مگر ان کی بے قراری کم نہیں ہوئی ۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مَدَنی حُلئے میں رہا کرتے

          حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری اپنے پیرومُرشِد شیخِ طریقت  امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہکے پسندیدہ مَدَنی حُلئے میں رہا کرتے تھے ۔اسلامی بھائیوں کے مَدَنی حُلئے میں یہ چیزیں شامل ہیں :داڑھی ، زُلفیں ، سر پر سبز سبز عمامہ شریف( سبز رنگ گہر ا یعنی Dark نہ ہو ) کَلی والا  سفیدکُرتاسنَّت کے مطابِق آدھی پنڈلی

 



Total Pages: 208

Go To