Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

بیان ہے کہ محبوبِ عطاررحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ  امیر اہلسنّت  دامت برکاتہم العالیہکی محبت میں ایسے فنا تھے کہ اکثر ہم مل کر ایک ساتھ جَدْوَل بناتے کہ ربیع الاول شریف آرہی ہے تو کون کہاں جلوسِ میلاد میں ، اجتِماعِ میلاد میں شرکت کرے گا ؟تویہ بڑی عاجِزی اور سادَگی کے ساتھ مجھے فرماتے کہ میرا جتنا چاہیں جَدْوَل بنادیں ، مجھ سے جو چاہیں کام لے لیں لیکن یہ جو خُصُوصی مَواقِع ہیں : عیدالاضحی ، عیدالفطر ،ربیع الاول شریف، شبِ براء َت ، شبِ قدر، شبِ معراج وغیرہ مجھے میرے پیر کے پاس گزارنے دیں ،میں باپا سے دُور نہیں رہ سکتا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات ان کی طبیعت خراب ہوتی بیمار ہوتے، ان کو بخار ہوتا تب بھی یہ باب المدینہ جا کر باپا کے پاس پڑے رہتے ، اُٹھنے کی ہمَّت نہ ہوتی لیکن کہتے: ’’بس باپا کو دیکھ دیکھ کر مجھے سکون ملتا رہے گا۔‘‘اللہ تعالیٰ ان کے صدقے ہمیں بھی عشقِ مُرشِد سے حصہ عطا فرمادے اور ان کے دَرَجات بلند فرمائے۔

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۳)  چہرہ کِھل اٹھتا

          رُکن شوریٰ حاجی ابو رضامحمد علی عطاری مدظلہ العالی مزید کچھ یوں فرماتے ہیں کہ مَرَض الموت میں جب  امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہحاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباریکی عیادت کے لئے تشریف لاتے تو ان کا چہرہ کِھل اٹھتا، کیسی ہی گہری نیند میں ہوتے جب ساتھ موجود اسلامی بھائی ان کو آگاہ کرتے تو یہ فوراً  آنکھ کھول

 



Total Pages: 208

Go To