Book Name:Bughz-o-Keena

جواب دیا جب میں آگے بڑھ گیا تو ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ فلاں آدمی کا یہ کہنا ہے کہ میں اس سے بُغْضٌ فِی اللہ   (یعنی  اللہ تعالٰی کے لئے بُغض) رکھتا ہوں آپ اسے بلا کر پوچھئے کہ وہ مجھ سے کس بنا پر بغض رکھتا ہے؟   نبیِّ اکرم ، نُورِمُجَسَّم،  شاہِ آدم و بنی آدم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُسے بُلواکر اس بات کے متعلق دریافت فرمایاتو اس نے اپنی بات کا اِعتراف کر لیا کہ ہاں ! میں نے یہ بات کہی ہے۔ارشاد فرمایا: تم اس سے بُغْض کیوں رکھتے ہو؟  تواس نے کہا: میں ان کا پڑوسی ہوں اور میں ان کی بھلائی کا خواہاں ہوں ، خدا عَزَّوَجَلَّ  کی قسم! میں نے کبھی بھی فرض نَماز کے علاوہ انہیں  (نفل) نَماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، جب کہ فرض نمازتو ہر نیک وبدپڑھتا ہے ۔فریادی صاحِب نے عرض کی: یارسولَ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم!ان سے پوچھئے ، کیا اِنہوں نے مجھے فرض نَماز میں تاخیر کرتے ہوئے دیکھا ہے؟  یا میں نے وُضو میں کوئی کوتاہی کی ہے؟ یا رُکوع و سُجُود میں کوئی کمی کی ہے؟  آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پوچھا تو اُنہوں نے انکار کرتے ہوئے عرض کی: میں نے ان میں ایسی کوئی بات نہیں دیکھی ۔ پھر مزید عرض کی : اللہ  عَزَّوَجَلََّ کی قسم! میں نے ان کو رَمَضانُ الْمبارَک کے علاوہ کبھی  (نفلی)  روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا،  اس مہینے (یعنی ماہِ رَمَضانُ المبارَک)  کاروزہ تو ہر نیک و بد رکھتا ہے۔ یہ سُن کرفریادی نے عرض کی: یا رسولَ اللہصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! ان سے پوچھئے ، کیا میں نے کبھی رَمَضانُ الْمبارَک میں روزہ چھوڑا ہے؟ یا روزے کے حق میں کوئی کمی کی ہے؟ پوچھنے پر اُنہوں نے عرض کی : نہیں ۔پھرکہا: اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے نہیں دیکھا کہ ان صاحِب نے زکوٰۃ کے علاوہ  کسی مسکین یا سائل کو کچھ دیا ہو یا اللہ تعالٰی کے راستے میں خرچ کیا ہو،  زکوٰۃ تو ہر نیک و بد ادا کرتا ہے۔فریادی نے عرض کی : یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! ان سے پوچھئے ، کیا اُنہوں نے مجھے زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ یا میں نے کبھی اس میں ٹالَمْ ٹَول سے کام لیا ہے؟  دریافت کرنے پر اُنہوں نے عرض کی : نہیں ۔حُضُورپُر نورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُس ( بُغض رکھنے والے)  سے فرمایا : قُمْ اِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّہٗ خَیْرٌ مِنْکَ  اٹھ جاؤ میں نہیں جانتا شاید یہی تم سے بہتر ہو۔

(مُسند اِمام احمد، ۹ / ۲۱۰، الحدیث۲۳۸۶۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کیا میرے محبوبوں سے محبت اور میرے دشمنوں سے عداوت بھی رکھی؟

          سرکارِنامدار،  مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا: قیامت کے دن ایک ایسے شخص کو لایا جائے گا جو خود کو نیک سمجھتا ہوگا اور اُسے یہ گمان ہوگا کہ میرے نامہ اَعمال میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اس سے پوچھا جائے گا: کیا تُو میرے دوستوں سے دوستی رکھتا تھا؟  وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار عزوجل! تُو تو لوگوں سے سالم ومحفوظ  (یعنی بے نیاز) ہے۔ پھر رب عظیم عزوجل فرمائے گا: کیا تُو میرے دشمنوں سے عَداوت رکھتا تھا؟  تو وہ عرض کرے گا: اے میرے مالک ومختار عزوجل! میں یہ پسند نہیں کرتا تھا کہ میرے اور کسی کے درمیان کچھ ہو، تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا: لَا یَنَالُ رَحْمَتِیْ مَنْ لَمْ یُوَالِ اَوْلِیَائِیْ وَیُعَادِیْ اَعْدَائِییعنی : وہمیری رحمت کو نہیں پاسکے گا جس نے میرے دوستوں کے ساتھ دوستی اور میرے دشمنوں کے ساتھ عداوت نہ رکھی۔

(المعجم الکبیر، باب الواو، ۲۲ / ۵۹، الحدیث: ۱۴۰)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بد مذہب کو کھانا نہیں کھلایا

           حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نمازِ مغر ب پڑھ کر مسجد سے تشریف لائے تھے کہ ایک شخص نے آوازدی :  ’’ کون ہے کہ مسافر کو کھانا دے؟  ‘‘  امیر المؤمنینرضی اللہ تعالٰی عنہنے خادِم سے ارشاد فرمایا : ’’ اسے ہمراہ لے آؤ ۔ ‘‘ وہ آیا تو اسے کھانا منگا کر دیا۔ مسافر نے کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ایک لفظ اس کی زبان سے ایسا نکلا جس سے بد مذہبی کی بُو آتی تھی ، فوراً کھانا سامنے سے اُٹھوا لیا اور اسے نکال دیا۔ (کنز العمال،  کتاب العلم،  قسم الافعال، ۱۰ / ۱۱۷، الحدیث۲۹۳۸۴، ملخصًا)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 



Total Pages: 30

Go To