Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

ان شاء اللہ دو جہاں میں اپنا بیڑا پار ہے

 فیضانِ مدنی انعامات جاری رہے گا اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

  (۶۲)مجھے مَدَنی ماحول کی بَرَکتیں نصیب ہوئیں

        مَدَنی چینل کے سلسلے ’’کھلے آنکھ صلِّ علیٰ کہتے کہتے‘‘میں حاجی زم زم رضا عطّاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کا اپنا بیان کچھ یوں ہے کہ آج کل بعض لوگوں میں یہ تَأَثُّر پایا جاتا ہے کہ ہم دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں جائیں گے تو دنیا سے کٹ کر رہ جائیں گے حالانکہ ہرگز ایسا نہیں ، میرا ذاتی تجرِبہ تو یہ ہے کہ میں نے انتہائی غُربت کے ماحول میں آنکھ کھولی تھی، حالت یہ تھی کہ ہم ایک ایسے مکان میں رہتے تھے جو دراصل ایک گُودام کا حصّہ تھا، اس کی ایک طرف ہمارے تایاکی فیملی اور دوسری طرف ہمارا گھرانا رہتا تھا۔غُربت کا یہ عالَم تھا کہ آج کے اس ترقّی یافتہ دور میں بھی ہمارے گھر میں بجلی نہ تھی، لالٹین سے کام چلاتے تھے۔والِد صاحِب گھر کے واحِد کفیل تھے ، کئی دَفْعہ گھر میں کھانا دستیاب نہ ہوتا اور فاقہ کرنا پڑتا۔ہمارے والِد صاحِب خود بھی رَمَضا ن کے روزے رکھتے اور ہم سے بھی رکھواتے تھے۔مجھے یاد ہے ایک دَفْعہ سخت گرمیوں میں ماہِ رَمَضان تشریف لایا، اُن دنوں آٹھ آنے(یعنی پچا س پیسے) یا چار آنے(یعنی پچیس پیسے) کی بَرْف آتی تھی لیکن ہمارے پاس اتنی گنجائش بھی   نہیں تھی کہ بَرْف لاکر ٹھنڈے پانی سے اِفطار کرسکیں ۔عید کا موقع آیا تو نہانے کیلئے صابن تک نہ تھااور برتن مانجھنے کے کالے صابن سے نہانے کی ترکیب ہوئی۔اسطرح میں نے شروع سے غربت کا ماحول پایالیکن جیسے ہی دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول نصیب ہوا، آپ یقین کریں ایسے غیبی اسباب ہوئے کہ میں خود آج تک حیران ہوں ۔ہم لوگ جو پہلے ڈھائی سو روپے کرائے والے مکان میں نہیں رہ سکتے تھے، کچھ ہی عرصے بعد اللہ   تَعَالٰی نے ایسے اسباب بنائے کہ بی سی (کمیٹی)وغیرہ کے ذریعے ہم نے تقریباًتین شادیاں نمٹائیں ، پھراللہ   تَعَالٰی نے ذاتی مکان بھی عطا فرمادیا ۔ پیشے کے اِعتبار سے میں ایک اسکول ٹیچر ہوں ۔مدنی ماحول سے پہلے میں نے تقریباً نو سال تک کوشِش کی کہ مجھے ملازَمت مل جائے لیکن کامیابی نہ ہوئی ۔ اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! ماحول میں آنے کے بعد مجھے گھر بیٹھے سرکاری ملازَمت مل گئی، اِس کیلئے خاص کوشش بھی نہیں کرنی پڑی۔چھوٹے بھائی کو بھی نوکری ملی، اس طرح اسباب بنتے چلے گئے اور سب سے بڑی بات یہ کہ مجھ جیسا شخص جو دوڈھائی سو روپے کِرائے کا مکان نہ لے سکے اُسے حج کی سعادت اور وہ بھی شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ساتھ ’’چل مدینہ‘‘کی صورت میں مل گئی، اِس پر تو میر ی نسلوں کو بھی فَخْررہے گا ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۳) پان والے پرانفرادی کوشش

        زم زم نگر حیدر آبادکے اسلامی بھائی محمد انیس عطّاری کا بیان ہے کہ تقریباً 20برس پہلے کی بات ہے ، حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے مکان کے قریب میری پان کی دکان تھی، یہ آتے جاتے مجھے دکھائی دیتے اور اچھّے لگتے تھے  ۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے ملاقات کی اور مَدَنی قافلے میں سفر کی دعوت پیش کی ، میں سمجھتا تھا کہ میری مصروفیات ایسی ہیں کہ میں مَدَنی قافلے میں ہرگز سفر نہیں کرسکتا ، چنانچِہ میں نے ان سے معذرت کی ، لیکن انہوں نے میرا ایسا ذہن بنایا کہ میں نے اپنی زندگی کے پہلے مَدَنی قافلے میں سفر اختیار کر لیا ، پھر تو راہیں کھل گئیں اور کئی سال تک میں ہرماہ تین دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کرتا رہا اور درسِ فیضانِ سنت، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت، صدائے مدینہ ، سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کے ذریعے مَدَنی ماحول کی برکتیں لُوٹتا رہا ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۴)  ڈاکٹر کی مدنی ماحول سے وابستگی

        زَم زَم نگر حیدر آباد کے علاقے لطیف آباد میں مقیم ، پاکستان سطح کی مجلسِ ڈاکٹرز کے نگران اسلامی بھائی ڈاکٹر نظام احمد عطّاری کا بیان اپنے الفاظ وانداز میں پیشِ خدمت ہے :  دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں بھی محض دُنیاوی مال ودولت کی محبت میں گُم تھا۔ڈاکٹر بننے میں میرا مقصد دُنیاوی عیش وآرام حاصل کرنا تھا ، میں نے اپنی آنکھوں میں بہت سے خواب سجا رکھے تھے کہ میں اسپیشلسٹ (Specialist) بنوں گا اور مشہور ہونے کے بعد اپنا بڑا اسپتال بناؤں گا اور خوب مال کماؤں گا جبکہ اُخروی تیاری کا یہ حال تھا کہ نمازوں کی پابندی تھی نہ گناہوں سے بچنے کا ذہن تھا ۔ رات دیر تک دوستوں کے ساتھ گپ شپ ، سگریٹیں پھونکنا میرا معمول تھا  ۔ زیادہ تر پینٹ شرٹ میں ملبوس رہتا ، چہرے پر داڑھی بھی نہ تھی  ۔ غصے کا اتنا تیز تھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپے سے باہر ہوجاتا اور گھروالوں سے بھی جھگڑتا رہتا  ۔ جب مَدَنی چینل نے اپنے سلسلوں کا آغاز کیا تومیں بھی کبھی کبھار مَدَنی چینل دیکھ لیا کرتا تھا۔میں حیدرآباد کے ایک اسپتال میں مریض دیکھنے کے لئے جایا کرتا تھا جو مدنی مرکز فیضانِ مدینہ (آفندی ٹاؤن)کے نزدیک تھا ۔میں عصر کی نماز پڑھنے فیضان مدینہ مسجد چلا جاتا ۔ایک دن میں نماز پڑھ کر نکل رہا تھا کہ صحن میں دعوتِ اسلامی کے ایک مبلغ مل گئے ۔انہوں نے بڑی شفقت اور محبت سے مجھے سلام کیا ، ان کا نورانی چہرہ دیکھ کر میں فوراً رُک گیا  ۔ انہوں نے بڑی محبت سے میرا نام پوچھا اور سفرِ آخرت کی تیاری کے حوالے سے انفرادی کوشش کی اورمجھے غوث پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا مُرید بننے کا مشورہ بھی دیااور اس کے فوائد بھی بتائے ۔ ان کے پیاربھرے اندازِ گفتگو سے میں بہت متاثرہوا اور اپنا نام شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مُرید بننے کے لئے پیش کردیا۔انہوں نے مزید مشورہ دیا کہ اپنے بچوں کو بھی بیعت کروادینا چاہئے ، میں نے خوشی خوشی اپنے چھوٹے بچوں کے نام بھی پیش کردئیے ۔ آخر میں انہوں نے مجھے مَدَنی چینل دیکھنے اوردعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت



Total Pages: 51

Go To