Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

سلام کرکے قدم بوسی کرنے کے بعد دیگر کام کرتا ہوں یہاں تک کہ گھر داخل ہوتے ہی گھر کے افراد سے پہلا سُوال یہ کرتا ہوں کہ ’’ امّی کہاں ہیں ؟‘‘ وہ جہاں بتائیں فوراً ان کی خدمت میں حاضِری دے کر پھر دیگر افراد سے ملتا ہوں۔

(۷) والدہ کی قدم بوسی کی مُنفرِد حکایت

          حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباریکے والد صاحب توان کے بچپن میں ہی وفات پاچکے تھے البتہ والدۂ محترمہ حیات تھیں۔ مبلغِ دعوتِ اسلامی محمد اجمل عطاری (مرکز الاولیاء لاہور) کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری نے تحدیثِ نعمت کے طور پر ایک بار بتایا کہ جب مجھے سفرِ حج پر جانا تھا اور تقریباً ڈیڑھ مہینا گھر سے باہَر رہنا تھا تو میں نے گھر سے روانہ ہونے سے پہلے ایڈوانس میں پچاس ساٹھ مرتبہ والدہ کے قدم اس طرح چُومے کہ وہ سیڑھیوں میں بیٹھی تھیں اور میں ان کے قدم چومتا رہا۔ جب بابُ المدینہ باپا جان کی خدمت میں حاضری ہوئی اورآپ کو یہ بات پتا چلی تو بہت ہی زیادہ شفقت و خوشی کا اظہار فرمایا۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

روزانہ جنَّت کی چوکھٹ چومئے

          جن خوش نصیبوں کے ماں باپ زندہ ہیں اُن کو چاہیے کہ روزانہ کم از کم ایک

 



Total Pages: 208

Go To