Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

قریب میری پان کی دکان تھی،یہ آتے جاتے مجھے دکھائی دیتے اور اچھّے لگتے تھے ۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے ملاقات کی اور مَدَنی قافلے میں سفر کی دعوت پیش کی ، میں سمجھتا تھا کہ میری مصروفیات ایسی ہیں کہ میں مَدَنی قافلے میں ہرگز سفر نہیں کرسکتا ، چنانچِہ میں نے ان سے معذرت کی ، لیکن انہوں نے میرا ایسا ذہن بنایا کہ میں نے اپنی زندگی کے پہلے مَدَنی قافلے میں سفر اختیار کر لیا ، پھر تو راہیں کھل گئیں اور کئی سال تک میں ہرماہ تین دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کرتا رہا اور درسِ فیضانِ سنت، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت، صدائے مدینہ ، سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کے ذریعے مَدَنی ماحول کی برکتیں لُوٹتا رہا ۔ اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۴)  ڈاکٹر کی مدنی ماحول سے وابستگی

          زَم زَم نگر حیدر آباد کے علاقے لطیف آباد میں مقیم ، پاکستان سطح کی مجلسِ ڈاکٹرز کے نگران اسلامی بھائی ڈاکٹر نظام احمد عطّاری کا بیان اپنے الفاظ وانداز میں پیشِ خدمت ہے : دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے سے پہلے میں بھی محض دُنیاوی مال ودولت کی محبت میں گُم تھا۔ڈاکٹر بننے میں میرا مقصد دُنیاوی عیش


 

 



Total Pages: 208

Go To