Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

بھی دی جو میں نے بخوشی قبول کرلی۔اپنے دیگر ڈاکٹردوستوں کی طرح پہلے میں گانے سننے اور فلمیں دیکھنے کا بہت شوقین تھا اور میرے گھر میں بھی انہی چیزوں کا رواج تھا مگراَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! جیسے ہی میں امیراہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مُرید بنا مجھے گناہوں سے بیزاری سی ہوگئی اور میں نے فلمیں ڈرامے دیکھنا چھوڑ کر صرف مَدَنی چینل دیکھنا شروع کردیا اور سنّتوں بھرے اِجتماع میں بھی شریک ہونے لگاجس کی برکت سے نمازوں کی پابندی بھی نصیب ہوگئی۔اپنے محسن اسلامی بھائی سے فیضان مدینہ میں اکثر ملاقات ہوجاتی ، ان کی مجھ پر خصوصی شفقت رہتی ۔وہ مبلغ کوئی اور نہیں بلکہ حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری تھے ، ان کے عاجزانہ انداز کی وجہ سے شروع شروع میں مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ میرے یہ مُحسِن وکیلِ عطار اور دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رُکن بھی ہیں ۔حاجی زم زم رضا عطاریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری سے جب ملاقات ہوتی تو وہ مجھے مَدَنی قافلوں میں سفر کی بھی ترغیب دیتے اور مَدَنی قافلوں کی برکتیں اور بہاریں سُنایا کرتے  ۔ ان کی مسلسل اِنفرادی کوشش کے نتیجے میں بالآخر میں تین دن کے مدنی قافلے کا مسافر بن گیا ۔اپنے پہلے مَدَنی قافلے میں جب میں رات کو سویا تو اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے خواب میں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا دیدار نصیب ہوگیا ۔ اس مَدَنی قافلے میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا اور ایسا رُوحانی سُرور محسوس ہوا کہ میں نے بعد میں بھی کئی مَدَنی قافلوں میں سفر کیا۔یوں روز بروز مجھ پر مَدَنی ماحول کا رنگ چڑھتا گیا  ۔ حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی ہی انفرادی کوشش کی بدولت مدینۃ الاولیاء ملتان میں ہونے والے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت بھی ملی ۔اسی اجتماع میں امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بیان ’’کالے بچھو‘‘ سن کر میں نے داڑھی منڈانے اور دیگر گناہوں سے توبہ کی اور اپنے چہرے پر داڑھی شریف سجالی ۔پھر صحرائے مدینہ باب المدینہ کراچی کے اِجتماع میں شریک ہوا تو وہاں پر ایک اسلامی بھائی کی اِنفرادی کوشش کی برکت سے سر پر سبز سبز عمامہ شریف سجا لیا۔ہر ماہ تین دن کے مَدَنی قافلے میں سفر اب میرا معمول بن چکا تھا۔دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہونے کی ایک برکت یہ بھی نصیب ہوئی کہ پہلے میرے بچے اکثر بیمار رہتے تھے ، آئے دن ان کو اُلٹی اورموشن(دست) لگ جاتے ، ان کا سینہ خراب ہوجاتا اور سانس لینے میں دُشواری ہوتی ۔ان پر کوئی شربت اثر نہ کرتا جس کی وجہ سے انہیں ڈرپ اور انجکشن لگانے پڑتے ۔میرے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کے بعد اب اگر بچے بیمار ہوتے بھی ہیں تو صرف دوائی والا شربت پینے سے ٹھیک ہوجاتے ہیں  ۔ مجھے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہسے ملاقات کا بہت شوق تھا ، میری خوش نصیبی کہ محبوبِ عطار حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے وسیلے سے مجھے پندرھویں صدی ہجری کی عظیم علمی ورُوحانی شخصیت شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے ملاقات کی سعادت نصیب ہوگئی جس سے مجھے خوب مَدَنی کام کرنے کا جذبہ ملا اور میں نے ساری زندگی دعوتِ اسلامی سے وابستہ رہنے کا عزمِ مصمم کر لیا۔ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی صحبت کی برکت سے میں نے آنکھوں کا قفلِ مدینہ لگایا اور لکھ کر بات کرنے کی کوشش شروع کر دی ۔ان کی شفقتوں کے نتیجے میں میں نے دعوتِ اسلامی کی مجلسِ ڈاکٹرز میں کابینہ سطح پر مَدَنی کام کرنے کی سعادت پائی اور ترقی پاتے پاتے آج میں پاکستان سطح کی مجلسِ ڈاکٹرز (دعوتِ اسلامی)کے خادم (نگران) کے طور پر ڈاکٹر اسلامی بھائیوں میں مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے کے لئے کوشاں ہوں ۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خواہش کے احترام میں یک مشت 12ماہ مَدَنی قافلے میں سفر کی بھی نیت کرچکاہوں  ۔ میری تمام اسلامی بھائیوں بالخصوص ڈاکٹر اسلامی بھائیوں سے مَدَنی التجاء ہے کہ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ، اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ   آپ کی زندگی میں مَدَنی انقلاب برپاہوجائے گا ، آپ کے دل کو وہ سکون ملے گا جو شاید پہلے کبھی نہ ملا ہو گا، گناہوں سے بچنے کا ذہن بنے گا اور گھر کا ماحول بھی مدینہ مدینہ ہوجائے گا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

انفِرادی کوشِش کی اَہمیّت

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا  نیکی کی دعوت کے کام میں اِنفرادی کوشش کا بڑا عمل دَخْل ہے، دعوتِ اسلامی کاتقریباً % 99 (ننانوے فیصد ) مَدَنی کام اِنفرادی کوشش کے ذَرِیعے ہی ممکن ہے، اکثر اِنفرادی کوشش([1]) اجتماعی کوشش([2])سے کہیں بڑھ کرمُؤَثِّر(مُ۔اَ۔ثْ۔ثِر) ثابت ہوتی ہے کیونکہ بارہا دیکھا جاتاہے کہ وہ اسلامی بھائی جو سالہا سال سے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کر رہا ہوتا ہے، اور دَورانِ بیان مختلف ترغیبات مَثَلاً پنجوَقْتہ با جماعت نَماز ،  رَمَضانُ المبارک کے روزے، عمامہ شریف، داڑھی مبارک ، زلفوں ، سفید مَدَنی لِباس ، روزانہ فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے مَدَنی انعامات  کا رسالہ پُر کرنے ، مَدَنی تربیتی کورس (63 دن ) ، مَدَنی قافلہ کورس (41دن) ، یکمشت 12 ماہ ، ,30 12 یا 3 دن کے مَدَنی قافلے میں سفر وغیرہ کا سن کر عملی جامہ پہنانے کی نیّتیں بھی کرلیتاہے مگر عملی قَدم اُٹھانے میں ناکام رہتاہے لیکن جب کوئی مبلغِ دعوتِ اسلامی اُس سے محبت کے ساتھ مُلاقات کرکے اِنفرادی کوشش کرتا اورنرمی و شفقت ، تدبیر و حکمت سے اِن اُمُور کی ترغیب دِلاتا ہے توبسا اوقات وہ عمل کرنے والابنتا چلاجاتا ہے  ۔ گویااِجتماعی کوشش کے ذَرِیعے لوہا گرم کیا جاتا اور اِنفرادی کوشش کے ذَرِیعے اُس پر مَدَنی چوٹ لگا کر اُسے مَدَنی سانچے میں ڈَھالا جاتا ہے۔یاد رکھئے!اجتماعی کوشش کے مقابلے میں اِنفرادی کوشش بے حد آسان ہے کیونکہ کثیر اسلامی بھائیوں کے سامنے ’’بیان‘‘ کرنے کی صلاحیّت ہر ایک میں نہیں ہوتی جبکہ اِنفرادی کوشش ہر ایک کر سکتاہے خواہ اُسے بیان کرنا نہ بھی آتا ہو۔انفرادی کوشِش کے ذَرِیعے خوب خوب نیکی کی دعوت دیجئے اور ثواب کا خزانہ لوٹئے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۵)سَفَرِمدینہ

        حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کو 1997میں شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ساتھ ’’چل مدینہ ‘‘ کے قافلے میں سفرِ حج نصیب ہوا ، اس قافلے میں مرحوم نگرانِ شوریٰ بلبلِ روضۂ رسول الحاج قاری ابو عُبید مشتاق احمد عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری بھی شامل تھے ۔اِس قافلۂ چل مدینہ میں شامل حیدرآباد کے ایک اسلامی بھائی محمد فاروق



     ایک کو الگ سے نیکی کی دعوت دینے(یعنی اسے سمجھانے)کو ’’انفرادی کوشش‘‘ کہتے ہیں۔[1]

2     سنّتوں بھرے اجتماع میں بیان کے ذریعے،مسجِد درس،چوک درس وغیرہ کے ذریعے مسلمانوں تک نیکی کی دعوت پہنچانے (یعنی انہیں سمجھانے ) کو ’’اجتماعی کوشش ‘‘کہتے ہیں۔



Total Pages: 51

Go To