Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

آبادہماری تربیت کے لئے آئے تھے ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ ! ہمیں ان کی صحبت بابرکت نصیب ہوئی ، حاجی زمزم رضاعطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری واقعی مَدَنی انعامات کے تاجدار تھے، ان میں ایک خاص بات یہ دیکھی کہ ہمیشہ خود مَدَنی انعامات پر عمل کرتے اور اپنے رُفَقاء کو بھی خوب خوب عمل کی رغبت دلاتے اور ساتھ ہی ساتھ فرمایا کرتے کہ ہمیں یہ ذِہْن بنانا چاہیے کہ’’ یقینا میراہر عمل تیری نظروں سے قائم ہے‘‘پھر فرماتے ہم جو عمل کرتے ہیں وہ سب ہمارے پیرو مرشد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی نظرِ عنایت ہے ، یوں یہ مرشد کریم کی طرف سب کی توجُّہ بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! مَدَنی انعامات کے تاجدار سنتوں پر کافی مضبوطی کے ساتھ عمل کرتے تھے ، بار بار رغبت دلاتے کہ جب بھی تمہیں کوئی سنّت نظر آئے یا سنّت پر عمل کرنے کا کوئی آلہ نظر آئے یاجس چیز کے ذریعے تمہیں مَدَنی انعامات پر عمل نصیب ہوجائے تو اس کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کرو اور سُبْحٰنَ اللّٰہ!مَا شَآءَاللہ !مرحبا !کی صدائیں بلند کرو کہسُبْحٰنَ اللہ اس کے ذریعے مَدَنی انعامات پر عمل کریں گے اس کے ذریعے سنّت پر عمل کریں گے اور ہمیں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ   اس کا ثواب ملے گا  ۔ یوں وہ اپنے رُفَقاء کا مَدَنی انعامات پر عمل کا جذبہ بڑھایا کرتے تھے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۵۹)مَدَنی انعامات کے لئے انفِرادی کوشش

        جامِعاتُ المدینہ عطاری کابینات ( بابُ المدینہ کراچی )کے ذمّے دار مَدَنی اسلامی بھائی سیِّد محمد ساجِد عطاری کا بیان ہے :  اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! میں دَورِ طالِبِ علمی سے ہی’’ مَدَنی اِنعامات کی مجلس‘‘ میں بطورِ رُکْن شامل تھا اور حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی شفقتیں نصیب ہوتی رہتیں  ۔ جب میں فارغُ التَّحصیل ہوا تو مجھے جامِعاتُ المدینہ میں مختلف تنظیمی ذمّے داریاں دی گئیں ، جن کی بجاآوری میں مصروف ہوگیا اور مَدَنی انعامات کی مجلس میں خدمت کا سلسلہ موقوف ہوگیا  ۔ جب حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کا پہلا آپریشن ہوا اور کچھ دن اَسپتال رہنے کے بعد عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں ہمارے مکتب میں ہی تشریف فرما ہوئے ، تقریباً پندرہ دن کے بعد جیسے ہی ان کی طبیعت بحال ہوئی تو اُنہوں نے مجھ پر بھر پور’’ انفرادی کوشِش‘‘فرمائی کہ میں پھر سے مَدَنی اِنعامات کی مجلس میں فَعّال ہوجاؤں ، اگر چِہ دیگر تنظیمی مصروفیات کی وجہ سے میں ان کے حکم پر عمل نہ کرسکا مگر ان کی مَدَنی انعامات سے محبت نے دل میں گہرا اثر چھوڑا۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۰)مدنی انعامات کے رسائل تقسیم کررہے تھے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! محبوبِ عطارعَلَیْہِ رَحمَۃُاللہ الغفّاراپنی زندگی میں تو مَدَنی انعامات کی ترقی کے لئے کوشاں رہتے ہی تھے ، بعدِ وفات بھی خواب میں مَدَنی انعامات کے رسائل بانٹتے دیکھے گئے ، چنانچہ باب المدینہ(کراچی) کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے : ایک رات میں اپنے معمولات سے فارغ ہو کر سویا تو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ مرحوم حاجی زم زم رضا عطاری میرے سامنے تشریف فرما ہیں ۔انہوں نے کچھ اس طرح فرمایا کہ سرکارِ مدینہ، سُرورِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مریدین کے لیے مدنی انعامات کے رسائل عطا فرمائے ہیں اور مجھے حکم ارشاد فرمایا ہے کہ انہیں تقسیم کر دو، (پھر ایک رسالہ مجھے بھی عطاکرتے ہوئے فرمایا : ) یہ آپ بھی لے لیجئے۔

 فیضانِ مدنی انعامات جاری رہے گا اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ 

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۱) سرسبز وشاداب باغ

         ’’پاک مجلس مدنی انعامات‘‘کے رُکن کا بیان اپنے الفاظ وانداز میں پیش خدمت ہے کہ ’’میں مرحوم نگران شوریٰ حاجی ابوعبید، محمدمشتاق عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے وصال کے بعد مدنی ماحول میں آیا۔اسلامی بھائیوں سے حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے تقویٰ اور پرہیز گاری اور اِطاعتِ مرشد کے بارے میں سنتا تو دل میں سے ایک آہ! نکلتی کہ اے کاش! میں اپنی زندگی میں حاجی مشتاق عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِجیسے مُریدِ کامل کی زِیارت سے مشرَّف ہوتا۔بہرحال میں تنظیمی طور پر مختلف ذمہ داریوں پر کام کرتا رہا، تادمِ بیان میں رکن مجلس مدنی انعامات پاک صدیقی کابینات کی حیثیت سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کام میں مصروف عمل ہوں ۔ اس ذمہ داری پر مجھے کام کرتے ہوئے چند ماہ ہوگئے ہیں ۔محبوبِ عطار، رکنِ شوریٰ حاجی زم زم عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی بہت ہی کم صحبت پائی ۔ چند مدنی مشوروں میں ان کی صحبت سے فیض یاب ہو پایا۔ان کی وفات کے بعد یہ دلی خواہش تھی کہ مجھے کسی طرح ان کے احوال معلوم ہوجائیں ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ !۱۶ربیع النور۱۴۳۴ھ بمطابق 16جنوری 2013ء کو رات خواب میں حاجی زم زم عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتشریف لے آئے ۔ کیا دیکھتا ہوں کہ مرحوم رکن شوریٰ حاجی زم زم عطاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِایک خوشنما باغ میں پھولوں سے سجی ہوئی سیج پر تشریف فرما ہیں اور کچھ تحریر فرما رہے ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ حاجی صاحب کیا تحریر فرما رہے ہیں ؟ تو ارشاد فرمایا : ’’ بیٹا! (وہ مجھے زندگی میں بیٹا کہہ کر ہی بلاتے تھے) فکرِ مدینہ کر رہا ہوں ۔‘‘میں نے پوچھا : ’’ حاجی صاحب! آپ کو دنیا سے رخصت ہونے کے بعد یہ مقام اور مرتبہ کیسے ملا اور یہ خوشنما باغ کس کا ہے؟ تو ارشاد فرمایا :  یہ مقام اور مرتبہ مدنی انعامات پر عمل کرنے کی وجہ سے ہے اوریہ باغ مجھے مدنی انعامات پر عمل کرنے کی بدولتاللہ تَعَالٰی کی طرف سے انعام میں ملا ہے ۔ ‘‘پھر ایک سرد آہ! بھرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ کاش! میرے پیر(یعنی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ ) کا ہر مرید 72مدنی انعامات کا عامل بن جائے ۔ اس کے بعد مجھے مدنی انعامات پر عمل کی ترغیب دینے لگے۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور وہ سہانا منظر یاد کرکے میں خوشی سے جُھومنے لگا ۔

ہم کو عطار اور محبوبِ عطار سے پیار ہے

 



Total Pages: 51

Go To