Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

نگران اسلامی بھائی حاجی سلیم مُون عطاری کا بیان ہے کہ رَمَضانُ الْمبارَک 1433ھ میں ’’ قیدیوں کے لئے 52مَدَنی انعامات ‘‘کے سلسلے میں حاجی زم زم رضا عطاریعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وَقْت یہ فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی کے مستشفیٰ (اسپتال )میں داخل تھے ، جب میں نے دیکھا کہ یہ تو سخت بیمار ہیں اور ڈرپ لگی ہوئی ہے تو میں دعا سلام کے بعد اپنا مسئلہ بیان کئے بِغیر واپَس جانے کے لئے مڑگیا ، انہوں نے مجھے روکا اور فرمایا کہ آپ شاید کسی کام سے آئے تھے ، تشریف رکھئے ۔پھر انہوں نے نہ صِرْف میری عَرْض توجُّہ سے سنی بلکہ اِس بارے میں مفید مشورے بھی دئیے۔ اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مسلمان کی حاجت روائی کرنا کارِ ثواب ہے

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلمان کی حاجت روائی کرناکارِ ثواب ہے مَثَلاً اس کو راستہ بتادینا ،سامان اٹھانے میں اُس کی مدد کردینا یا اُس کی کوئی ضَرورت پوری کردینا ،اَلْغَرَض کسی بھی طرح سے اُس کے کام آنے کی بڑی فضیلت ہے ، شَہَنْشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظُلْم کرتا ہے اور نہ ہی اسے رُسوا کرتاہے اور جوکوئی اپنے بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے اللہ


 

 



Total Pages: 208

Go To