Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۰)دُکھیاروں کی حاجت روائی کی جھلکیاں

        دعوتِ اسلامی کی مجلس، المدینۃ العلمیۃ کے مَدَنی اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں نے خود کئی مرتبہ حاجی زم زم رضا عطّاریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کو دکھیاروں کی حاجت روائی کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔چند مثالیں عرض کرتا ہوں : ٭  ایک مرتبہ ایک نومسلم کو سات یا آٹھ ہزار روپے پیش کئے ٭ ایک مَدَنی اسلامی بھائی کا(دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ کے فارغ التحصیل طلبائ’’مدنی‘‘کہلاتے ہیں ) تقریباً 8000کا قرض بِغیرمُطالَبے کے چُکایا۔٭ ایک اور مَدَنی اسلامی بھائی کو بِلا مُطالَبہ تقریباً 32000 قرض کی ادائیگی کے لئے پیش کئے  ۔ ٭ چند سال پہلے میرا کچھ زمین خریدنے کا ذِہْن بنا لیکن رقم کم ہونے کی وجہ سے میں نے مَنْع کردیا حالانکہ زمین بَہُت سستی مل رہی تھی جب ان کو معلوم ہوا تو میرے طلب کئے بِغیر پُر زور اصرارکرکے غالِباً بیس ہزار کی رقم میرے گھر آکر بطورِ قرض پیش کردی، میں نے بہت انکار کیا مگر ان کی شفقت مرحبا ! مجھے وہ رقم قَبول کرنی ہی پڑی ۔٭ اپنے ایک غریب رشتے دار کی ماہانہ تقریباً 3000 ہزار روپے مالی مدد کیا کرتے تھے ۔٭ اس کے علاوہ بھی میرے سامنے کئی دکھیاروں کے ان کو فون آتے جن کی یہ نہ صرف دل جوئی فرماتے بلکہ مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’روحانی علاج‘‘سے کوئی وظیفہ بھی بتادیا کرتے اور تعویذات عطاریہ کے بستے سے رُجوع کرنے کا مشورہ دیتے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۱)سرکا درد خَتْم ہوگیا

        فاروق نگر (لاڑکانہ، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی محمد فاروق عطّاری کا بیان ہے کہ جن دنوں میں نصیر آباد ڈویژن کا ذمّے دار تھا، حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہ الباری ہماری تربیت فرمانے کے لئے’’نصیرآباد‘‘ تشریف لائے  ۔ مجھے بچپن ہی سے دردِسر کا عارِضہ لاحِق تھا ، کافی علاج کروایا مگر مستقِل آرام نہ آیا ، چنانچِہ میں نے حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریکی بارگاہ میں عرض کی :  مجھے دردِ سر رہتاہے ۔مرحوم نے شفقت فرماتے ہوئے اُسی وَقْت دَم فرمایا ، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ ! حاجی زم زم کے دم کی بَرَکت سے میرا پُرانا مَرَض جاتا رہا اور تادمِ تحریر (یعنی ۱۴۳۳ھ میں ) 6سال ہوچکے ہیں لیکن مجھے دوبارہ دردِ سر نہیں ہوا  ۔ اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

بیمار! کیوں مایوس ہے توحُسنِ یقیں سے

               دَم جاکے کرالے کسی بیمارِ نبی سے   (وسائلِ بخشش ص۲۰۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۲)غمزدوں کی دلجوئی

        مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکن شوریٰ، حاجی محمد علی عطاری مدظلہ العالی کا بیان کچھ یوں ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری فیضانِ مدینہ حیدر آباد میں موجودَگی کی صورت میں حتَّی المقدورعَصْر تا  عشاء تعویذاتِ عطاریہ کے بستے پر آنے والے غمزدوں اور پریشان حالوں سے ملاقات کرکے ، ان کی دل جوئی وغم خواری کرتے ، ان سے تعزیت کرتے اور انفرادی کوشش فرماتے ۔ایک اور اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں نے بارہا دیکھا کہ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری تعویذاتِ عطاریہ کے بستے پر تشریف لاتے تو وہاں کسی نہ کسی مریض کے ساتھ بیٹھ کر اس کی دلجوئی فرماتے رہتے تھے ۔ کئی مرتبہ اس کُڑھن کا اظہار فرماتے کہ اگر تمام تنظیمی ذمّے داران ایسے اسلامی بھائیوں پر انفرادی کوشش کیاکریں توبِحَمدہٖ تعالٰیبَہُت سارے اسلامی بھائی مَدَنی قافلے کے لئے تیّار ہو جائیں  ۔

 اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۳)بیماری میں بھی دکھیاروں کی خیرخواہی

         مجلس مَدَنی بہاروں کے پاکستان سطح کے نگران ، مبلغِ دعوتِ اسلامی حاجی محمدامتیاز عطّاری کا بیان ہے کہ میں فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی کے مُستَشْفٰی (اَسپتال ) میں حاجی زَم زَم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی عیادت کے لئے موجود تھا کہ اچانک ان کی طبیعت بگڑی اور سارا جسم نہایت شدت سے کانپنے لگا، ڈاکٹر نے ان کو انجکشن لگایا ، تھوڑی دیر بعد کپکپی جاتی رہی اور ان کی طبیعت کچھ سنبھل سی گئی ، اُسی وَقْت ایک اسلامی بھائی کا فون آیا، انہوں نے نہ صرف فون سنا بلکہ اُن کی پریشانی سن کر ان کی دلجوئی کی اور امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے رسالے ’’رُوحانی علاج ‘‘ سے وظائف بھی بتائے ۔ میں نے یہ دیکھ کر عرض کی کہ حضور آپ کی تو اپنی طبیعت ناساز ہے ، فی الحال فون رسیو (Receive)نہ کیا کریں تو کچھ اِس طرح فرمایا :  بے چارے دُکھیارے کتنی آس سے فون کرتے ہوں گے میں ان کی دلجوئی کی نیّت سے فون وُصول کرلیتا ہوں ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۸۴)محبوبِ عطّار کی انفِرادی کوشش کی مَدَنی بہار

 



Total Pages: 51

Go To