Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

دَرَجۂ ثالِثہ کا طالبُ العلم تھا ،دوسرا بیٹا آٹھ سال اور تیسرا بیٹا پانچ سال کا تھا۔ حاجی زَم زَم علیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرمکے بچوں کی امی نے اپنے تینوں بیٹوں کو وقفِ مدینہ(یعنی دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کاموں کے لئے عمر بھر کے لئے وَقْف) کردیا ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کچھ لوگوں کا دین کے لئے وقف ہونا ضروری ہے

          مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان ’’تفسیرِ نعیمی‘‘ میں پارہ3،سورۂ آل عمران: 35،36 کے تحت فرماتے ہیں :کُچھ لوگوں کا ا پنے آپ کو دِین کے لئے وَقْف کر دینا ضروری ہے اگر سبھی لوگ دُنیا میں مشغول ہو جائیں تو دین کیسے قائم رہے گا؟کاش!مسلمان اس سے عِبرت پکڑیں اور اپنی بعض اولاد کو خدمتِ دین کے لئے بچپن ہی سے ان کی دینی تربیّت کر کے وَقْف کر دیں۔یاد رکھئے!ہماری عِزّت دین سے ہے۔اگر ہم اپنی بقاء چاہتے ہیں تو ایسے لوگ زیادہ بنائیں۔ (تفسیرِ نعیمی ۳ /۳۷۵ ملخصًا)مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالٰی علیہایک اور مقام پر لکھتے ہیں :’’زندگی ہر شخص کی گزرتی ہے مگربہترین زندگی وہ ہے جو ربّ تبارک وتعالیٰ کے لئے وقف ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کے لئے صَدَقات کا خُصوصی حکم دیاجو اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے لئے وقف کر چکے ہیں۔‘‘(تفسیر نعیمی ۳ /۱۳۴ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                           صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 

 



Total Pages: 208

Go To