Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

آخِرت کے کام میں جلدی کرنی چاہئے

          حدیث پاک میں ہے: اِطمینان ہر چیز میں ہو، سوائے آخِرت کے کام کے۔ (سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی الرفق،۴/۳۳۵،الحدیث:۴۸۱۰)

          یعنی دُنیاوی کام میں دیر لگانا اچھا ہے کہ ممکن ہے وہ کام خراب ہو اور دیر لگانے میں اس کی خرابی معلوم ہوجائے اور ہم اس سے باز رہیں مگر آخرت کا کام تو  اچھا ہی اچھاہے اسے موقع(Chance) ملتے ہی کرلو کہ دیر لگانے میں شاید موقع جاتا رہے۔ بہت دیکھا گیا کہ بعض کو (حج کا)موقع ملا نہ کیا پھر نہ کرسکے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ بھلائیوں میں جلدی کرو۔۲،البقرۃ:۱۴۸) شیطان کارِ خیر میں دیر لگوا کر آخر میں اس سے روک دیتا ہے۔ (مرأۃ المناجیح ،ج۶/۶۲۷ملخصًا)

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۹۶)نام ونُمود کی خواہِش سے کوسوں دُور تھے

(مع دیگر یادگاریں )

           المدینۃ العلمیۃ میں خدمات انجام دینے والے ابوواصف عطاری مدنی کا بیان ہے کہ تحریری کام کے سلسلے میں حاجی زم زم رضا عطاریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری سے میرا تقریباً 7برس کا ساتھ رہا ہے ۔میں نے ان میں نام ونُمُود کی رَتی بھر خواہش


 

 



Total Pages: 208

Go To