Book Name:Bughz-o-Keena

جب ایک غیر مسلم نے اعلٰی حضرت کے جسم پر ہاتھ رکھا

           میرے آقااعلیٰ حضرت،  امامِ اہلِسنّت،  مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن ملفوظات شریف میں فرماتے ہیں : ہر مسلمان پر فرضِ اعظم ہے کہ اللہ  (عَزَّوَجَلَّ)  کے سب دوستوں  (یعنی نبیوں ، صحابیوں اور ولیوں وغیرہ ) سے محبت رکھے اور اس کے سب دشمنوں  (یعنی کافِروں ،  بدمذہبوں ،  بے دینوں اور مُرتَدوں ) سے عداوت رکھے ۔ یہ ہمارا عین ایمان ہے ۔ {اسی تذکرہ میں فرمایا: } بِحَمْدِ اللہ تَعَالٰیمیں نے جب سے ہوش سنبھالا اللہ  (عَزَّوَجَلَّ) کے سب دشمنوں سے دل میں سخت نفرت ہی پائی ۔ ایک بار اپنے دہات  (دیہات) کو گیا تھا ،  کوئی دیہی مقدمہ پیش آیا جس میں چوپال کے تمام ملازموں کو بدایوں جانا پڑا ،  میں تنہا رہا ۔ اُس زمانے میں مَعَاذَ اللہدردِ قولنج (یعنی بڑی انتڑی کا درد)  کے دورے ہُوا کرتے تھے۔ اس دن ظہر کے وَقْت سے درد شروع ہوا ، اسی حالت میں جس طر ح بَنا،  وضو کیا ۔ اب نماز کو نہیں کھڑا ہوا جاتا ۔ ربّ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کی اور حضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے مدد مانگی ۔مولیٰ  عَزَّوَجَلَّ مُضْطَر (یعنی پریشان)  کی پکار سنتا ہے۔ میں نے سُنّتوں کی نیت باندھی ، درد بالکل نہ تھا۔ جب سلام پھیرا ، اسی شدت سے تھا ۔ فوراً اُٹھ کر فر ضو ں کی نیت باندھی ، درد جاتا رہا۔ جب سلام پھیراوہی حالت تھی۔ بعد کی سُنّتیں پڑھیں ،  درد موقوف  (یعنی ختم) اور سلام کے بعد پھر بدستور ،  میں نے کہا : اب عصر تک ہوتا رہ ۔ پلنگ پرلیٹا کروٹیں لے رہا تھا کہ درد سے کسی پہلو قرار نہ تھا۔ اتنے میں سامنے سے اسی گاؤں کا ایک برہمن گزرا،  پھاٹک کھلا ہوا تھا،  مجھے دیکھ کر اندر آیا اور میرے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کیا یہاں درد ہے ؟ مجھے اس کا نجس ہاتھ بدن کو لگنے سے اتنی کراہت ونفرت پیدا ہوئی کہ درد کو بھول گیا اور یہ تکلیف اس سے بڑھ کر معلوم ہوئی کہ ایک کافر کا ہاتھ میرے پیٹ پر ہے ۔ ایسی عداوت رکھنا چاہیے ۔   (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،  ص۲۷۶بتصرف)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بدمذہبوں کی صحبت ایمان کے لئے زہر قاتل ہے

          دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 504 صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ غیبت کی تباہ کاریاں  ‘‘ کے صفحہ63پرہے: بدمذہبوں کی صُحبت ایمان کیلئے زہرِ قاتل ہے، ان سے دوستی اور تعلُّقات رکھنے کی احادیثِ مبارکہ میں مُمانَعَت ہے۔ چُنانچِہ سلطانِ عَرَب، محبوبِ ربصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کافرمانِ عبرت نشان ہے: ’’ جو کسی بد مذہب کو سلام کرے یا اُس سے بَکُشادہ پیشانی ملے یا ایسی بات کے ساتھ اُس سے پیش آئے جس میں اُس کا دل خوش ہو، اس نے اس چیز کی تَحقیر کی جواللہ عَزَّوَجَلَّ نے محمد (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)   پر اُتاری۔ ‘‘  (تاریخ بغداد، ۰ ۱ / ۲۶۲)  رسولِ نذیر ،  سِراجِ مُنیر، محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ دِلپذیر ہے:  ’’ جس نے کسی بد مذہب کی (تعظیم و)  توقیر کی اُس نے دین کے ڈھا دینے پر مدد دی۔‘ ‘   (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط،  ۵ / ۱۱۸، الحدیث ۶۷۷۲)  رحمتِ عالمصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے: تم ان سے دُور رہو اور وہ تم سے دُور رہیں ،  کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں ۔ ( مُقدّمہ صَحیح مُسلِم  ص۹حدیث ۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بدمذہبوں سے دینی یا دُنیاوی تعلیم نہ لی جائے

        بدمذہب سے دینی یا دُنیاوی تعلیم لینے کی مُمانَعَت کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ،  مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خانعلیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : غیر مذہب والیوں  ( یا والوں )  کی صُحبت آگ ہے،  ذی عِلم عاقِل بالِغ مردوں کے مذہب (بھی)  اس میں بگڑ گئے ہیں ۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصّہ مشہور ہے،  یہ تابِعین کے زمانہ میں ایک بڑامُحدِّث تھا ، خارِجی مذہب کی عورت کی صُحبت میں  (رہ کر) مَعاذَاللہ خود خارِجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ (اس سے شادی کر کے)  اُسے سُنّی کرنا چاہتا ہے۔ (یہاں وہ نادان لوگ عبرت حاصِل کریں جو بَزُعمِ فاسِد خود کو بَہُت  ’’ پکّاسُنّی ‘‘  تصوُّر کرتے اور کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسلک سے کوئی ہِلا نہیں سکتا،  ہم بَہُت ہی مضبوط ہیں !)  میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مزید فرماتے ہیں : جب صُحبت کی یہ حالت  (کہ اتنا بڑا محدِّث گمراہ ہو گیا)  تو  (بدمذہب کو) اُستاد بنانا کس دَرَجہ بدتر ہے کہ اُستاد کا اثر بَہُت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے ،  تو غیر مذہب عورت ( یا مرد)  کی سِپُردگی یا شاگِردی میں اپنے بچّوں کو وُہی دے گا جو آپ ( خودہی)  دین سے واسِطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچّوں کے بَددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا۔ ( فتاوٰی رضویہ،  ۲۳ /  ۶۹۲ملتقطاً)

محفوظ خدا رکھنا سدا بے ادَبوں سے

 



Total Pages: 30

Go To