Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

مجھے اَورادووظائف بتائے ۔ جب المدینۃ العلمیۃ کے ایک مَدَنی اسلامی بھائی مرحوم رکنِ شوریٰ حاجی زم زم رضا کی عیادت ودیکھ بھال کے لئے مُستشفیٰ میں تشریف لائے تو ان کو میرے بارے میں بتایا کہ یہ جامعہ کے طالبِ علم بے چارے بیمار پڑے ہیں برائے کرم! کسی کی ترکیب فرمائیں جو اِن کوکھانا وغیرہ تو کِھلا سکے۔ بہرحال ان مَدَنی اسلامی بھائی نے حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری کے فرمانے پر ہاتھوں ہاتھ ایک طالبِ علم کی ترکیب بنائی۔ مریض طالبِ علم کا بیان ہے کہ خود بیمار ہونے کے باجود محبوبِ عطار کی غم خواری اور خیرخواہی کے معاملات دیکھ کر میں بہت ہی متأثر ہوا اور دعوتِ اسلامی کیمَحبَّتمیرے دل میں پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئی ۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۹)فون کر کے خیریَّت دریافت کرتے

          مبلغ دعوت اسلامی ورکن شوریٰ حاجی ابو میلاد برکت علی عطاری مدظلہ العالی کا بیان ہے کہ حاجی زم زم رضا عطاری علیہ رحمۃُ اللہِ الباری کے وصال سے تقریباً 6ماہ پہلے میری مَدَنی مُنّی بیمار ہوئی توانہوں نے بارہا فون کرکے اس کی خیریت دریافت کی اور میری دل جوئی فرمائی ۔اسی طرح جب میرے پاس غمزدہ اسلامی بھائیوں کے فون آتے تو میں ان کی غم خواری کرنے کے بعد انہیں ’’رُوحانی علاج‘‘ کے لئے

 



Total Pages: 208

Go To