Book Name:Bughz-o-Keena

          لودھراں  (پنجاب، پاکستان) کے نواحی علاقے سُوئی والا میں مقیم اسلامی بھائی کا تحریری بیان کچھ یوں ہے : میں نت نئے فیشن کا دلدادہ اور فلموں ڈراموں کا اسقدر شوقین تھا کہ ہمارے علاقے میں مِنی سینما چلانے والے بھی مجھ سے پوچھ پوچھ کر فلمیں منگوایا کرتے تھے ۔ہر نیا گانا پہلے ہماری سلائی کی دُکان پر ہی سُنا جاتا۔میں بدنگاہی اور گندی فلمیں دیکھنے کی عادتِ بد میں بھی مبتلا تھا۔غالباً 1993ء کی بات ہے کہ میں کسی کام کے سلسلے میں باب المدینہ کراچی گیا ، اس دوران ماموں زاد بھائی کے ساتھ کورنگی  (ساڑھے تین)  میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں بھی شریک ہوا لیکن اپنا وَقْت گھومنے پھرنے میں گزار کر اپنے شہر واپس آگیا لہٰذا میری عادات واَطوار میں کوئی خاص تبدیلی نہ آسکی ، اتنا ضرور ہوا کہ میں دعوتِ اسلامی سے محبت کرنے لگا ۔پھر اللہعَزَّوَجَلَّ  کا کرم ہوا کہ ہمارے علاقے میں لودھراں سے تین دن کا مَدَنی قافلہ تشریف لایا۔مدنی قافلے میں شریک عاشقانِ رسول کی انفرادی کوشش کی برکت سے میں نے بھی تین دن کے مَدَنی قافلے میں سفر کی نیت کرلی ۔ جمعرات کو روانگی تھی مگر میں کسی مجبوری کی وجہ سے سفر نہ کرسکا لیکن لودھراں جا کرہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت ضرور کی ۔ جب میں اجتماع میں پہنچا تو رِقّت انگیزدعا ہورہی تھی ،  دعا کے لئے بیٹھتے ہی میری آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور دل سے گناہوں کی سیاہی دُھلنا شروع ہوگئی۔اگلی جمعرات ہم تقریباً 20اسلامی بھائی ہفتہ وار اجتماع میں پہنچے ، یوں ہمارے علاقے سے اجتماع میں آنے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہونے والے بین الاقوامی اجتماع میں بھی ہمارے علاقے سے بس بھر کر گئی۔مَدَنی ماحول کی برکت سے میں نے نہ صرف فلمیں دیکھنا چھوڑ دیں بلکہ گانوں کی کیسٹوں پربھی بیانات بھروا لئے، جس پر میرے بڑے بھائی خفا بھی ہوئے مگر میں نے حکمتِ عملی سے ترکیب بنالی ۔

        اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میرے مَدَنی ماحول میں آنے کی برکت سے والد صاحب اور بڑے بھائی نے بھی چہرے پر داڑھی شریف سجا لی۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں مَدَنی قافلوں میں سفر کرتا رہا اور اپنے علاقے میں مَدَنی کام کرنے کی کوششیں کرتا رہا،  یوں دئیے سے دیا جلتا رہا اور علاقے میں کئی اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی سے وابستہ ہوگئے ۔پھر میری شادی بھی مَدَنی ماحول کی ترکیب سے ہوئی ،  ناچ گانوں کی جگہ نعت خوانی اور سنّتوں بھرے بیان کا سلسلہ ہوا اور بارات بھی نعتوں کی صداؤں میں روانہ ہوئی ۔میرے واقف کار اور عزیزواقربا حیرت کا اِظہار کررہے تھے کہ ہم نے ایسی شادی پہلی باردیکھی ہے ۔شادی کے کچھ ہی سال بعد میرے ایک اور بھائی جو بہت فیشن ایبل تھے انہوں نے بھی سادگی اختیار کرلی اور چہرے پر داڑھی شریف سجا لی ۔ جب میرے والد صاحب کا اِنتقال ہوا تو اتنا کثیر ایصال ثواب کیا گیا کہ سننے والے حیران رہ گئے کہ ہم نے اپنی زندگی میں اتنا اِیصال ثواب کسی کے لئے نہیں سُنا ، یہ دعوتِ اسلامی کی برکتیں ہیں ۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ! پہلے علاقائی مشاورت میں بطورِ خادم (نگران)  کام کیا ،  پھر ڈویژن سطح پر مدنی انعامات کی ذمہ داری ملی ،  پھر صوبائی مشاورت میں مدنی قافلہ ذمہ دار بنا ، اب تادم تحریر ڈویژن مشاورت میں خادِم (یعنی نگران)  اور کابینہ سطح پر مدنی عطیات بکس کی ذمہ داری نبھانے کے لئے کوشاں ہوں۔

عطائے حبیبِ خدا مَدَنی ماحول                                  ہے فَیضانِ غوث ورضا مَدَنی ماحول

بَفَیضانِ  احمد  رضا   ان شاءَاللہ                                                                                                                                          یہ پُھولے پھلے گا سدا مَدَنی ماحول

                                                                         (وسائلِ بخشش ص۶۰۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بد ترین بُغْض وکینہ

           عام مسلمانوں سے بلا وجہِ شرعی کینہ رکھنا بے شک حرام اورجہنم میں لے جانے والا کام ہے مگر صحابہ کرام علیہم الرضوان،  سادات عظام  رضی اللہ تعالٰی عنہم ،  علمائے کرام اور عربوں سے بُغْض وکینہ رکھنا اس سے کہیں زیادہ بُرا ہے ۔ایسا کرنے والے کی شدید مُذَمّت کی گئی ہے ۔چنانچہ

صحابۂ کرام سے بُغْض رکھنے کی وعیدِ شدید

          حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بنمُغَفَّل رضی اللہ تعالٰی عنہسے مروی ہے کہ رسولِ نذیر ،  سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم     نے فرمایا



Total Pages: 30

Go To