Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

اعتِکاف شروع ہونے سے پہلے مجھے دبے لفظوں میں کچھ یوں کہنے لگے کہ کسی طرح مجھے باپا کے قریب پہنچا دوتاکہ میں بھی سنّت اعتِکاف کرسکوں مگر میں نے ان کی حالت دیکھتے ہوئے پیار سے سمجھایا اورآرام کی تلقین کی۔پچیسویں چھبیسویں منانے کے لئے انہوں نے ایک باقاعدہ پرچہ مرتَّب کیا تھا اور اس کے سب سے بڑے داعی یِہی تھے ۔بہت سے معاملات صرف میرے اور ان کے درمیان تھے ،ان کے جانے کے بعد میں اکیلا رہ گیا ۔ان کے ادھورے رہ جانے والے کام اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  میں مکمَّل کروں گا۔ان کا مسکراتا ہواچِہرہ اب بھی میری نگاہوں کے سامنے رہتا ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ  مجھے ان جیسا تقویٰ نصیب فرمائے ۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۱۰۳)مَدَنی چینل پر اعلانِ وفات اور دعائے مغفرت

          جس وَقْت حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری کا وصال ہوا تو شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ عالَمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ کراچی میں اراکینِ شوریٰ ودعوتِ اسلامی کی مختلف کابینات کے اراکین سے مَدَنی مشورہ فرمارہے تھے ، امیرِ اہلسنّت  دامت برکاتہم العالیہ نے مَدَنی انعامات کے تاجدار ،


 

 



Total Pages: 208

Go To