Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری کابَہُت حصّہ تھا، دونوں کے مابین محبت کا عظیم رشتہ قائم تھا، مرحوم کی علالت کے دوران غلامزادے نے اپنی بساط کے مطابِق خوب خدمت کی سعادت حاصل کی، ان کی وفات پر یہ بے حد رنجیدہ ہو گئے تھے، مرحوم نے خواب میں تشریف لا کر ان کی دلجوئی کا سامان کیا چُنانچِہ غلامزادے کا بیان اپنے الفاظ میں عرض کرنے کی سعی کرتا ہوں :’’میں نے مرحوم حاجی زم زم رضا کو بعد وفات دو سے تین بار اس حالت میں خواب کے اندر دیکھا کہ داڑھی مبارک کے اکثر بال کالے ہیں اور کہیں کہیں ہلکی ہلکی لال مہندی لگی ہے، انہوں نے سفید لباس زیبِ تن کیا ہوا ہے اور سبز سبز عمامے کا تاج سر پر سجا رکھا ہے اور فرما رہے ہیں :’’ آپ پریشان نہ ہوں میں بَہُت خوش ہوں۔‘‘  ؎

واسِطہ پیارے کا ایسا ہو کہ جو سُنّی مرے

یوں نہ فرمائیں ترے شاہِد کہ وہ فاجِر گیا

(حدائقِ بخشش شریف،ص۵۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۱۴)میں نَمازِ عصْر پڑھنے لگا ہوں

          ایک اسلامی بہن کا بیان کچھ یوں ہے کہ محبوبِ عطّارعلیہ رحمۃُاللہ الغفّار کی موت پر رشک آتا ہے، کاش! ایسی موت مجھے بھی آئے۔ مَدَنی چینل پر ان کی تدفین کے مناظر دیکھنے کے بعد میں ان کی سعادتوں پر رشک کرتے کرتے سو گئی ، خواب میں کیا دیکھتی ہوں کہ حاجی زم زم رضا عطّاری سبز سبز عمامہ سجائے بیٹھے ہیں۔ میں بڑی


 

 



Total Pages: 208

Go To