Book Name:Bughz-o-Keena

کے ساتھ ساتھ گھسٹ رہا تھا ۔ اس نے پاس کھڑے نوکر کو مدد کے پکارا مگر اسے تو بدلہ چُکانے کا موقع مل گیا تھا ، چنانچہ اس نے اپنے مالک کی مدد کرنے کے بجائے جیب سے رئیس کی دی ہوئی لسٹ نکالی اور دُور ہی سے اس کو دکھا کر کہنے لگا کہ اِس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ اگر تمہارا پاؤں گھوڑے کی رِکاب میں اُلجھ جائے تو اسے چُھڑانا میری ڈیوٹی ہے ۔ یہ سن کر رئیس نوکروں سے کئے ہوئے بُرے سلوک پر پچھتانے لگا ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 (10)   رُوحانی عِلاج بھی کیجئے

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کینے سے بچنے کے لئے بیان کردہ مُعالَجات کے ساتھ ساتھ حسبِ توفیق اوّل آخِرایک ایک بار درود شریف کے ساتھ یہ7رُوحانی عِلاج بھی کیجئے :

{۱}  جب بھی دل میںکینہ محسوس ہو تو ’’  اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ‘‘   ایک بار پڑھنے کے بعد اُلٹے کندھے کی طرف تین بار تُھوتُھو کردیجئے ۔

{۲}   روزانہ دس بار  ’’ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ‘‘ پڑھنے والے پر شیطان سے حفاظت کرنے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّایک فِرِشتہ مقرَّر کردیتا ہے ۔

{۳} سورۃُالاخلاص گیارہ بار صبح  (آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کِرن چمکنے تک صبح ہے)  پڑھنے والے پر اگر شیطان مع لشکر کے کوشِش کرے کہ اس سے گناہ کرائے تو نہ کراسکے جب تک کہ یہ  (پڑھنے والا) خود نہ کرے ۔ (الوظیفۃ الکریمہ ص۲۱)

{۴} سورۃ ُالنَّاس  پڑھ لینے سے بھی وَسْوَسے دور ہوتے ہیں۔

{۵}   مُفَسِّرِ شَہِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمفتی احمد یارخان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:  ’’ صُوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  فرماتے ہیں کہ جو کوئی صبح شام اِکّیس اِکّیس بار  ’’ لاحَول شریف ‘‘ پانی پر دم کرکے پی لیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ وسوسۂ شیطانی سے بَہُت حد تک اَمْن میں رہے گا۔ ‘‘  (مراٰۃالمناجیح، ۱ / ۸۷ )

{۶} هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ (۳)   (پ۲۷، الحدید: ۳)  کہنے سے فوراً وَسْوَسہ دور ہوجاتا ہے ۔

{۷}  سُبْحٰنَ الْمَلِکِ الْخَلَّاقِ، { اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ (۱۹)  وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ (۲۰) }  (پ۱۳،  ابراہیم : ۱۹، ۲۰) کی کثرت اسے ( یعنی وَسوَسے)  کو جڑ سے قَطع کر (یعنی کاٹ)  دیتی ہے ۔ (مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ، ۱ /  ۷۷۰)   (اِس دعا کے حصۂ آیت کو آپ کی معلومات کیلئے مُنَقَّش ہلالین اور رسمُ الخط کی تبدیلی کے ذَرِیعے واضِح کیا ہے)                                                              (ماخوذ از نیکی کی دعوت،  ص۱۰۴تا ۱۰۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کسی کو کسی سے بُغْض وحَسَد نہ ہوگا

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قیامت سے پہلے ایک وَقْت ایسا بھی آئے گا جب کسی کو کسی سے بُغْض وحَسَد نہ ہوگا ،  چنانچہ حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِنامدار،  مدینے کے تاجدار ،  بِاِذنِ پرَوَرْدگار غیبوں پرخبردار،  صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ مُشکبارہے : خدا کی قسم! ابنِ مریم  (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اُتریں گے،  حاکم عادِل ہو کر کہ صلیب توڑ دیں گے ا ور خنزیر فنا کردیں گے،  جِزیہ ختم فرما دیں گے ، اونٹنیاں آوارہ چھوڑ دی جائیں گی جن پر کام کاج نہ کیا جاوے گااور کینے ،  بُغْض اورحَسَد جاتے رہیں گے ، وہ مال کی طرف بلائیں گے تو کوئی اُسے قبول نہ کرے گا ۔ (صحیح مسلم، کتاب الایمان،  ص۹۱، الحدیث: ۲۴۳ )

          مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان حدیثِ پاک کے اس حصے  ’’ اور کینے ،  بُغْض اورحَسَد جاتے رہیں گے‘ ‘ کے تحت فرماتے ہیں : یعنی حضرتِ سَیِّدُنا عیسٰی علیہ السلام کی برکت سے لوگوں کے دلوں سے حَسَد،  بُغْض  (اور) کینے نکل جائیں گے کیونکہ کسی کے دل میں دُنیا کی محبت نہ رہے ہر ایک کو دین و ایمان کی لگن لگ جائے گی محبتِ دُنیا ان سب کی جڑ ہے جب جڑ ہی کٹ گئی تو شاخیں کیسے رہیں ۔ (مراٰۃ المناجیح،  ۷ / ۳۳۹)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اہل جنت کے درمیان کینہ نہیں ہوگا

 



Total Pages: 30

Go To