Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ باپا نے آپ کا نام ’’زم زم‘‘ اسی حکمت کے تحت رکھا ہو کہ آپ ’’رُک‘‘ بھی جایا کریں کیوں کہ زم زم کا معنیٰ ہے’’ رُک رُک‘‘ تو آپ ذرا رُکئے بھی کہ ہر بات ایک دم سے چھاپ ڈالنا آسان کام نہیں۔

(۹۹)رسالے کی آمد پر بے حد خوش ہوئے

          ان کی نگاہوں کا قفل مدینہ ، زبان کا قفل مدینہ مرحبا۔مکتبۃ المدینہ کے رسالے خاموش شہزادہ کی (نئی ترکیب کے بعد)اشاعت کے غالباً سب سے زیادہ منتظر یہی تھے ،جب رسالہ آنے کی خبر دی تو ان کی خوشی دیکھنے والی تھی ۔

(۱۰۰)کھانا ساتھ کھاتے

          بابُ المدینہ تشریف لاتے تو اکثر مجھے میزبانی کا شَرَف ملتا، دوپہر کا کھانا عُمُوماًہم ساتھ ہی تناول کرتے ۔ایک مرتبہ میں جامعۃ المدینہ میں پڑھارہا تھا اس دوران یہ جلدی میں میرا گھر سے لایا ہوا کھانا کھا کر کہیں بیان کرنے چلے گئے مگر باہَر سے کھانا منگوا کر رکھ گئے ،میری طرف سے ان کو میری چیزیں کھانے استعمال کرنے کی مکمل اجازت تھی مگر جب ملاقات ہوئی تو فرمانے لگے میں آپ کا کھانا بغیر بتائے کھاگیا ! میں نے عقیدت سے عرض کی: کیا آپ کو مجھ سے پوچھنے کی حاجت ہے ؟ تو مسکرا کر خاموش ہوگئے ۔اس بے تکلُّفی کے باوُجُود بہت خوددار تھے ، اپنی وفات سے چند دن پہلے مجھے فون کرکے اَسپتال میں یاد کیا اور فرمانے لگے کہ ڈاکٹر نے پرہیزی کھانا شروع کرنے کا کہا ہے تو مجھے آپ ہی یاد آئے ! لیکن آپ اس کی رقم مجھ سے

 



Total Pages: 208

Go To