Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

حیران رہ گئے اور کہنے لگے کہ اب آپریشن کی ضَرورت نہیں بچہ دواؤں سے ہی صحّت یاب ہوجائے گا ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ  عَزَّ وَجَلَّ ! میرا بیٹا دواؤں اور حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہ الباری کی دعاؤں کی بَرَکت سے صحّت یاب ہوگیا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

دعائے معروف کَرْخِی کی برکت

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ کے نیک بندوں کی دعائیں مل جائیں تو انسان کا بیڑا پار ہوجاتا ہے ، چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ابو سلیمان رُوْمِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُناخلیل صیّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد کو یہ کہتے ہوئے سنا :  ایک مرتبہ میرا بیٹا شہر سے باہر کھیتوں کی طرف گیا اورگم ہوگیا ، خوب ڈھونڈا لیکن کہیں نہ ملا، بیٹے کی جدائی پر اس کی ماں غم سے نڈھال ہوگئی ۔ میں حضرت سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی :  اے ابو محفوظ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہ! میرابیٹا لاپتہ ہوگیا ہے ۔ اس کی والدہ بیٹے کی جدائی میں غم سے ہَلکان ہوئی جارہی ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے فرمایا :  اب تم کیا چاہتے ہو؟میں نے کہا :  حضور! دعا فرمائیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہمارے بیٹے کو ہم سے ملوادے ۔ یہ سن کر ولی ٔکامل، مقبولِ بارگاہِ خداوندی، حضرت سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اوراس طرح التجا کی : ’’اے میرے پرورد گار  عَزَّ وَجَلَّ  ! بے شک تمام آسمان تیرے ہیں ، زمین تیری ہے اورجو کچھ بھی ان کے درمیان ہے سب کا مالک وخالق توہی ہے ۔ میرے مالک! ان کا بچہ انہیں لوٹا دے۔‘‘حضرت سیِّدُنا خلیل صیّاد علیہ رحمۃ اللہ الجواد کہتے ہیں :  پھر میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی اجازت سے شہر کے دروازے پر آیا تو اپنے بیٹے کو وہاں موجود پایا اس کا سانس پھول رہا تھا  ۔ میں نے جب اپنے بیٹے کو دیکھاتو فرطِ محبت سے پکارا :  اے محمد! اے میرے بیٹے! میری آواز سن کر وہ میری طرف لپکا ۔ میں نے اسے سینے سے لگا کرپوچھا :  میرے لختِ جگرتم کہاں تھے؟ کہا :  ابا جان میں گندم کے کھیتوں میں مارا مارا پھر رہا تھاکہ اچانک یہاں پہنچ گیا ۔ میں اپنے بچے کو لے کر خوشی خوشی گھرکی طرف چل دیا ۔ یہ حضرت سیِّدُنا مَعْرُوف کَرْخِی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی دعا کی برکت تھی کہ مجھے میرا بیٹا مل گیا۔(عیون الحکایات، الحکایۃ الحادیۃ عشرۃ بعد الثلاثمائۃ ، ص۲۷۸ماخوذاً)

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ نیک لوگوں کی دعاؤں سے مصیبتیں کیسے ٹلتی اور غم دور ہوتے ہیں ۔ اللہ کریم اپنے بندوں پر ہر آن کرم کی بارش برسارہا ہے جو چاہے اس بارانِ رحمت میں نہا لے ۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہمیں اپنے اولیاء کرام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطافرمائے اور ان کی برکت سے ہمارے مصائب وآلام دُور فرمائے ۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم             ؎ 

دعائے ولی میں یہ تاثیر دیکھی          بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

مال سے بے رغبتی

        رکن شوریٰ حاجی ابو رضا محمد علی عطاری مدظلہ العالی کا بیان کچھ یوں ہے : حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہ الباری کے حُسنِ اَخلاق کی بدولت کیا غریب کیا امیر! سبھی ان کے گِروِیدہ تھے ، بڑے بڑے سیٹھ ان سے رابِطے میں رہتے تھے ، یہ ان پر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کیلئے عطیات کے تعلُّق سے انفِرادی کوشش تو کیا کرتے مگر اپنی ذات کے لئے ’’ترکیبیں ‘‘ نہ فرماتے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

ذاتی سُواری نہیں تھی

        انہی رُکنِ شوریٰ کا بیان کچھ یوں ہے : ان کو موٹر سائیکل مکمَّل طور پر چلانا نہیں آتی تھی اور نہ ہی کار ڈرائیونگ آتی تھی مگر یہ رِکشے، تانگے اور کسی اسلامی بھائی کے ساتھ موٹرسائیکل پر مختلف عَلاقوں میں مَدَنی کاموں کے لئے جایا کرتے تھے  ۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی کسی سے بیان وغیرہ کے لئے سُواری کا مطالبہ کیا ہو کہ سُواری بھیجو گے تو آپ کے عَلاقے میں آؤں گا۔اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

کسی کا احسان کیوں اٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتائیں

تمہیں سے مانگیں گے تم ہی دو گے تمہارے دَر سے ہی لو لگی ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

مَدَنی کاموں میں مصروفیت

        رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری مدظلہ العالی کا بیان کچھ یوں ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباریدعوتِ اسلامی کے مختلف مَدَنی کاموں میں از خود مصروف رہا کرتے تھے ، کسی کے کہنے یا حوصلہ افزائی کا انتِظار نہیں کیا کرتے تھے ۔کبھی مَدَنی مشورے کے لئے جارہے ہیں تو کبھی علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت کے لئے ، کبھی کسی مریض کی عیادت کرنے یاکبھی میّت کی تعزیت کیلئے اس کے گھر جارہے ہیں ، توکبھی کسی کے جنازے میں شرکت کے لئے جارہے ہیں ، کبھی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ حیدر آباد میں طلبہ میں بیان کررہے ہیں توکبھی ان کی تربیت فرما رہے ہیں ، انہیں مَدَنی قافلوں میں سفر، مَدَنی انعامات پر عمل اور دعوتِ اسلامی کے دیگر مَدَنی کاموں کا جذبہ دِلا رہے ہیں ۔کبھی مَدَنی بہاریں مُرتَّب کررہے ہیں تو کبھی کسی موضوع پر کوئی رسالہ



Total Pages: 51

Go To