Book Name:Bughz-o-Keena

          معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص کینے، عیب جوئی ، چغل خوری اور حَسَد میں مبتلاہو تو وہ متقی وپرہیز گار کہلانے کا حقدار نہیں بظاہر وہ کیسا ہی نیک صورت ونیک سِیرت ہو،  اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہِر وباطِن میں نیک بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{8} دیگر گناہوں کا دروازہ کھل جاتا ہے

          غصے سے کینہ پیدا ہوتا ہے اور کینے سے آٹھ ہلاکت خیزچیزیں جنم لیتی ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ ’’  کینہ پَرْوَر ‘‘  حَسَد کرے گا یعنی کسی کے غم سے شاد ہوگا اور اس کی خوشی سے غمگین ۔ دوسرا یہ کہ شَماتَت کرے گا یعنی کسی کو کوئی مصیبت پہنچے گی تو خوشی کا اِظہار کرے گا۔ تیسرا یہ کہ غیبت، دروغ گوئی (یعنی جھوٹ)  اور فحش کلامی سے اس کے رازوں کو آشکارا کرے گا ۔چوتھا یہ کہ بات کرنا چھوڑ دے گاا ور سلام کا جواب نہیں دے گا۔ پانچواں یہ کہ اسے حقارت کی نظر سے دیکھے گا اور اس پر زبان دَرازی کرے گا۔ چھٹا یہ کہ اس کا مذاق اڑائے گا۔ ساتواں یہ کہ اس کی حق تلفی کرے گا اور صِلہ رحمی نہیں کرے گا یعنی اَقْرِبا سے مُرَوَّت نہیں کرے گا اور رشتہ داروں کے حقوق ادا نہیں کرے گا اور ان کے ساتھ اِنصاف نہیں کرے گا اور طالبِ معافی نہیں ہوگا۔ آٹھواں یہ کہ جب اس پر قابو پائے گا اس کو ضَرَر (یعنی نقصان)  پہنچائے گا اور دوسروں کو بھی اس کی اِیذا رسانی پر اُبھارے گا۔ اگر کوئی بہت دِیندار ہے اورگناہوں سے بھاگتا ہے تو اتنا تو ضرور کرے گا کہ اس کے ساتھ جو اِحسان کرتا تھا اس کو روک دے گا اور اس کے ساتھ شفقت سے پیش نہیں آئے گا اور نہ اس کے کاموں میں دِلسوزی کرے گا اور نہ اس کے ساتھ اللہ  کے ذکر میں شریک ہوگا اور نہ اس کی تعریف کرے گا اور یہ تمام باتیں آدمی کے نقصان اور اس کی خرابی کا باعث ہوتی ہیں ۔ (کیمیائے سعادت۲ / ۶۰۶ ملخصًا)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ کینے کی وجہ سے انسان دیگر گناہوں اور برائیوں کی دلدل میں کس طرح پھنستا چلا جاتا ہے!

گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی

مِرا حشْر میں ہوگا کیا یاالٰہی

 (وسائل بخشش ص۷۸ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{9} کینہ پَرْوَربے سکون رہتا ہے

          کینہ پَرْوَر کے شب وروزرنج اورغم میں گزرتے ہیں اور وہ پَسْت ہمت ہوجاتا ہے ۔دوسروں کی راہ میں روڑے اَٹکاتا ہے اور خود بھی ترقی سے محروم رہتا ہے ۔ امام شافعی علیہ رحمۃُ اللہِ الکافیفرما تے ہیں :  ’’  اَقَلُّ النَّاسِ فِی الدُّنْیَارَاحَۃً اَلْحَسُوْدُ وَالْحَقُوْدُ  دُنیا میں کینہ پَرْوَر اور حاسِدین سب سے کم سکون پاتے ہیں۔ ‘‘  (تنبیہ المغترین ص۱۸۴)

          ہر انسان سکون کا متلاشی ہوتاہے مگر نادان کینہ پَرْوَر کو خبر ہی نہیں ہوتی کہ سکون کی راہ روکنے والی چیز تواس نے اپنے سینے میں پال رکھی ہے ، ایسے میں دل کو چین کیونکر نصیب ہوگا!

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                                                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{10}معاشرے کا سکون برباد ہوجاتا ہے

          جیسا کہ صفحہ 6 پر گزرا کہ معاشرے کا سکون برباد کرنے میں کینے کا بھی بڑا کردار ہے ، یہ بھائی کو بھائی سے لڑوا دیتا ہے،  خاندان کا شِیرازہ بکھیر دیتا ہے،  ایک برادری کو دوسری برادری کا مُخالِف بنا دیتا ہے اور یہ مِزاجِ شریعت کے خلاف ہے کیونکہ مسلمانو ں کو توبھائی بھائی بن کررہنے کی تاکید کی گئی ہے چنانچہ

 تم لوگ بھائی بھائی بن کر رہو

 



Total Pages: 30

Go To