Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

بنا لیکن رقم کم ہونے کی وجہ سے میں نے مَنْع کردیا حالانکہ زمین بَہُت سستی مل رہی تھی جب ان کو معلوم ہوا تو میرے طلب کئے بِغیر پُر زور اصرارکرکے غالِباً بیس ہزار کی رقم میرے گھر آکر بطورِ قرض پیش کردی،میں نے بہت انکار کیا مگر ان کی شفقت مرحبا ! مجھے وہ رقم قَبول کرنی ہی پڑی ۔*اپنے ایک غریب رشتے دار کی ماہانہ تقریباً 3000 ہزار روپے مالی مدد کیا کرتے تھے ۔*اس کے علاوہ بھی میرے سامنے کئی دکھیاروں کے ان کو فون آتے جن کی یہ نہ صرف دل جوئی فرماتے بلکہ مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’روحانی علاج‘‘سے کوئی وظیفہ بھی بتادیا کرتے اور تعویذات عطاریہ کے بستے سے رُجوع کرنے کا مشورہ دیتے ۔ اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۸۱)سرکا درد خَتْم ہوگیا

          فاروق نگر (لاڑکانہ، پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی محمد فاروق عطّاری کا بیان ہے کہ جن دنوں میں نصیر آباد ڈویژن کا ذمّے دار تھا، حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہِ الباری ہماری تربیت فرمانے کے لئے’’نصیرآباد‘‘ تشریف لائے ۔ مجھے بچپن ہی سے دردِسر کا عارِضہ لاحِق تھا ،کافی علاج کروایا مگر مستقِل آرام نہ آیا ، چنانچِہ میں نے حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباریکی بارگاہ میں عرض کی: مجھے دردِ سر رہتاہے ۔مرحوم نے شفقت فرماتے ہوئے اُسی وَقْت دَم فرمایا ،اَ لْحَمْدُللّٰہ


 

 



Total Pages: 208

Go To