Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

پاسکا۔ اکتوبر 2011میں میرا حیدر آباد میں آپریشن ہوا تو حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری میری عیادت کے لئے اَسپتال پہنچے لیکن میں گھرمیں شفٹ ہوچکا تھا ، میں نے فون پر ان سے درخواست کی کہ آپ بَہُت مصروف ہوتے ہیں آنے کی زحْمت نہ فرمائیں ،آپ کا فون کردینا ہی کافی ہے لیکن یہ میری عیادت کے لئے کافی دُور گھر پر آگئے ،بعد میں بھی کئی مرتبہ تشریف لائے جس سے میرا دل بہت خوش ہوا ۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۷۴)سَحَری پیش کی

          کویت میں مقیم ایک اسلامی بھائی ۱۴۳۳ھ کے رَمَضانُ الْمبارَک میں ہونے والے اجتماعی اعتِکاف میں شریک ہونے کے لئے دعوتِ اسلامی کے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ (کراچی) آئے۔ بیماری کی وجہ سے انہیں مستشفیٰ میں داخل ہونا پڑا،جہاں محبوبِ عطار حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری بھی داخل تھے ۔ اس اسلامی بھائی کا کچھ یوں بیان ہے کہ جب رات کو میری طبیعت ذرا سنبھلی اور میری آنکھ کھلی تو دیکھا سَحَری کا وَقْت بہت کم رہ گیا تھا ۔ حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری بیدار ہوئے اور مجھے پریشان دیکھ کر قریب آئے ، میرا حال احوال دریافت کرنے پر جب انہیں پتا چلا کہ میں سحری کے حوالے سے

 



Total Pages: 208

Go To