Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

(سنن ابی داوٗد، کتاب الجنائز، باب الامراض۔۔الخ، ۳/ ۲۴۶، الحدیث ۳۰۹۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۵) پریشان نہ ہونے دیا

        مرکزالاولیاء (لاہور)کے اسلامی بھائی محمد احتشام کا بیان ہے کہ ہماری رَمَضان المبارک میں حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کی عیادت کیلئے حاضری ہوئی تھی ۔ آپ شدید تکلیف میں تھے ، ٹھیک سے بیٹھ یا لیٹ بھی نہیں پارہے تھے ۔اتنے میں آپ کے گھر سے فون آگیا ۔ آپ نے سنبھل کر اپنے گھر والوں سے بہت اطمینان سے بات کی اور انہیں تسلی دی ۔بعد میں ہم سے فرمانے لگے کہ میں اگر اپنے گھروالوں سے اس طرح بات نہ کروں تو وہ مزید پریشان ہوجائیں گے ۔ پھر ہمیں قفلِ مدینہ لگانے اور لکھ کر گفتگو کرنے کے حوالے سے مَدَنی پھول ارشاد فرمائے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۶) بیماری میں بھی خوش اخلاق رہے

        حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباریکے بچوں کی امی کا بیان ہے کہ بیماری میں بسا اوقات انسان میں چڑچڑا پن آجاتا ہے مگر شدید تکلیف میں بھی ان کے مزاج میں ذرا بھی چڑچڑا پن دکھائی نہیں دیتا تھا ۔اَسپتال کے عملے والوں سے بھی مسکرا مسکرا کر بات کرتے تھے اور بارہا ان سے کہتے : آپ میرا بَہُت خیال رکھتے ہیں ، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   آپ کو جزائے خیر عطافرمائے  ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

 مُسکرا کربات کرناسنّت ہے      

         دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 74 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’ حُسنِ اَخلاق‘‘ صَفْحَہ 15پر ہے : حضرتِ سیِّدَتُنااُمِّ دَرداء َضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا

حضرتِ سیِّدُناابو دَردا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مُتَعَلِّق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مُسکرا کر کیا کرتے ، جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا : ’’ میں نے حُسنِ اخلاق کے پیکر، ملنساروں کے رہبر ، غمزدوں کے یاوَر، محبوبِ ربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دَورانِ گفتگو مسکراتے رہتے تھے ۔‘‘       

 ( مکارِمُ الاخلاق للطَّبَرانی  ص۳۱۹ رقم ۲۱ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۷) نومسلِم پر انفرادی کوشش

        مصطفٰی آباد (رائے ونڈ ، پاکستان) کے اسلامی بھائی عبدالرَّء ُوف عطاری کا بیان ہے کہ تقریباً دو سال قبل (غالباً۱۴۳۱ھ میں )میں نے اسلام قبول کیا اورعالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں خود کو 12 ماہ کے مَدَنی قافلے میں سفر کے لئے پیش کردیا  ۔ قبولِ اسلام کے بعد مجھے بہت سی آزمائشیں پیش آئیں جن سے میرے قدم ڈگمگا جاتے لیکن حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری میرے بہت بڑے مُحسِن ہیں انہوں نے مجھے خوب شفقتوں سے نوازا اور کسی قسم کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔جب بھی میں ڈگمگانے لگتا تو مجھے ان کی نصیحتیں یا د آجاتیں ۔جب کبھی میں حالات سے تنگ آکر مَدَنی انعامات کے تاجدار علیہ رحمۃُ اللہ الغفّار   کو اپنی پریشانی سے آگاہ کرتا کہ مجھے اس طرح کے خیالات آتے ہیں کہ واپَس پرانے مذہب پر لَوٹ جاؤ تو وہ مجھے سمجھا تے : یہ شیطان کے وسوسے ہیں جو آپ کا ایمان چھیننے کی کوشش کررہا ہے  ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! ان کی انفردی کوششوں سے اب تک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہوں  ۔ مجھے سب سے بڑی سعادت یہ ملی کہ جن دنوں حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری عالمی مدنی مرکزفیضانِ مدینہ کے مستشفٰی (شفاخانے) میں داخل تھے تومجھے ان کے قریب رہنے اور ان کی خدمت کرنے کا موقع ملا۔میں نے دیکھاکہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کو اس قدر تکلیف ہوتی کہ میں کانپ اٹھتا مگر انہوں نے کبھی اُف تک نہیں کی  ۔ جب کبھی ان کی طبیعت سنبھلتی تو مجھے اپنے پاس بٹھالیتے اور دینِ اسلام کے بارے میں اچھّی اچھّی باتیں بتاتے کہ ’’دیکھو! چودہ سو سالہ تاریخ میں بزرگانِ دین نے راہِ خدا میں کیسی کیسی تکالیف برداشت کیں ، بعضوں نے تواپنا گھر بار مال دولت سب کچھ چھوڑا ہے  ۔ اَلْحَمْدُللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ! آپ نے اسلام قَبول کیا ہے اوراس کی وجہ سے آپکے گھروالوں نے آپ کو چھوڑدیا ہے تو آپ کے پیر امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے آپ کو سنبھال لیا ہے اور یہ سب سے بڑی سعادت ہے اور یہ بھی خوش نصیبی ہے کہ آپ دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہیں ، اللہ  تَعَالٰی سے  ہروَقْت اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے دعا کرتے رہاکریں اور اپنے پیارے مرشد سے اپنے آپ کو  وابَستہ رکھیں ۔‘‘ میں ان سے بڑا متأثّر ہوتا کہ یہ اتنی شدید تکلیف میں بھی مجھ پر انفرادی کوشش کررہے ہیں اوردینِ اسلام پر قائم رہنے کی تاکید فرمارہے ہیں ۔میری محرومی کہ میں ان کا آخِری دیدار نہیں کرسکا، ان کے وِصال سے تین چار دن پہلے پنجاب چلا گیا تھا۔وہاں جب مجھے یہ پتا چلا کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری انتقال کرگئے ہیں تو صدمے سے چُور چُور ہو گیا کہ یہی تو تھے جو مجھے اس مَدَنی ماحول پر قائم رکھنے کے لئے فون پر رابطہ رکھتے اور ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی کہ یہ اسلامی بھائی کہیں بھٹک نہ جائے ۔ میں نے جو آزمائشیں سہیں ان کو دور کرنے میں حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کا ہاتھ ہے ۔ میں اپنے مسلمان ہونے کا سارا ثواب حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کو پیش کرتاہوں اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ   عَزَّ وَجَلَّ ! میں نے یہ نیت بھی کی ہے کہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ   اپنی ساری زندگی دعوت اسلامی کے نام کردوں گا ، میرا جینا مرنا اسی مدنی ماحول میں ہوگا  ۔ اللہ  تَعَالٰی مجھے ایمان پر استقامت عطافرمائے اور مرتے وَقْت کلمہ نصیب فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 51

Go To