Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

        منقول ہے : جو شخص اپنی آنکھ کو حرام سے پُر کرتا ہی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   بروزِ قیامت اسکی آنکھ میں جہَنَّم کی آگ بھر دے گا۔(مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب ص۱۰)

        اپنی آنکھوں کو جہنَّم کی آگ سے بچانے کے لئے نگاہوں کی حفاظت نہایت ضروری ہے اور اس کے لئے نگاہیں نیچی رکھنے کی عادت بنانا بے حد مُفید ہے ، چنانچہ     

دعوتِ اسلامی کے اشاعَتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب’’پردے کے بارے  میں سُوال جواب‘‘ کے صَفْحہ 312پراس سُوال کے جواب میں کہ کیا گفتگو کرتے ہوئے نظر نیچی رکھنی ضَروری ہے؟امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ لکھتے ہیں کہ اِس کی صورَتیں ہیں مَثَلاً مَرْد کا مُخاطَب ( یعنی جس سے بات کر رہے ہیں وہ) اَمْرَد ہو اور اُس کو دیکھنے سے شَہْوت آتی ہو ( یا اجازتِ شَرْعی سے مرد اجنبیہ سے یا عورت اجنَبی مَرد سے بات کر رہی ہو )تو نظراس طرح نیچی رکھ کر گفتگو کرے کہ اُس کے چِہرے بلکہ بدن کے کسی عُضْوْ حتّٰی کہ لباس پر بھی نظر نہ پڑے ۔ اگر کوئی مانِعِ شَرْعی(یعنی شَرْعی رُکاوٹ)نہ ہو تو مُخاطَب(یعنی جس سے بات کررہاہے اُس)کے چِہرے کی طرف دیکھ کر بھی گفتگو کرنے میں شَرْعاًکوئی حَرَج نہیں  ۔ اگر نگاہوں کی حفاظت کی عادت بنانے کی نیّت سے ہر ایک سے نیچی نظر کئے بات کرنے کا معمول بنائے تو بَہُت ہی اچّھی بات ہے کیوں کہ مُشَاہَدَہ یِہی ہے کہ فی زمانہ جس کی نیچی نگاہیں رکھ کر گفتگو کرنے کی عادت نہیں ہوتی اُسے جب اَمْرَد یا اَجْنَبِیَّہ سے بات کرنے کی نوبت آتی ہے اُس وَقت نیچی نگاہیں رکھنا اُس کیلئے سَخْت دشوار ہوتا ہے۔(پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۳۱۲)

(۲۵) قُفْلِ مدینہ کا عینک

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نگاہیں نیچی رکھنے کی عادت بنانے کے لئے قفلِ مدینہ کے عینک کا استعمال بے حد مُفید ہے، مَدَنی انعامات کے تاجدار ، محبوبِ عطّار حاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری گناہوں سے آنکھوں کی حفاظت کے لئے قفلِ مدینہ عینک کا کثرت سے استعمال کرتے تھے حتّٰی کہ دورانِ علالت اَسپتال میں بھی قفلِ مدینہ عینک استعمال کیا کرتے تھے ، اس کے علاوہ دوسرا عینک لگانے کا معمول ہی نہیں تھا ۔ یہ عینک حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے پہلی مرتبہ کب اور کیسے لگائی؟ اسکے بارے میں انہوں نے مَدَنی چینل کے سلسلے ’’کھلے آنکھ صلِّ علیٰ کہتے کہتے‘‘ میں کچھ اس طرح بتایا تھا کہ جب شروع شروع میں مَدَنی انعامات آئے تھے تو ان میں قفلِ مدینہ کا عینک شامل نہیں تھا۔ایک دَفْعہ جب رُکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری باب المدینہ کراچی سے واپَس آئے تو میں ان کے پاس حاضِر ہوا  ۔ یہ اس وَقْت میڈیکل اسٹور پر بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے ایک عینک پہنا ہو ا تھا جس کے اوپری حصے کو پین کی سیاہی سے بلیک کردیا تھا تاکہ اوپر سے نظر نہ آئے  ۔ جب میں نے دیکھا تو پوچھا کہ یہ آپ نے کیا پہنا ہوا ہے؟کہنے لگے کہ اس سے نظریں جھکانے میں مدد ملتی ہے۔میں نے کہا : لوگ مذاق بنائیں گے، نظریں تو ویسے بھی جھکا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک اسلامی بھائی ایسا ہی عینک پہنے ہوئے تھے تو امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے بہت پسند فرمایا تھا۔امیر ِاہلِ سنّت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی پسند کا سن کر میرا ذِہن بنا کہ یہ کام کرنا چاہیے۔وہ عینک انہوں نے مجھے تحفے میں دے دی ۔ میں نے اسے اوپر سے گرینڈ کروالیا تھا، ڈیڑھ سے دو سال وہ میرے پاس رہااور جب تک میری قریب کی نظر کمزور نہیں ہوئی میں نے اسے پابندی سے پہننے کی کوشش کی، سوتے وَقْت اور نمازوں کے اوقات کے علاوہ تقریبا پورا دن میں اسے پہنتا تھا ۔  

 بس ایک ذہن بن گیا تھا کہ امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اسے پسند فرماتے ہیں تو ’’پیر کی پسند اپنی پسند۔‘‘

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !       صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۶) نَرسوں کی وجہ سے آنکھیں بند کرلیتے

        مختلف اسلامی بھائیوں کا بیان ہے کہ ہم جب حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہ الباری کو اَسپتال لے کر جاتے تو وہ اکثر اپنی آنکھیں بند کر لیا کرتے تھے اور اس کی وَضاحت کچھ یوں فرماتے کہ اَسپتال میں نرسیں وغیرہ ہوتی ہیں میں ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہوکہ ان پر نگاہ پڑے اور اسی حالت میں میری رُوح پرواز کرجائے ۔  رکن شوریٰ حاجی ابو رضا محمد علی عطاری مدظلہ العالی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں اَسپتال میں ان کی عِیادت کے لئے موجود تھا ، اِس دَوران میں نے دیکھاکہ یہ بار بار آنکھیں بند کررہے ہیں ۔میں سمجھا شاید ان کو نیند آرہی ہے ، چنانچِہ میں نے اجازت چاہی کہ آپ سوجائیے میں چلتا ہوں ، تو فرمایا : آپ تشریف رکھئے ، مجھے نیند نہیں آرہی بلکہ نرسوں کے سامنے آنے کے اندیشے پر آنکھیں بند کرلیتا ہوں تاکہ ان پر نگاہ نہ پڑے ۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحْمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !           صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۲۷)  مَطارپر نگاہوں کی حفاظت

        مجلسِ تعویذاتِ عطاریہ کے ذمہ دار محمد اجمل عطاری(مرکزالاولیاء لاہور) کا بیان کچھ یوں ہے کہ مجھے نومبر 1998ء میں محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضاعطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباریکی رفاقت میں بابُ المدینہ سے بمبئی سفر کا موقع ملا، سارا راستہ انہوں نے نگاہیں جھکا کر رکھیں حالانکہ جہاز میں بے پردگی ، پھر ایئرپورٹ پر امیگریشن کے معاملات کے وَقْت کاؤنٹر پر خواتین سے واسِطہ بھی پڑالیکن بمبئی ائیرپورٹ سے باہَر نکلنے کے بعد انہوں نے بطورِ ترغیب مجھ سے فرمایا :   اَلْحَمْدُلِلّٰہِ    عَزَّ وَجَلَّ ! بابُ المدینہ سے یہاں پہنچنے تک ایک بھی عورت پر میری نظر نہیں پڑی۔

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۸) آنکھوں پرسبز پٹّی باندھ لی!

        باب المدینہ کراچی کے اسلامی بھائی غلام شبیر عطاری کا بیان ہے کہ کچھ عرصے پہلے دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضان مدینہ میں نابینا اسلامی بھائیوں میں مَدَنی کام کرنے کا جذبہ رکھنے والوں کو مَدَنی کورس (جس کو موبیلٹی کورس mobility courseکہتے ہیں )کروایا گیا ، جس میں بینا(یعنی انکھیارے) اسلامی بھائیوں کو نابینا اسلامی بھائیوں کا ہاتھ پکڑ کر کس طرح چلنا چاہئے، ان سے



Total Pages: 51

Go To