Book Name:Bughz-o-Keena

          جہاں بہت سارے افراد کسی کام میں شامل ہوں وہاں مشورہ کرنا قُربت کا باعث ہے۔مشورہ کر نا ایسا مبارک فعل ہے کہ اس سے وہ شخص جس سے مشورہ کیا جائے اپنی قدر و قیمت اور تکریم و اہمیت محسوس کر کے مَسْرُور ہو گا اور اُس کی مشورہ لینے والے سے وابستگی و قربت بڑھے گی۔بلکہ اگر ناراض اسلامی بھائی سے مشورہ کیا جائے تویہ مشورہ کرنا اس کا بُغْض و کینہ کافور اور ناراضگی دور کر کے دل میں لُطْف و محبت کا نور پیدا کریگا  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ۔) مدنی کاموں کی تقسیم ص ۴۲)

 (6)  کسی کی اِصلاح کرنے کا انداز محبت بھرا ہونا چاہئے

        میٹھے میٹھے مَدَنی آقاصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو جب کسی کی بات پہنچتی جوناگوار گزرتی تو اُس کا پردہ رکھتے ہوئے اُس کی اصلاح کا یہ حسین انداز ہوتاکہ ارشاد فرماتے : مَا بَالُ اَقْوَامٍ یَقُوْلُوْنَ کَذَا وَکَذَا یعنی لوگوں کو کیا ہو گیاجو ایسی بات کہتے ہیں ۔ (سُنَن ابی داوٗد، کتا ب الادب ، باب فی حسن العشرۃ، ۴ / ۳۲۸ الحدیث۴۷۸۸)

    کاش!ہمیں بھی اِصلاح کا ڈھنگ آ جائے،  ہمارا تو اکثر یہ حال ہو تا ہے کہ اگر کسی کو سمجھانا بھی ہو تو بِلاضَرورتِ شرعی سب کے سامنے نام لیکر یا اُسی کی طرف دیکھ کر اِس طرح سمجھائیں گے کہ بے چارے کی پَولیں بھی کھول کر رکھ دیں گے۔ اپنے ضمیر سے پوچھ لیجئے کہ یہ سمجھانا ہوا یا اگلے کو ذلیل  (DEGRADE) کرنا ہوا ؟  اِس طرح سُدھار پیدا ہوگا یا مزید بگاڑبڑھے گا ؟  یاد رکھئے!اگر ہمارے رُعب سے سامنے والا چپ ہو گیا یا مان گیا تب بھی اُس کے دل میں ناگواری سی رہ جائے گی جو کہ بُغض و کینہ غیبت و تہمت وغیرہ کے دروازے کھول سکتی ہے ۔ حضرتِ سیِّدَتنا اُمِّ درداء رضی اللہ تعالٰی عنہافرماتی ہیں : جس کسی نے اپنے بھائی کو اِعلانیہ نصیحت کی اُس نے اُسے عیب لگایا اور جس نے چپکے سے کی تو اُسے زینت بخشی۔ (شُعَبُ الْاِیمان، باب فی التعاون علی البروالتقوٰی ،  ۶ /  ۱۱۲، الرقم۷۶۴۱) البتّہ اگر پوشیدہ نصیحت نفع نہ دے تو پھر  (موقع اور منصب کی مُناسَبَت سے ) اِعلانیہ نصیحت کرے۔    (تَنبِیہُ الْغافِلین ص۴۹)  (غیبت کی تباہ کاریا ں ص۱۶۰)

 (7) رشتے پر رشتہ نہ بھیجئے

          بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دوگھرانوں کے درمیان رشتے کی بات چل  رہی ہوتی ہے کہ کوئی تیسرا بھی بیچ میں پہنچ جاتا ہے ، یا دو افراد کے درمیان خرید وفروخت کی بات ہورہی ہوتی ہے توکوئی تیسرا اس میں کُود پڑتا ہے ایسی صورت میں فائدے سے محروم ہونے والا فریق بنا بنایا کام بگاڑ دینے والے کے بُغْض وکینہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اِس قسم کے معاملات میں دخل اندازی سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

 (8) خوامخواہحوصلہ شکنی نہ کیجئے

          حوصلہ افزائی ہر کسی کو اچھی لگتی ہے چاہے اُسے ڈھنگ سے کام کرنا آتا ہویا نہ آتا ہو،  اس کے برعکس بعض اسلامی بھائیوں کے کام پر مثبت اور تعمیری تنقید بھی کی جائے تو وہ اسے حوصلہ شکنی تصوُّر کرتے ہیں اور دل میں تنقید کرنے والے کو بُرا جانتے ہے ،  اس لئے ہرکسی کے کام پر تنقید کرنے سے بچنا ہی بہتر ہے ، ہاں !اگر وہ خود تنقید کی درخواست کرے تو بھی محتاط انداز ہی اپنایا جائے ، مثلاً پہلے اس کے کام کی خوبیاں شمار کروا کر حوصلہ افزائی کردی جائے پھر خامیوں اور اِصلاح طلب پہلوؤں پر مناسب الفاظ میں اظہارِ خیال کردیا جائے ۔لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اس حکمت عملی کو سمجھ نہیں پاتے اور ہر کسی کوجارحانہ تنقیدکا نشانہ بنا کر اپنے دشمنوں میں اِضافہ کرتے رہتے ہیں ،  ایسوں کو بھی اپنے طرزِ عمل پر غوروفکر کی سخت حاجت ہے ۔

 (9) دوسروں کو نہ جھاڑئیے

          وَقْت بے وَقْت کسی کو ٹوکتے رہنے ، ڈانٹ پلادینے یا جھاڑنے کی عادت سے ممکن ہے کہ سامنے والا ہمارے کینے میں مبتلا ہوجائے ،  ایسا کرنے سے بھی بچئے ۔ اس بات کو ایک حکایت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے: چنانچِہ

دُورہی سے شرائط دکھانے والا نوکر

          ایک نک چڑھا رئیس اپنے نوکروں کو وَقْت بے وَقْت ڈانٹتا جھاڑتا رہتا تھا جس کی وجہ سے نوکروں کے دل میں اس کی عداوت بیٹھ چکی تھی۔اس رئیس نے ہر نوکر کو اس کی ذمہ داریوں کی تحریری لسٹ (List)  بنا کر دی ہوئی تھی اگر کوئی نوکر کبھی کوئی کام چھوڑ دیتا تو رئیس اُسے وہ لسٹ دِکھا دِکھا کر ذلیل کرتا ۔ایک مرتبہ وہ گھڑ سواری کا شوق پورا کرکے گھوڑے سے اُتر رہا تھا کہ اُس کا پاؤں رِکاب میں اُلجھ گیااسی دوران گھوڑا بھاگ کھڑا ہوا ، اب رئیس اُلٹا لٹکاگھوڑے



Total Pages: 30

Go To