Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

معافی مانگنے لگے ۔اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳۷)شَکَر رَنجی کے بعد معذِرت کی

        دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے ایک ذمّے دار اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ10جون 2012کو میری حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری سے کسی کام کے سلسلے میں فون پر بات ہوئی ، دورانِ گفتگو تھوڑی سی شکررنجی ہوگئی تو کچھ ہی دیر بعد ان کا فون دوبارہ تشریف لایا اور بڑی عاجِزی کے ساتھ معذِرت طلب کرنے لگے کہ میری کسی بات سے آپ کا دل دکھ گیاہو تو مجھے مُعاف کر دیجئے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۳۸)مُعافی کے لئے سِفارش کروائی

        مبلغِ دعوتِ اسلامی ورکن شوریٰ، ابوبلال محمد رفیع عطاری مدظلہ العالی کا بیان ہے : حاجی زم زم رضاعطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے وِصال سے کچھ عرصہ پہلے سردار آباد(فیصل آباد) میں خصوصی اسلامی بھائیوں کا تربیتی اجتماع ہوا ، جس کے اَخراجات کے حوالے سے کچھ تنظیمی مسائل تھے ۔اس سلسلے میں حاجی زم زم رضا عطاریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے مجھے فون کیا ، میں نے کچھ اِشکالات بیان کئے اور ان کا حکم تسلیم کر لیا ۔ یہ سمجھے شایدمیں نے ان کی بات نہیں مانی اور انہوں نے دوبارہ فون کیا  مگر میں نے مصروفیت کی وجہ سے فون کاٹ دیا۔کچھ دیر بعد شہزادہ عطَّار، حضرت مولانا الحاج ابو اُسید، عبید رضا عطَّار ی المدنی مدظلہ العالی کا فون تشریف لایا تو انہوں نے کچھ یوں فرمایا کہ’’ زم زم بھائی سخت پریشان ہیں کہ آپ ان سے ناراض ہیں ، انہوں نے مجھ سے سفارش کرنے کے لئے کہا ہے کہ آپ انہیں معاف کردیں ‘‘ ، پھر حضرت مولانا عبید رضا مَدَنی مدظلہ العالی نے حاجی زم زم رضا عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کو فون دے دیا تو انہوں نے خود بھی مُعافی مانگی ، میں نے اُسی وَقت وضاحت کردی کہ’’ حضور! میں آپ سے ہرگز ناراض نہیں ہوا محض مصروفیت کی وجہ سے آپ کا فون رِسیو نہیں کر سکا تھا۔‘‘ اس واقعہ سے ان کی عاجِزی اور ایذائے مُسلم سے بچنے کے بارے میں ان کے ذِہْن کاپتا چلتا ہے  ۔     

(۳۹) مسجِد کا ادب

        مدینۃ الاولیاء احمد آباد(الھند)کے اسلامی بھائی محمد امتیاز عطاری کے بیان کا لبِّ لباب ہے کہ جب حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری احمد آباد مَدَنی انعامات کے حوالے سے ہماری تربیّت کے لئے تشریف لائے تھے تو ہم نے ان سے ایک بات یہ بھی سیکھی کہ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمسجد میں نماز ادا کرتے تو تازہ وضو کرنے کی صورت میں اپنی کتھئی چادر اس جگہ رکھتے جہاں سجدے میں داڑھی آتی ہے اور فرماتے کہ وضو کے بعد ہاتھ منہ صاف کرنے کے بعد بھی بعض اوقات داڑھی سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہیں جبکہ فرشِ مسجد پر وضو کے قطرے ٹپکا نا مکروہِ تحریمی ہے، اب اگر وضو کے قطرے دورانِ نماز چادر پر گریں گے تومسجد کا ادب برقرار رہے گا ۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   ہمارے حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے صدقے ہماری بھی مغفِرت فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۰)نیلے رنگ کا لوٹا استِعمال نہیں کرتے تھے

        ایک مَدَنی اسلامی بھائی ابو واصف عطّاری کا بیان ہے کہ میں نے اپنے مکتب کے استنجا خانے کے لئے بازار سے بڑے سائز کا لوٹا منگوایا تو سمجھانے کے باوُجُود لانے والا نیلے رنگ کا لوٹا لے آیا اور بتایا کہ اس سائز میں صِرْف یِہی رنگ موجود تھا ، بَہَرحال مجبوراً ہم نے وہ لوٹا استِعمال کرنا شروع کردیا، سُرخ رنگ کا ایک چھوٹا لوٹا بھی استنجا خانے میں موجود تھا ، جب حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری ہمارے مکتب میں تشریف لاتے اور ضَرورتاً استنجا خانے میں جاتے تومجھے قرائن سے اندازہ ہوجاتا تھا کہ آپ سُرخ رنگ کا لوٹا استعمال کیاکرتے اور غالباً غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے مزار شریف کے گنبد کے نیلے رنگ کی نسبت کی وجہ سے نیلا لوٹا استعمال نہیں کرتے تھے ، لیکن چونکہ استعمال کرنا ناجائز نہیں اس لئے کبھی مجھ سے اس کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی نیلے رنگ کا لوٹا استعمال کرنے سے منع کیا  ۔

ع    ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۴۱) مَدَنی انعامات کے تاجدار کی عاجِزی

        مرکز الاولیاء (لاہور) کے اسلامی بھائی نے بتایا کہ تقریباًچار یا پانچ سال پہلے ایک مرتبہ ہم  امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکے درِدولت کے باہَرگلی میں کھڑے تھے کہ حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہ الباری تشریف لائے تو میں نے عقیدت سے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ چوم لئے  ۔ انہوں نے عاجِزی کرتے ہوئے بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی کہ پیارے بھائی !آپ کی



Total Pages: 51

Go To