Book Name:Mahboob e Attar ki 122 Hikayaat

ہوں۔ہم لوگ جو پہلے ڈھائی سو روپے کرائے والے مکان میں نہیں رہ سکتے تھے،کچھ ہی عرصے بعداللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب بنائے کہ بی سی (کمیٹی)وغیرہ کے ذریعے ہم نے تقریباًتین شادیاں نمٹائیں ،پھر اللہ تعالیٰ نے ذاتی مکان بھی عطا فرمادیا۔ پیشے کے اِعتبار سے میں ایک اسکول ٹیچر ہوں۔مدنی ماحول سے پہلے میں نے تقریباً نو سال تک کوشِش کی کہ مجھے ملازَمت مل جائے لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ اَلْحَمْدُ للّٰہعَزَّوَجَلَّ! ماحول میں آنے کے بعد مجھے گھر بیٹھے سرکاری ملازَمت مل گئی، اِس کیلئے خاص کوشش بھی نہیں کرنی پڑی۔چھوٹے بھائی کو بھی نوکری ملی،اس طرح اسباب بنتے چلے گئے اور سب سے بڑی بات یہ کہ مجھ جیسا شخص جو دوڈھائی سو روپے کِرائے کا مکان نہ لے سکے اُسے حج کی سعادت اور وہ بھی شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے ساتھ ’’چل مدینہ‘‘کی صورت میں مل گئی،اِس پر تو میر ی نسلوں کو بھی فَخْررہے گا۔

اللہ     عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                      صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(۶۳) پان والے پرانفرادی کوشش

          زم زم نگر حیدر آبادکے اسلامی بھائی محمد انیس عطّاری کا بیان ہے کہ تقریباً 20برس پہلے کی بات ہے ،حاجی زم زم رضا عطاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الباری کے مکان کے


 

 



Total Pages: 208

Go To