Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

ملاقات کے جَدْوَل میں ، اِسی طرح جب سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت ہوتی اُس وَقْت بھی یہ میرے ساتھ ہوتے تھے، ان کی وجہ سے مجھے کافی آسانی ہوگئی تھی، بعض اوقات یہ مجھے smsکرتے تھے کہ آپ ذمّے داران کو یہsmsکردیں تو اِس کی اہمیت بڑھ جائے گی،پھر میں بعض ذمہ داران کواپنے نمبر سے فاروڈ کرتا تھا۔ یہ اپنا نام نہیں فقط مدنی کام چاہتے تھے کہ بس جس طرح میرے مرشد چاہتے ہیں اس طرح کام ہونا چاہیے۔اللہتعالیٰ حاجی زمزم کی مغفِرت فرمائے۔اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اراکینِ شوریٰ کے تَأَثُّرات

           حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری کے وِصال کے وقت حسنِ اتفاق سے کئی اراکینِ شوریٰ باب المدینہ میں موجود تھے کیوں کہ ان کے مدنی مشورے چل رہے تھے ۔چنانچِہ مدنی مشورے میں مختلف زاویوں سے محبوبِ عطار رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہکا خوب ذکرِ خیر ہوا ،اراکینِ شوریٰ نے ان کے بارے میں مختصرطور پر جو تأثُّرات دئیے وہ یہ تھے کہ* حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری مُتَحمِّل مزاج و ہمدردتھے * ان میں خیر خواہی کا جذبہ تھا*  سمجھانے کاانداز جارِحانہ نہیں بلکہ نرم ہوتا تھا * بالخصوص اپنے شہر حیدر آباد کی بُزُرگ شخصیَّت تھے * عوام سے گھلنے ملنے والے تھے *عام شخص کا فون بھی رِسیو کرلیتے تھے*   فون پر بھی غم خواری کیا کرتے تھے


 

 



Total Pages: 208

Go To