Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

لے آئے اور فرمایا :  ’’افاقہ ہوتے ہی مجھے بتا دیجئے گا۔‘‘اس طالب علم کا کہنا ہے کہ میں ان کے اس انداز سے بہت متأَثِّر ہوا ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷۷)بیماری کے عالَم میں بھی محروم نہیں لَوٹایا

        دعوتِ اسلامی کی’’ مجلسِ اِصلاح برائے قیدیان ‘‘کے پاکستان سَطْح کے نگران اسلامی بھائی حاجی سلیم مُون عطاری کا بیان ہے کہ رَمَضانُ الْمبارَک 1433ھ میں ’’ قیدیوں کے لئے 52مَدَنی انعامات ‘‘کے سلسلے میں حاجی زم زم رضا عطاریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وَقْت یہ فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی کے مستشفیٰ (اسپتال )میں داخل تھے ، جب میں نے دیکھا کہ یہ تو سخت بیمار ہیں اور ڈرپ لگی ہوئی ہے تو میں دعا سلام کے بعد اپنا مسئلہ بیان کئے بِغیر واپَس جانے کے لئے مڑگیا ، انہوں نے مجھے روکا اور فرمایا کہ آپ شاید کسی کام سے آئے تھے ، تشریف رکھئے ۔پھر انہوں نے نہ صِرْف میری عَرْض توجُّہ سے سنی بلکہ اِس بارے میں مفید مشورے بھی دئیے۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

مسلمان کی حاجت روائی کرنا کارِ ثواب ہے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلمان کی حاجت روائی کرناکارِ ثواب ہے مَثَلاً اس کو راستہ بتادینا ، سامان اٹھانے میں اُس کی مدد کردینا یا اُس کی کوئی ضَرورت پوری کردینا ، اَلْغَرَض کسی بھی طرح سے اُس کے کام آنے کی بڑی فضیلت ہے ، شَہَنْشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا :  مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظُلْم کرتا ہے اور نہ ہی اسے رُسوا کرتاہے اور جوکوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ اُس کی حاجت پوری فرماتاہے اور جو کسی مسلمان کی ایک پریشانی دُور کرے گا اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   قِیامت کی پریشانیوں میں سے اُس کی ایک پریشانی دور فرمائے گا۔

(صحیح مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب تحریم الظلم ، ص۱۳۹۴ ، الحدیث : ۲۵۸۰)

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگرا ِس گئے گزرے دَور میں ہم سب ایک دوسرے کی غمخواری وغمگُساری میں لگ جائیں تو آناً فاناً دُنیا کا نقشہ ہی بدل کررَہ جائے۔لیکن آہ!اب تو بھائی بھائی کے ساتھ ٹکرا رہا ہے، آج مسلمان کی عزّت وآبرواوراُس کے جان ومال مسلمان ہی کے ہاتھوں پامال ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں نفرتیں مٹانے اور مَحَبَّتیں بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ النبی الامینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

حاجت روائی کا جذبہ

        حاجی زم زم رضاکے بچّوں کی امّی کا کہنا ہے کہ مرحوم کودُکھیاروں کی حاجت روائی اور مالی امداد کا بَہت جذبہ تھا، خود تو غریب تھے مگر مُخَیّر اسلامی بھائیوں کے ذریعے ضَرورتمندوں کی مالی مشکِلات حل فرما دیتے اوررِیا سے بچنے کیلئے اِسے چھپانے کی بھی ترکیب فرماتے، مجھ سے بھی چھپاتے البتّہ کبھی کبھی باہَرسے معلوم ہوجاتا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۷۸)ولیمے میں زیادہ رقم دلوائی

        دعوتِ اسلامی کے ایک تنظیمی ذمّے دار کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں اور حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کسی اسلامی بھائی کے ولیمے میں جارہے تھے ۔میری چُونکہ ان سے تھوڑی بے تکلُّفی تھی ، اس لئے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ نے’’ سلامی‘‘ میں کتنی رقم دولہا کو پیش کرنے کی نیّت کی ہے ؟جب میں نے رقم بتائی تو ترغیباً ارشاد فرمایا کہ بے چارے مالی طور پر کمزور ہیں اور جن حالات میں انہوں نے شادی کی ہے مجھے معلوم ہے، اگر ہوسکے تو آپ کچھ زیادہ رقم پیش کردیجئے ۔چُنانچِہ میں نے انہی سے مشورہ کرکے سلامی کی رقم دُگنی کردی اور لفافے میں ڈال کر دولہا کوپیش کردی ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷۹)شاید میں جامعہ چھوڑ دیتا

        جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ زم زم نگر حیدر آباد کے دورۂ حدیث کے طالب العلم حیدر رضا عطّاری کے بیان کا لُبِّ لباب ہے کہ میں جس وقت درسِ نظامی کے درجۂ ثالثہ میں تھا تو مجھے کچھ ایسی ذاتی پریشانیاں پیش آئیں کہ مجھے لگتا تھا کہ شاید پڑھنے کا سلسلہ موقوف کرنا پڑے گا  ۔ اس وقت میں نے مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری  سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا تو انہوں نے نہ صرف میری ڈھارس بندھائی بلکہ میرا مسئلہ حل کرنے کی بھی ترکیب فرمائی  ۔ اس کے بعد بھی حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباریمجھ سے گاہے بگاہے معلومات لیتے رہتے اور مدنی کاموں بالخصوص مدنی انعامات کا جذبہ دلاتے رہتے  ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! یہ بیان دیتے وقت (محرم الحرام۱۴۳۴ھ)میں جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ (حیدر آباد ) میں دورۂ حدیث کا طالب العلم ہوں اور جامعات المدینہ حیدر آباد میں مدنی انعامات کی دُھومیں مچانے کے لئے کوشاں ہوں ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

 



Total Pages: 51

Go To