Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

(۱)اَلصَّمْتُ اَرْفَعُ الْعِبَادَۃِخاموشی اعلیٰ دَرَجے کی عبادت ہے۔(اَلْفِردَوس بمأثور الْخطاب ۲/ ۳۶، الحدیث۳۶۶۵) (۲) مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَو لِیَصْمُتْ’’ جو اللہ   اور قِیامت پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے  ۔ ‘‘ (بُخاری ، ۴ / ۱۰۵، الحدیث۶۰۱۸) (۳)اَلصَّمْتُ سَیِّدُ الْاَخْلَاقخاموشی اَخلاق کی سردار ہے۔(اَلْفِردَوس بمأثور الْخطاب ، ۲/ ۳۶، الحدیث۳۶۶۶) (۴)  آدَمی کا خاموشی پر قائم رہنا60 سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔ (شُعَبُ الْاِیمان ، ۴/ ۲۴۵ الحدیث ۴۹۵۳)

’’خاموشی اعلٰی درجے کی عباد ت ہے‘‘کی وضاحت

        حضرتِ علّامہ عبدالرء وف مناوی علیہ رحمۃُ اللہ الکافی  پہلی حدیثِ پاک (خاموشی اعلیٰ دَرَجے کی عبادت ہے)کے تحت فرماتے ہیں : کیونکہ اکثر خطائیں زبان سے سَرزَد ہوتی ہیں ، جب انسان زبان پر قابو پاکر اس کو ناجائز باتوں سے روک لے تو یقینا وہ عبادت کی ایک عظیم قسم میں مصروف ہوگیا اور یہ ایسی بات ہے جس پر تمام شریعتیں متفق ہیں ۔(فیض القدیر، ج۴، ص۳۱۶)

خاموشی کے60سال کی عبادت سے بہتر ہونے کی وضاحت

         مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان چوتھی حدیثِ پاک (آدَمی کا خاموشی پر قائم رہنا60 سال کی عبادت سے بہتر ہے)کے تحت فرماتے ہیں : یعنی اگر کوئی شخص ساٹھ سال عبادت کرے مگر زیادہ باتیں بھی کرے، اچّھی بُری بات میں تمیز نہ کرے اِس سے یہ بہتر ہے کہ تھوڑی دیر خاموش رہے کیونکہ خاموشی میں فکر بھی ہوئی، اِ صلاحِ نَفْس بھی ، مَعارِف و حقائق میں اِستِغراق بھی ، ذِکر خفی کے سَمُندر میں غوطہ لگانا بھی، مراقبہ بھی۔(مراٰۃالمناجیح ، ۶/ ۴۷۹ مختصرا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد   

(۲۳) لکھ کر بات کرنے کی عادت

        خاموشی پر قائم رہنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ کچھ نہ کچھ گفتگو اشاروں میں اور لکھ کر کی جائے اور یہ امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا کردہ’’ مَدَنی انعام‘‘ بھی ہے ، محبوبِ عطّارحاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری کا زبان کا قفل مدینہ بھی مدینہ مدینہ تھا، لکھ کربات کرنے کے لئے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ ’’قفلِ مدینہ پیڈ‘‘ان کی جیب میں ہوتا تھا  ۔ لکھ کر بات کرنے کا ان کو بہت زیادہ جذبہ تھا ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ رَمَضان المبارک (۱۴۳۳ھ)کے اوائل(یعنی شروعات کے دنوں ) سے ہی بِسترِ عَلالت پر آگئے تھے ۔ آپ کے ’’قفل مدینہ پیڈ‘‘ پر ۲۳رَمَضانُ المبارک ۱۴۳۳ ھ تک کی تاریخ موجود ہے ۔اس کے بعد بھی گاہے بگاہے لکھ کر گفتگو فرماتے رہے ، چنانچِہ حیدر آباد کے اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ ہم صُبْح کے وَقْت اِن کی خدمت میں حاضِر ہوئے تو کاغذ قلم طلب کیا اور اس پر لکھا کہ جس اسلامی بھائی نے مجھے خون دیا اُس کابَہُت بَہُت شکریہ  ۔ (خون کی اُلٹیوں وغیرہ کی وجہ سے شرعی اجازت کے تحت آپ کو بار بار خون چڑھایا گیا اور اسلامی بھائیوں نے اس میں کافی تعاوُن کیا تھا)اسی طرح اَسپتال کے عملے کا بیان ہے کہ’’ ہمیں بھی کوئی بات کہنی ہوتی تولکھ کر فرماتے حالانکہ شدید نَقاہَت (یعنی کمزوری)کے باعث لکھنا بے حد دشوار ہوتا۔‘‘ زندگی کے آخِری ایام میں بسترِ علالت پر لکھی گئی ایسی ہی ایک تحریر کا عکس ملاحظہ کیجئے : (جس کے الفاظ مکمل سمجھ نہیں آسکے)   

اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !         صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

(۲۴) لکھ کر بات کرنا کیسے شُروع کیا

        مَدَنی چینل کے سلسلے ’’کھلے آنکھ صلِّ علیٰ کہتے کہتے‘‘ میں حاجی زم زم رضا عطّاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الباری نے کچھ اِس طرح بتایا تھا کہ مجھے یاد ہے کہ ہمارے حیدر آباد کے مرحوم مبلّغِ دعوتِ اسلامی حاجی یعقوب عطاری علیہ رحمۃُ اللہ الباری باب المدینہ سے واپَس آئے اور میں نے ان سے کوئی بات کی تو اُنہوں نے لکھ کر اس کا جواب دیا، میں پھر بولا تو اُنہوں نے پھر لکھ کر بات کی، کئی دَفْعہ اِس طرح ہوا تو میں نے ان سے پیڈ لیا اور میں نے بھی لکھ کر بات کی ، اِس طرح میں نے پہلی بار لکھ کر بات کی ۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ    عَزَّ وَجَلَّ ! اب توماہانہ سینکڑوں مرتبہ لکھ کر بات کرنے کی سعادت حاصل ہوجاتی ہے، گزَشتہ مہینے میں تقریباً 747مرتبہ لکھ کر بات کی بلکہ کئی دَفْعَہ تو روزانہ بھی 330یا350مرتبہ تحریری گفتگو کی سعادت ملی ہے۔بتانے کا مقصد یہ ہے کہ لکھ کر بات کرنا ناممکن نہیں ہے۔امیر اہل سنت  دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے ہمیں جو مَدَنی انعام دیا ہے کہ آج چار مرتبہ لکھ کر بات کی یا نہیں ؟ تو آپکا اپنا عالَم یہ ہے کہ کبھی کبھی کئی دن تک سخت ضرورت کے علاوہ بولتے ہی نہیں ہیں ، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ خود کہتے ہیں ایک بارمدینۂ منوَّرہزادَھَااللہ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماًسے جدائی کے بعدزبان پرایساقفلِ مدینہ لگاکہ تقریباً 15دن تک (سوائے سلام ، جوابِ سلام، چھینک پرحمد، چھینکنے والے کی حمد پرجواب وغیرہ کے )بولنے سے بچارہا۔اتنا خاموش رہنے اور قفلِ مدینہ لگانے کے بعد ہمیں صِرْف اتنا ارشاد فرمایا ہے کہ کم از کم چار بار لکھ کر بات کیجئے۔مکتبۃ المدینہ نے ایک ’’قفلِ مدینہ پیڈ‘‘ شائع کیا ہے جس میں تحریری گفتگو کا طریقۂ کار بھی لکھ ہوا ہے اسے حاصل کریں ۔(سلسلہ ’’کھلے آنکھ صلِّ علیٰ کہتے کہتے‘‘ بتغیّرِقلیل۵ محرم الحرام ۱۴۳۲ھ بمطابق  12دسمبر 2010ء)اللّٰہ   عَزَّ وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

 اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !          صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

نگاہیں نیچی ر کھنے کی اَہَمّیَّت

 



Total Pages: 51

Go To