Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

رِقّت انگیز دُعا کے بعد میں نے گھر پرفون کیا تو میری امّی جان نے فرمایا : مبارَک ہو!گزَشتہ رات ربِّ کائنات عَزَّ وَجَلَّ  نے بِغیر آپریشن کے تمہیں چاند سی مَدَنی مُنّی عطا فرمائی ہے۔میں نے خوشی سے جُھومتے ہوئے عرض کی : امّی جان!میرے لئے کیا حکم ہے؟آ جاؤں یا30 دن کیلئے مَدَنی قافِلے کا مسافِر بنوں ؟ امّی جان نے فرمایا :  بیٹا ! بے فِکْر ہو کر مَدَنی قافِلے میں سفر کرو۔اپنی مَدَنی مُنّی کی زیارت کی حسرت دل میں دبائے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں 30دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ روانہ ہوگیا۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ  مَدَنی قافِلے میں سفر کی نیّت کی بَرَکت سے میری مُشکِل آسان ہو گئی تھی، مَدَنی قافِلوں کی بہاروں کی بَرَکت کے سبب گھر والوں کا بَہُت زبردست مَدَنی ذِہن بن گیا، حتّٰی کہ میرے بچوں کی امّی کا کہنا ہے، جب آپ مَدَنی قافِلے کے مسافِر ہوتے ہیں میں بچّوں سمیت اپنے آپ کو محفوظ تصوُّر کرتی ہوں ۔

زچگی  آسان ہو، خوب  فیضان ہو    غم کے سائے ڈھلیں ، قافِلے میں چلو

بیوی بچّے سبھی، خوب پائیں خوشی     خیریت  سے  رہیں ، قافِلے  میں چلو

(اسلامی بہنوں کی نماز، ص۲۹۲  بتغیر قلیل)

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۵۶) قَبْر کا تصوُّر

        زم زم نگر حیدر آبادکے اسلامی بھائی محمد انیس عطّاری کا بیان کچھ یوں ہے :     

 بہت عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک مرتبہ ہم چند اسلامی بھائی حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے ہمراہ کہیں سے واپَس آرہے تھے ، ایک جگہ پہنچے تو دیکھا کہ بڑی پائپ لائن بچھانے کے لئے لمبائی میں کھدائی کی گئی تھی ، حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے فرمایاکہ چلواس جگہ لیٹ کر خود کو قبر میں گمان کرتے ہیں اور فکرِ آخرت کرتے ہیں ، چنانچِہ سارے اسلامی بھائیوں نے گڑھے میں لیٹ کر قبر کے بارے میں ’’ فکرِ آخرت‘‘ کرنے کی سعادت پائی ۔

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایسا کرنا ہمارے اسلاف سے بھی ثابت ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ربیع بن خیثم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرمنے اپنے گھر میں قبر کھودی اور جب بھی اپنے دل میں سختی محسو س کرتے تو قبر میں اُتر جاتے اور صبح تک قبر کے احوال اور قیامت کی مشکلات میں غور وفکر کرتے ۔ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس میں اُترے اور باربار اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ     کایہ فرمان پڑھتے رہے :

قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ(۹۹) لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا (پ۱۸، المؤمنون : ۹۹، ۱۰۰)

ترجمۂ کنزالایمان : تو کہتا ہے اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں ۔

پھرفرمایا : اے ربیع! ہم نے تجھے لَوٹا یا اور اب تو دنیا میں ہے نماز کے لئے اٹھ ، یہ فرماکر نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ (تنبیہ المغترین ص ۲۸۸)             

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۵۷) گناہوں سے بچنے کا ذِہْن دیا کرتے

        زم زم نگر (حیدر آباد) کے اسلامی بھائی محمد نعیم عطاری کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریکی ایک خاص بات جو مجھے ان کی صُحبت سے ملی وہ یہ تھی کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاکثر وبیشتر فرمایا کرتے تھے : ’’ کوشش کیجئے کہ کبھی بھی گناہ سَرزَد نہ ہو، اس کی بَرَکت سے نیکی کرنے کا موقع ملتا رہے گا ۔‘‘حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہ الباری اتنے نیک ہونے کے باوُجُود فرماتے تھے ’’بھائی! میرا حال بہت بُرا ہے ، بڑی بدحالی ہے، نیکیاں پاس نہیں اور گناہوں کا سلسلہ ہے، میں اس حالت میں مرنا نہیں چاہتا، میں چاہتا ہوں کہ جب نیک بن جاؤں تب مجھے موت آئے ۔‘‘یہ آپ کی عاجِزی تھی، نیز اسلامی بھائیوں سے بار باران الفاظ میں مُعافی مانگنا کہ’’مجھے مُعاف کردینا ‘‘یہ آپ کی عادت بن چکا تھا۔اللہ  تَعَالٰی ہمیں ان کے صدقے نیک بنا دے اور بلا حساب مغفرت فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد  

پچیسویں اورچھبیسویں کی بَہاریں

(محبت ِمُرشِد بڑھانے کا نُسخہ)

        مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباریکی  شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے محبت مثالی تھی اور ان کی صحبت کی برکت سے اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت، پروانۂ شمعِ رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّانسے بھی بے انتہا عقیدت رکھتے تھے ، ان دونوں ہستیوں کی یاد ہر ماہ منانے کے لئے حاجی زم زم  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک پرچہ بھی مرتب کیا تھا جس میں عبادت ، فکرِ آخرت اور دعوتِ اسلامی کے بہت سے مَدَنی کاموں کی ترغیب موجود ہے ، یہ مضمون ذیل میں پڑھئے اورجُھومئے :

       اَ لْحَمْدُ للّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  25اور26تاریخ کو عالمِ اسلام کی دو عظیم ہستیوں اعلیٰ حضرت، امامِ اَہلسنّت ، عظیمُ البَرَکت، عظیم المرتبت، مُجَدِّدِ دین و ملت، حضرت علامہ مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان قادِری



Total Pages: 51

Go To