Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

(۶۶)رُومال پر اَشعار لکھ کر مدینے شریف بھیجے

          زم زم نگر حیدر آباد کے اسلامی بھائی محمد انیس عطّاری کا بیان ہے کہ تقریباً18سال پہلے کا واقعہ ہے ایک سیِّد صاحِب مدینہ شریف جارہے تھے تو حاجی زم زم رضا عطاریعلیہ رحمۃُ اللہِ الباری نے ان سے ملاقات کی اور ایک رومال دیاجس میں کچھ اشعار سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے لکھے گئے تھے ۔ حاجی زم زم رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے ان سیِّد صاحِب سے عرض کی کہ آپ یہ رومال سرکارِ مدینہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں پیش کیجئے گا اور جو اشعار میں نے لکھے ہیں میری طرف سے پڑھ کر سنا دیجئے گا۔ وہ سیِّد صاحِب جب مدینہ شریف سے واپَس ہوئے تو میری ان سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے کہا:میں حیران ہوں کہ جب سنہری جالیوں کے روبرو حاضر ہوا اور وہ رومال جیسے ہی پڑھنا شروع کیا کہ وہاں کا دربان میرے پاس آگیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر سنہری جالیوں کے بالکل نزدیک لے گیا اور کہا کہ اب پڑھو !میں حیران تھا کہ یہ کیا مُعامَلہ ہے حالانکہ وہ تو وہاں زیادہ دیر کھڑا ہی نہیں ہونے دیتے ،پھرمیرے دل میں یہ بات آئی کہ لگتا ہے بارگاہ رسالتعَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاممیں زم زم بھائی کا بڑا مقام ہے کہ وہ بظاہِر دُور ہیں لیکن سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے بڑے نزدیک ہیں۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب


 

 



Total Pages: 208

Go To