Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

:  ’’جیسے ہی میری طبیعت بحال ہو ئی اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ   ہم دونوں مَدَنی قافلے میں سفر کریں گے ۔‘‘ شہزادے کو موبائل لے کر دینے سے منع کرتے ہوئے ذِہْن بنایا کہ چُونکہ باپا (یعنی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ)نے بچّوں کو موبائل لے کر دینے سے منع فرمایا ہے اس لئے میں آپ کو موبائل لے کر نہیں دوں گا ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

تربیت اولاد کی اہمیت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے دیکھا کہ محبوبِ عطار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغفّار کو اپنی اولاد کی مَدَنی تربیت کا کیسا جذبہ تھا ۔ یقینا نیک اولاداللہ تبارک و تَعَالٰی کا عظیم انعام ہے کیونکہ یہ دنیا میں اپنے والدین کے لئے راحت ِ جان اور آنکھوں کی ٹھنڈک کاسامان بنتی ہے ۔بچپن میں ان کے دل کا سرور ، جوانی میں آنکھوں کا نور اوروالدین کے بوڑھے ہوجانے پر ان کی خدمت کرکے ان کا سہارا بنتی ہے  ۔ پھر جب یہ والدین دنیا سے گزرجاتے ہیں تویہ سعادت منداولاد اپنے والدین کے لئے بخشش کا سامان  بنتی ہے جیساکہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :  ’’جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین کاموں کے کہ ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے : (۱)صدقہ جاریہ(۲)وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے(۳)نیک اولاد جو اس کے حق میں دعائے خیر کرے۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الوصیۃ ، باب مایلحق الانسان۔۔۔الخ ، الحدیث ۱۶۳۱، ص۸۸۶)

         اگرہم اسلامی اقدار کے حامل ماحول کے مُتَمَنِّی (یعنی خواہش مند) ہیں تو ہمیں اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی مَدَنی تربیت بھی کرنی ہوگی کیونکہ اگرہم تربیت ِ اولاد کی اہم ذمہ داری کو بوجھ تصور کر کے اس سے  غفلت برتتے رہے اور بچوں کو ان خطرناک حالات میں آزاد چھوڑ دیا تو نفس وشیطان انہیں اپنا آلۂ کار بنا لیں گے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نفسانی خواہشات کی آندھیاں انہیں صحرائے عصیاں (یعنی گناہوں کے صحرا)میں سرگرداں رکھیں گی اوروہ عمرِ عزیز کے چار دن آخرت بنانے کے بجائے دنیا جمع کرنے میں صرف کردیں گے اور یوں گناہوں کا انبار لئے وادیٔ موت کے کنارے پہنچ جائیں گے۔رحمت ِ الٰہی عَزَّ وَجَلَّ  شامل حال ہوئی تو مرنے سے پہلے توبہ کی توفیق مل جائے گی وگرنہ دنیا سے کفِ افسوس ملتے ہوئے نکلیں گے اور قبر کے گڑھے میں جاسوئیں گے ۔سوچئے تو سہی کہ جب بچوں کی مدنی تربیت نہیں ہوگی تو وہ معاشرے کا بگاڑ دور کرنے کے لئے کیا کردار ادا کرسکیں گے، جو خود ڈوب رہا ہو وہ دوسروں کو کیا بچائے گا ، جو خود خوابِ غفلت میں ہو وہ دوسروں کو کیا بیدار کرے گا ، جو خود پستیوں کی طرف محوِ سفر ہو وہ کسی کو بلندی کا راستہ کیونکر دکھائے گا  ۔  [1]؎

سُونا جنگل رات اندھیری ، چھائی بدلی کالی ہے   

          سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رَکھوالی ہے          (حدائق بخشش، ص۱۸۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲) مزاج میں نرمی

         حاجی زم زم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرمکے بچوں کی امی کا بیان ہے کہ مرحوم کی طبیعت میں بہت نرمی تھی ، غصّہ بَہُت ضَبْط کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ ان کے چھوٹے بیٹے نے موبائل پانی کے ٹب میں ڈال دیا ، اس کے باوُجُود انہوں نے کوئی غصّہ نہیں کیا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳) اپنے بچوں تک سے مُعافی مانگ لیتے

        حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے بڑے بیٹے محمد جُنَید رضا عطاری کا بیان ہے کہ جب ابُّو کسی مُعامَلے میں ہماری اِصلاح فرماتے تو بسااوقات بعد میں مُعافی مانگتے اور کہتے :  آپ کا دل دُکھ گیا ہوگا۔

(۴)کسی کا دل نہ دُکھے

        حاجی زم زم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرمکی والدۂ محترمہ کا بیان ہے کہ میرے بیٹے کی بہت کوشش ہوتی تھی کہ کسی کا دل نہ دُکھے ۔باب المدینہ کراچی کے اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری خلافِ مزاج کام ہوجانے پر غصّہ نہیں کرتے تھے بلکہ بڑی شَفْقت سے سمجھایا کرتے تھے ۔

اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

مومِن کی شان کا بیان بزبانِ قُراٰن

        سُبْحٰنَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ ! ہمارے حاجی زم زم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرم کتنے بھلے انسان تھے اورکس اَحسَن انداز میں غصے کا علاج فرمالیا کرتے تھے۔دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے انہیں معلوم تھا کہ اپنے نفس کے واسطے غُصّہکرکے مدِّمُقابِل پر چڑھا ئی کرنے میں بھلائی نہیں ہے بلکہ غصہ پینے والے فائدے میں رہتے ہیں  ۔ پارہ 4سورۂ اٰل عمران کی آیت134میں ارشادِ باری  تَعَالٰی ہے :

وَ  الْكٰظِمِیْنَ  الْغَیْظَ  وَ  الْعَافِیْنَ  عَنِ  النَّاسِؕ-وَ  اللّٰهُ  یُحِبُّ  الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان : اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں ۔

 



تربیت اولاد کی اہمیت وطریقہ کار جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’تربیتِ اولاد‘‘کا مطالعہ کیجئے ۔    [1]



Total Pages: 51

Go To