Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

سیِّدُنا  سُفْیان بن عُیَیْنَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا قولِ مبارَک  ہے :  ’’عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُ یعنی نیک لوگوں کے ذِکر کے وَقْت رحمت نازل ہوتی ہے۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء، ۷/ ۳۳۵، الرقم۱۰۷۵۰)

بے شمار اسلامی بھائیوں کا حسنِ ظن ہے کہ حاجی زَم زَم رَضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نیک اورمتَّقی مسلمان اور دعوتِ اسلامی کے مخلص مبلّغ تھے ، آئیے اچھّی اچھّی نیَّتوں کے ساتھ ان کا ذکرِخیر کرتے ہیں ۔

محبوبِ عطار کی ولادت ورِحْلت

        مبلغِ دعوتِ اسلامی ورُکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی ابو جُنیدزَم زَم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الباری10 ستمبر1965ء(بمطابق ۱۴ جُمَادَی الْاُوْلٰی ۱۳۸۵ھ) میں حیدر آباد (باب الاسلام سندھ)میں پیدا ہوئے ۔۶رَجَبُ الْمُرَجَّب ۱۴۰۵ھ (بمطابق 28مارچ 1985ء ) میں کم وبیش 20 سال کی عمر میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوئے اورشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ہاتھ پر بیعت کرکے قُطبِ ربّانی ، غوثِ صمدانی، قندیلِ نورانی حضور سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی کے غلاموں میں شامل ہوگئے ۔کچھ عرصے کے لئے مَدَنی ماحول سے دُوری رہی پھر ایک اسلامی بھائی کی اِنفرادی کوشش کے نتیجے میں کم وبیش پانچ سال بعد تقریباً ۱۴۰۹ھ بمطابق 1989میں دعوتِ اسلامی سے دوبارہ وابَستہ ہوئے اور اس مَدَنی تحریک کا مَدَنی کام کرنا شروع کیا ۔پہلے ان کا نام ’’جاوید ‘‘ تھا ،  مگر شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے ان کا نام ’’محمد‘‘ اور پکارنے والا نام ’’زَم زَم رضا ‘‘  رکھا تھاجبکہ ان کی کنیت ابو جُنید تھی  ۔ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری ترقّی کرتے کرتے ۱۵ رَمَضانُ المبارَک۱۴۲۵ھ بمطابق 30اکتوبر2004ء کو دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رُکن بن گئے اورسالہا سال تک مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچائیں ، پھرمِعدے کے مَرَض میں مبتَلاہوئے اور طویل عَلالت کے بعدہِجری سن کے اعتبار سے تقریباً48سال6ماہ8دن اس دنیائے فانی میں گزارنے کے بعد۲۱ ذوالقعدہ ۱۴۳۳ھ بمطابق8اکتوبر2012ء کو پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً 11بج کر 45منٹ پرباب المدینہ کراچی میں انتِقال فرما گئے  ۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

نکاح واولاد

        مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کی اپنے وصال سے کم وبیش 21برس پہلے بابُ الاسلام پاکستان کے مشہور شہرحیدر آبادمیں شادی ہوئی، دوبیٹیاں تھیں جن کی انہوں نے اپنی زندگی میں شادی کردی تھی ، جبکہ تقریباً15سال کا بڑا شہزادہ بوَقْتِ وفات جامعۃ المدینہ(حیدر آباد)میں دَرَجۂ ثالِثہ کا طالبُ العلم تھا ، دوسرا بیٹا آٹھ سال اور تیسرا بیٹا پانچ سال کا تھا ۔ حاجی زَم زَم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرمکے بچوں کی امی نے اپنے تینوں بیٹوں کو وقفِ مدینہ(یعنی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کے لئے عمر بھر کے لئے وَقْف) کردیا ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

کچھ لوگوں کا دین کے لئے وقف ہونا ضروری ہے

        مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان ’’تفسیرِ نعیمی‘‘ میں پارہ3، سورۂ آل عمران :  35، 36 کے تحت فرماتے ہیں : کُچھ لوگوں کا ا پنے آپ کو دِین کے لئے وَقْف کر دینا ضروری ہے اگر سبھی لوگ دُنیا میں مشغول ہو جائیں تو دین کیسے قائم رہے گا؟کاش!مسلمان اس سے عِبرت پکڑیں اور اپنی بعض اولاد کو خدمتِ دین کے لئے بچپن ہی سے ان کی دینی تربیّت کر کے وَقْف کر دیں ۔یاد رکھئے!ہماری عِزّت دین سے ہے۔اگر ہم اپنی بقاء چاہتے ہیں تو ایسے لوگ زیادہ بنائیں ۔ (تفسیرِ نعیمی ۳ / ۳۷۵ ملخصًا)مفتی صاحب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ہایک اور مقام پر لکھتے ہیں : ’’زندگی ہر شخص کی گزرتی ہے مگربہترین زندگی وہ ہے جو ربّ تبارک و تَعَالٰی کے لئے وقف ہو جائے۔اللہ  تَعَالٰی نے ایسے ہی لوگوں کے لئے صَدَقات کا خُصوصی حکم دیاجو اپنی زندگیاللہ تَعَالٰی کے لئے وقف کر چکے ہیں ۔‘‘(تفسیر نعیمی ۳ / ۱۳۴ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

خِدمتِ دین کے لئے وقف ہونے والے کی عظمت

         مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان  مزیدفرماتے ہیں : ’’اگر زمین مسجد کے لئے وَقْف ہو جائے تو اُس کی شان و عظمت بڑھ جاتی ہے، اَصحابِ کہف کے کُتّے نے اپنی زندگیاللہ تَعَالٰی کے پیاروں کے لئے وَقْف کر دی تو اُسے حیاتِ جاودانی مل گئی، زمین اور کُتّا زندگی وقف کرنے کی وجہ سے شان والے ہو گئے تو اگر انسان اپنی زندگیاللہ تَعَالٰی کی رِضا و خوشنودی کے حُصُو ل کی خاطِر دِین کے لئے وقف کر دے تو اِنْ شَآءَاللہ  عَزَّ وَجَلَّ   فِرِشتوں سے بھی افضل ہو جائے گا۔‘‘(تفسیرِ نعیمی ۳/ ۱۳۴ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !  صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱)  تربیتِ اولاد

        حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کے بچّوں کی امّی کا بیان کچھ یوں ہے کہ مرحوم اپنی اولاد سے بَہُت پیار کرتے تھے ، بیٹیاں گھر آتیں توگُوناگُوں مصروفیات کے باوُجُود ان سے ملنے گھر آتے تھے  ۔ گھر میں جب کسی کی غَلَطی کی اِصلاح کرتے ہوئے لہجہ تھوڑا سخت کرتے تو ساتھ میں وضاحت بھی کردیتے کہ ’’میں آخِرت میں نَجات اور آپ لوگوں کے فائدے کے لئے سمجھا رہا ہوں ۔‘‘کھانا کھاتے وَقْت بچوں کے ذریعے دعائیں پڑھواتے اور سنّت کے مطابق کھانا کھانے کی ترکیب کیا کرتے ۔حتَّی الامکان بیٹوں کو نماز کے لئے ساتھ لے جایا کرتے ، مَدَنی قافلے میں سفر کے لئے جاتے تو نماز کی تاکید کرکے جاتے اور سفر کے دوران بھی S.M.S. کے ذَرِیعے معلومات کرتے کہ نماز ادا کرلی ہے یا نہیں ؟ بیماری کی حالت میں بھی اپنے بڑے شہزادے سے فرمایا



Total Pages: 51

Go To