Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

جیلانی عطاری کا بیان ہے کہ جب ہم مدینۂ منوَّرہ   زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً     میں مسجدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلام کے قریب پہنچے اور اب اُس مقام پر جانا تھا جہاں پر امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ بڑے پیارے انداز میں اسلامی بھائیوں کے جھکے ہوئے سر اپنے ہاتھ سے تھوڑا اوپر کرتے اور سبز سبز گنبد کی زیارت کرواتے ، جب اسلامی بھائی اُس جگہ جانے لگے تو حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری وہیں رُک گئے اور میرے دریافت کرنے پر فرمایا :  پیارے بھائی ! یہاں تک آجانا ہی میرے لئے بڑی سعادت کی بات ہے ، میری آنکھیں اِس قابِل نہیں ہیں کہ سبز سبز گنبد دیکھ سکیں ، میں نے بارہا ان سے کہا لیکن یہ نہیں گئے اور یوں حاجی زم زم رضاعطاریعلیہ رحمۃُ اللہ الباری چل مدینہ ہونے کے باوُجُود سبز گنبد دیکھے بِغیر وطن واپَس آگئے !

نظر بھرکر تو دیکھ لوں میں گنبدِ خضرا

پئے شیخین اس قابِل بنانا یارسولَ اللہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

مشہور عاشقِ رسول علّامہ یوسُف بن اسمٰعیل نَبْہَانی کا اندازِادب

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حاجی زم زم عطاریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی اس ادا میں عاشقِ رسول علّامہ یوسُف بن اسمٰعیل نَبْہَانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الغَنِیکارنگ جھلکتا ہے ، چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 328صفحات پر مشتمل کتاب ’’عاشِقان رسول کی 130حکایات ‘‘کے صفحہ 149پرہے :  خلیفۂ اعلیٰ حضرت ، فقیہ ِاعظم ، حضرتِ علّامہ ابو یوسف محمد شریف مُحدِّثِ کوٹْلَوی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیفرماتے ہیں :  ایک مرتبہ جب میں حج کرنے گیا تو مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً     کی حاضِری میں سبز سبز گنبد کے دیدار سے مُشَرَّف ہوتے وَقْت میں نے ’’بابُ السَّلام ‘‘کے قریب اور گنبدِ خضراء کے سامنے ایک سفید رِیش اور انتِہائی نورانی چِہرے والے بُزُرْگ کو دیکھا جو قبرِ انور کی جانب منہ کرکے دو زانو بیٹھے کچھ پڑھ رہے تھے ۔ معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہ مشہورو معروف عالمِ دین اورزبردست عاشقِ رسول حضرتِ سیِّدُنا شیخ یوسُف بن اسمعٰیل نَبْہَانی   قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز ہیں ۔میں ان کی وَجاہت اور چِہرے کی نورانیّت دیکھ کر بَہُت مُتَأَثِّر ہوا اور اُن کے قریب جا کر بیٹھ گیا اور ان سے گفتگو کی کوشش کی ، وہ میری جانِب مُتَوجِّہ نہ ہوئے تو میں نے اُن سے کہا :  میں ہندوستان سے آیا ہوں اور آپ کی کتابیں حُجَّۃُ اللہ عَلَی الْعالَمِیناور جَواہِرُ الْبِحار وغیرہ میں نے پڑھی ہیں جن سے میرے دل میں آپ کی بڑی عقیدت ہے ۔ اُنہوں نے یہ بات سن کر میری طرف مَحَبَّت سے ہاتھ بڑھایا اور مُصَافَحہ فرمایا ۔ میں نے ان سے عَرْض کی :  حُضور ! آپ قبرِ انور سے اِتنی دُور کیوں بیٹھے ہیں ؟ تو رو پڑے اور فرمانے لگے : ’’میں اِس لائق نہیں ہوں کہ قریب جا سکوں  ۔ ‘‘ اِس کے بعد میں اکثر ان کی جائے قِیام پر حاضِر ہوتا رہا اور ان سے’’ سَندِ حدیث‘‘ بھی حاصِل کی۔سیِّدی قطبِ مدینہ حضرتِ علّامہ شیخ ضِیاء الدّین احمد مَدَنیعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغَنِی فرماتے ہیں : حضرت ِعلّامہ یوسُف نَبْہَانی  قُدِّسَ سرُّہُ الرَّباّنی  کی اَہلیۂ مُحْتَرَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْھاکو 84 مرتبہ نبیِّ آخرُ الزّمان ، شَہَنْشاہِ کون و مکان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی زیارت کا شَرَف حاصل ہو اہے  ۔  (انوارِقطبِ مدینہ ص۱۹۵ ملخصا)

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

اُن کے دِیار میں تُو کیسے چلے پھرے گا؟

                        عطارؔ تیری جُرأَت! تُو جائے گا مدینہ!!  (وسائلِ بخشش ص ۳۲۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد   

 (۶۶)رُومال پر اَشعار لکھ کر مدینے شریف بھیجے

        زم زم نگر حیدر آباد کے اسلامی بھائی محمد انیس عطّاری کا بیان ہے کہ تقریباً18سال پہلے کا واقعہ ہے ایک سیِّد صاحِب مدینہ شریف جارہے تھے تو حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہ الباری نے ان سے ملاقات کی اور ایک رومال دیاجس میں کچھ اشعار سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے لکھے گئے تھے  ۔ حاجی زم زم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے ان سیِّد صاحِب سے عرض کی کہ آپ یہ رومال سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں پیش کیجئے گا اور جو اشعار میں نے لکھے ہیں میری طرف سے پڑھ کر سنا دیجئے گا ۔ وہ سیِّد صاحِب جب مدینہ شریف سے واپَس ہوئے تو میری ان سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے کہا : میں حیران ہوں کہ جب سنہری جالیوں کے روبرو حاضر ہوا اور وہ رومال جیسے ہی پڑھنا شروع کیا کہ وہاں کا دربان میرے پاس آگیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر سنہری جالیوں کے بالکل نزدیک لے گیا اور کہا کہ اب پڑھو !میں حیران تھا کہ یہ کیا مُعامَلہ ہے حالانکہ وہ تو وہاں زیادہ دیر کھڑا ہی نہیں ہونے دیتے ، پھرمیرے دل میں یہ بات آئی کہ لگتا ہے بارگاہ رسالتعَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاممیں زم زم بھائی کا بڑا مقام ہے کہ وہ بظاہِر دُور ہیں لیکن سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بڑے نزدیک ہیں ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

غمِ مصطَفٰے جس کے سینے میں ہے

گو کہیں بھی رہے وہ مدینے میں ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۷)اُسے غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی زیارت ہوئی تھی

        زم زم نگر حیدر آباد کے اسلامی بھائی محمد انیس عطّاری کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریبہت ملنسار ، نرم خُو، برد بار، اچھی عادتوں والے، انتہائی سنجیدہ طبیعت ، مُعاملہ فہم اور کافی ذہین تھے  ۔ ہر کسی کے لئے اچّھے جذبات اور مَدَنی سوچ کے حامل تھے ۔امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی صحبتِ بابرکت کا ان کو ایسا فیضان ملا تھا کہ ایک اسلامی بھائی سے حاجی زم زم رضا



Total Pages: 51

Go To