Book Name:Bughz-o-Keena

کی صورت میں خدشہ ہوکہ اس شخص کو مزید جرأت ملے گی اور وہ ہم پر یا کسی اور پر زیادہ ظلم ڈھائے گا تو ایسی صورت میں بدلہ لینا معاف کردینے سے افضل ہے ۔ (الطریقۃ المحمدیۃ مع الحدیقۃ الندیۃ ۳ / ۸۶ بالاختصار)

نوٹ: اس کتاب میں جہاں کینے کی مذمت کی گئی ہے وہاں ناجائز وحرام کینہ مراد ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کینہ کی ہلاکت خیزیاں

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کینہ وہ مُہلِک (یعنی ہلاک کردینے والی)  باطِنی بیماری ہے جس میں مبتلا ہونے والا دُنیا وآخرت کا خسارہ اٹھاتا ہے اور اس کے مُضِر  (یعنی نقصان دہ) اَثرات سے اس کے آس پاس رہنے والے اَفراد بھی نہیں بچ پاتے اور یوں یہ بیماری عام ہو کر معاشرے کا سکون برباد کرکے رکھ دیتی ہے۔خاندانی دشمنیاں شروع ہوجاتی ہیں ، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں ، ذلیل ورُسوا کرنے اور مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ،  اپنے مسلمان بھائی کی خیرخواہی کرنے کے بجائے اُسے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اس کے خلاف سازشیں کی جاتی ہیں جس سے فتنہ وفساد جنم لیتا ہے۔فی زمانہ اس کی مثالیں کھلی آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہیں ۔ اللہ  تعالیٰ ہم سب کو اس مُہلِک بیماری سے بچائے ۔

                                                                                                                                                                                                                                                                                                اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                  صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 پچھلی اُمَّتوں کی بیماری

          یاد رہے کہ بُغْض وکینہ آج کل کی پیداوارنہیں بلکہ بہت پرانی بیماری ہے ، ہم سے پہلی اُمتیں بھی اس کا شکار ہوتی رہی ہیں ۔دافِعِ رنج و مَلال،  صاحِبِ جُودو نَوالصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ باکمال ہے:  ’’ عنقریب میری اُمّت کو پچھلی امتوں کی بیماری لاحِق ہو گی۔ ‘‘  صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عَرْض کی:  ’’ پچھلی اُمتوں کی بیماری کیا ہے؟  ‘‘  تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ تکبُّر کرنا،  اِترانا،  ایک دوسرے کی غیبت کرنا اور دُنیا میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشِش کرنا نیز آپس میں بُغض رکھنا،  بُخْل کرنا، یہاں تک کہ وہ ظُلم میں تبدیل ہوجائے اور پھر فِتنہ وفساد بن جائے۔ ‘‘  (المعجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ مقدام، ۶ / ۳۴۸، الحدیث: ۹۰۱۶)

گناہوں سے مجھ کو بچا یاالٰہی

بُری عادتیں بھی چُھڑا یاالٰہی

 (وسائل بخشش ص ۷۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کینے کے  نقصانات

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دل ہی دل میں پلنے والا کینہ دُنیا وآخرت میں کیسے کیسے نقصانات کا سبب بنتا ہے ! چند جھلکیاں ملاحظہ کیجئے ،  چنانچہ

{1}  چغل خوری اور کینہ پَرْوَرِی دوزخ میں لے جائیں گے

          سرکارِ عالی وقار،  مدینے کے تاجدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: اِنَّ النَّمِیْمَۃَ وَالْحِقْدَ فِی النَّارِ لَایَجْتَمِعَانِ فِیْ قَلْبِ مُسْلِمٍبے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں ،  یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔   (المعجم الاوسط، باب العین ،  من اسمہ عبدالرحمٰن، ۳ / ۳۰۱، الحدیث ۴۶۵۳)

          اَ لْاَمَانْ وَ الْحَفِیْظ !جہنم کے عذابات اس قدر خوفناک اور دہشتناک ہیں کہ ہم تصوُّر بھی نہیں کرسکتے ، کئی احادیث وروایات میں یہ مضامین موجود ہیں کہ دوزخیوں کوذِلّت ورُسوائی کے عالَم میں داخلِ جہنم کیا جائے گا، وہاں دُنیا کی آگ سے ستّر گنا تیز آگ ہوگی جو کھالوں کو جَلا کرکوئلہ بنادے گی، ہڈیوں کا سُرمہ بنادے گی،  اس پر شدید دُھواں جس سے دَم گھٹے گا، اندھیرا تنا کہ ہاتھ کو ہاتھ سُجھائی نہ دے،  بھوک پیاس سے نڈھال بیڑیوں میں جکڑے جہنمی کو جب پینے کے لئے اُبلتی ہوئی بدبودار پِیپ دی جائے گی تو منہ کے قریب کرتے ہی اس کی تپش سے منہ کی کھال جھڑ جائے گی ، کھانے کو کانٹے دار تھوہڑ ملے گا، لوہے



Total Pages: 30

Go To