Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

لکھ رہے ہیں ، پھر اپنے گھر کو بھی وَقْت دے رہے ہیں ، اپنے بچّوں کی تربیت بھی کررہے ہیں ، جب بابُ المدینہ کراچی جاتے تو وہاں بھی شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بارگاہ میں حاضِر ہونے کے ساتھ ساتھ کبھی کسی مَدَنی مشورے میں شرکت کررہے ہیں ، کبھی کسی پر انفِرادی کوشِش کررہے ہیں ، کبھی فون پر کسی پریشان حال کی غم خواری کررہے ہیں ، کبھی کسی جگہ بیان کے لئے جارہے ہیں ، کبھی سحری اجتماع میں شریک ہورہے ہیں ، پھر شہزادۂ عطّار حضرت مولاناالحاج ابواُسَید عُبیدرضا عطاری مَدَنی  مدظلہ العالی کی صحبتِ بابرکت بھی پارہے ہیں ، المدینۃ العلمیۃ میں تحریری کام کے تعلُّق سے وَقْت دے رہے ہیں ، الغرض یہ اپنے وَقْت کو ضائع نہیں کرتے تھے  ۔ ان کے وصال کے بعد مختلف اسلامی بھائی مجھے فون کررہے ہیں ، smsکررہے ہیں کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری ہمیں فُلاں فُلاں کام کے لئے وَقْت دیتے تھے، وہ تو دنیاسے رخصت ہوچکے اب آپ وقت دے دیں ، میں حیران وپریشان ہوں کہ اتنے سارے کام یہ اکیلے کس طرح کرلیتے تھے !مجھ سے تو اپنے حصّے کے کام بھی مکمَّل نہیں ہوپارہے ، اب مزید ان کے حصّے کے کام میں کیونکر کر پاؤں گا !اللہ  تَعَالٰی مجھے ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے  ۔ بہرحال اللہ  تَعَالٰی نے ان کے وَقْت میں ایسی برکت عطافرمائی تھی کہ یہ کم وَقْت میں زیادہ کام کرلیا کرتے تھے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۵۲) اسکول کے اوقات میں رابطہ نہ فرمائیں

        حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری ایک پرائمری اسکول میں ٹیچرتھے  ۔ مبلغ دعوت اسلامی ورکن شوریٰ حاجی ابو ماجد محمد شاہد عطاری المدنی مدظلہ العالی کا بیان ہے کہ انہوں نے مجھے اور دیگر کئی اسلامی بھائیوں کوکچھ اس طرح s.m.s کیا :  ’’ آپ مجھ سے اسکول کے اوقات کے علاوہ رابِطہ فرمائیں کیونکہ میرا ان سے اِجارہ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ فون پر میری گفتگو عرف وعادت سے زائد ہوجائے اور آخِرت میں میری گِرِفْت ہوجائے ۔‘‘

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مرحوم حاجی زم زم رضا عطاری کایہ خوف بِالکل بجا تھا اور ہر ملازِم کو ان کی پیروی کرنی چاہئے۔اس ضمن میں مدنی التجاہے کہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ22 صَفحات پر مشتمل رسالے ’’حلال طریقے سے کمانے کے50مدنی پھول‘‘کا مطالعہ فرمالیجئے۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۵۳) مَدَنی قافِلے میں سفر کا شوق

        حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے بچّوں کی امّی کا بیان ہے کہ آپ مَدَنی قافِلے میں سفر کا بَہُت شوق رکھتے تھے ، آپ اسکول ٹیچر تھے، سالہا سال یہ معمول رہا کہ جیسے ہی اسکول میں چُھٹّیاں ہوتیں تو دوماہ مَدَنی قافِلوں میں سفر کیا کرتے تھے حتّٰی کہ جس سال اپریل میں شادی ہوئی اُس سال بھی(شادی کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد) جُون جولائی کی چُھٹّیاں ہوتے ہی مَدَنی قافِلے کے مسافِربن گئے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۵۴) زم زم بھائی گِلگِت والے

        مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکن شوریٰ، حاجی ابو رضا محمد علی عطاری مدظلہ العالی کا بیان کچھ یوں ہے کہ گرمیوں کی جون جولائی کی چُھٹّیوں میں یہ چھ یا سات برس تک 63دن کے مَدَنی قافلے میں حیدرآباد سے گِلگت (بلتستان)اور اس کے اطراف کے دشوار گزار پہاڑی عَلاقے میں سفر کرتے رہے ہیں جبکہ ان دنوں وہاں شدید سردی ہوتی تھی ، اُس دَوران جِیپوں پرخطرناک راستوں سے گزرتے، بعض اوقات ایک عَلاقے سے دوسرے عَلاقے میں پیدل بھی تشریف لے جاتے ، اس دَوران پہاڑوں پر چڑھنا پڑتا تو دراز گوشوں (گَدھوں )پر زادِ قافِلہ لاد کر خود پیدل چلا کرتے تھے ۔گِلگِت کے مَدَنی قافِلوں میں بار بار کے سفر کی وجہ سے یہ’’ زم زم بھائی گلگت والے ‘‘ مشہور ہوگئے تھے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۵۵) مَدَنی قافِلے میں حاجی زم زم کی مَدَنی بہار

         مَدَنی انعامات کے تاجدار، محبوبِ عطار، مبلغ دعوتِ اسلامی ورکن شوریٰ حاجی ابو جنید زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے بیان کا لُبِّ لُباب ہے : غالباً 1998 ء کا واقِعہ ہے، میری اہلیہ امّید سے تھیں ، دن بھی ’’پورے‘‘ہو گئے تھے ۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ شاید آپریشن کرنا پڑیگا۔تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کا بینَ الاقوامی تین روزہ سنّتوں بھرا اجتِماع (صحرائے مدینہ ملتان) قریب تھا  ۔ اجتِماع کے بعد سنّتوں کی تربیت کے30دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کے ہمراہ سفر کی میری نیّت تھی ۔اجتِماع کیلئے روانگی کے وَقْت، زادِ قافِلہ ساتھ لیکر اَسپتال پہنچا ، چونکہ خاندان کے دیگر افراد تعاون کیلئے موجود تھے، اہلیہ مُحترمہ نے اشکبار آنکھوں سے مجھے سنّتوں بھرے اجتِماع ( مدینۃ الاولیا ء ملتان)کیلئے الوَداع کیا ۔

        میرا ذِہْن یہ بنا ہوا تھا کہ اب تو مجھے بینَ الاقوامی سنّتوں بھرے اجتِماع اور پھر وہاں سے 30دن کے مَدَنی قافِلے میں ضَرور سفر کرنا ہے کاش!اس کی بَرَکت سے عافیت کے ساتھ وِلادت ہو جائے ۔ مجھ غریب کے پاس تو آپریشن کے اَخراجات بھی نہیں تھے!بَہَر حال میں مدینۃ الاولیا ملتان شریف حاضِر ہو گیا ۔ سنّتوں بھرے اجتِماع میں خوب گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں ۔ اجتماع کی اِختِتامی



Total Pages: 51

Go To