Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

وتعویذاتِ عطاریہ کی شوریٰ کی طرف سے عالمی سطح پر ذمّے داری تھی ، اس کے علاوہ یہ (۱)اسلامی بہنوں کے مَدَنی کاموں (۲)رکن مجلس بیرون ملک ،(۳)مجلس اجرائے کتب ورسائل (علمیہ)اور (۴)مَدَنی بہاروں وغیرہ کے بھی ذمے دار رہے ہیں۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰) محبوبِ عطّار کی اپنے پیرومُرشِد سے عقیدت

          حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباریکو اپنے پیرو مُرشِد پندرھویں صدی کی عظیم علمی ورُوحانی شخصیت شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ سے بہت بہت بہت عقیدت ومحبت تھی ۔باپا کا پیغام ان کے لئے گویا حرفِ آخر ہوتا تھا، اس پر بلاچون وچرا کے عمل کیا کرتے تھے ۔زم زم نگر (حیدر آباد،باب الاسلام سندھ پاکستان)میں طویل عرصے تک حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباریکے محلے میں رہنے والے اسلامی بھائی محمد انیس عطّاری کے بیان کا لُبِّ لباب ہے کہ تقریباً20برس پہلے بھی محبوبِ عطاررحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ  کی اپنے مرُشد امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے مَحبّت کا یہ عالَم تھا کہ جب یہ عشقِ مرُشِد میں آنسو بہاتے تو ہم ڈر جاتے کہ کہیں ان کو کچھ ہو نہ جائے ، اسی طرح جب یہ کوئی منقبتِ عطّار لکھتے تو میرے پاس آتے کہ اسے

 



Total Pages: 208

Go To