Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

لے لیجئے گا۔میں نے عرض کی : صد مرحبا !میں حاضِر ہوں مگر میں رقم نہیں لوں گا۔لیکن افسوس وہ پرہیزی کھانا کھانے پر بھی قادر نہ ہوسکے ،میری ان سے جو آخِری گفتگو فون پرہوئی اس میں کچھ یوں فرمایا:’’دعاکیجئے کہ بھوک لگ جائے اور میں کھانا کھاسکوں فی الحال تو ایک نوالہ بھی نہیں کھایا جارہا۔‘‘

(۱۰۱)نازُک حالت میں بھی صابر رہے

          ایک مرتبہ ان کی بیماری کے دَوران میرے سامنے ان کی طبیعت بَہُت بگڑی مگر یہ اس نازک حالت میں بھی صابر رہے اور منہ سے شکوہ وشکایت کا کوئی لفظ نہیں نکالا۔ان کی زندگی کی آخِری رات قریباً سوادس بجے جب میں ان کو دیکھنے کے لئے پہنچا تو غالباً نزع کے عالم میں تھے مجھ سے ان کی حالت دیکھی نہیں گئی ، ان کی حیات میں کبھی انہوں نے مجھے اپنا ہاتھ نہیں چومنے دیا ، میں نے اس وَقْت ان کے داہنے ہاتھ پر بوسہ دیا اور رو روکر اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں ان کیلئے آسانی و عافیت کی دعا کی تو ان کے سر کو جنبش ہوئی مجھے یوں لگا کہ شاید اس دعا پر میرا شکریہ ادا کررہے ہوں کیونکہ زندگی میں یہ چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی مجھے ’’جَزَا کَ اللہ ‘‘’’جَزَا کَ اللہ ‘‘ کی دعا سے اتنی کثرت سے نوازتے تھے کہ یہ الفاظ تحریرکرتے وَقْت بھی میرے کانوں میں گویا ان کی آواز گونج رہی ہے ۔

(۱۰۲)بیماری میں بھی اعتکاف کرنے کی خواہش

          رَمَضان المبارک میں جب یہ مستشفیٰ میں داخل تھے تو آخری عشرے کا


 

 



Total Pages: 208

Go To