Book Name:Bughz-o-Keena

کل بروزِ ِقیامت اللہعَزَّوَجَلَّتجھ سے مخلوق کے بارے میں سوال کرے گا ۔اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا یہ خو بصورت چہرہ جہنم کی آگ سے بچ جائے تو کبھی بھی صبح یاشام اس حال میں نہ کرناکہ تیرے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کینہ یا عداوت ہو۔ بے شک رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ مَنْ اَصْبَحَ لَہُمْ غَاشًّا لَمْ یَرِحْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پَرْوَرہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔ ‘‘ یہ سن کرخلیفہ ہارون رشید رونے لگے۔  (حلیۃ الاولیائ،  ۸ / ۱۰۸،  الحدیث۱۱۵۳۶)

عَفْو کر اور سدا کے لئے راضی ہوجا

گر کرم کر دے تو جنّت میں رہوں گا یاربّ!

 (وسائل بخشش ص۹۱ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{5} ایمان برباد ہونے کا خطرہ

          ایمان ایک اَنمول دولت ہے اور ایک مسلمان کے لئے ایمان کی سلامتی سے اہم کوئی شے نہیں ہوسکتی لیکن اگر وہ بُغْض و حَسَد میں مبتلا ہوجائے تو ایمان چھن جانے کا اندیشہ ہے ، چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب ،  حبیبِ لبیب، طبیبوں کے طبیب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : دَبَّ اِلَیْکُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَکُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ ہِیَ الْحَالِقَۃُ لَا اَقُوْلُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰکِنْ تَحْلِقُ الدِّیْنَ تم میں پچھلی اُمّتوں کی بیماری حَسَد اور بُغْض سرایت کر گئی ،  یہ مونڈ دینے والی ہے،  میں نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہے  ۔ (سنن الترمذی، کتاب صفۃ القیٰمۃ، ۴ / ۲۲۸، الحدیث: ۲۵۱۸)

           مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : اس طرح کہ دین و ایمان کو جڑ سے خَتم کردیتی ہے کبھی انسان بُغْض و حَسَد میں اسلام ہی چھوڑ دیتا ہے شیطان بھی انہیں دو بیماریوں کا مارا ہوا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۶۱۵)

مسلماں ہے عطارؔ تیری عطا سے

ہو ایمان پر خاتِمہ یاالٰہی

 (وسائل بخشش ص ۷۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{6}  دعا قبول نہیں ہوتی

           حضرتِ سیِّدُنا فقیہ ابو اللَّیث سمر قندی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القویفرماتے ہیں : تین اشخاص ایسے ہیں جن کی دعا قبول نہیں کی جاتی:  (پہلا)  حرام کھانے والا ( دوسرا)  کثرت سے غیبت کرنے والا اور ( تیسرا) وہ شخص کہ جس کے دل میں اپنے مسلمان بھائیوں کا کینہ یا حَسَد موجود ہو ۔  ( درۃ الناصحین ص۷۰)

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دعا اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے حاجات طَلَب کرنےکا بہترین وسیلہ ہے ، اسی کے ذریعے بندے اپنے مَن کی مُرادیں یا خزانۂ آخرت  پاتے ہیں مگر کینہ پَرْوَر اپنے کینے کے سبب دعاؤں کی قبولیت سے محروم ہوجاتا ہے ۔

میں منگتا تُو دینے والا

یااللہ   مِری    جھولی    بھر    دے

 (وسائل بخشش ص ۱۰۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

{7} دینداری نہ ہونا

          حضرتِ سیِّدُناحاتمِ اصمعلیہ رَحمَۃُ اللہ الاکرم نے ارشاد فرمایا: کینہ پَرْوَر کامل دین دار نہیں ہوتا،  لوگوں کو عیب لگانے والا خالص عبادت گزار نہیں ہو تا ،  چُغْل خور کو اَمْن نصیب نہیں ہوتا اور حاسِد کی مدد نہیں کی جاتی ۔ ( منھاج العا بدین،  ص۷۵)

 



Total Pages: 30

Go To